بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم سے جہیز دلانا


سوال

زکاۃ کی رقم سے کسی لڑکی کے لیے جہیز میں ڈنر سیٹ خرید سکتے ہیں، اگر لڑکی غریب ہو؟  اور کیا لڑکی کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکاۃ کی رقم سے ہے؟

جواب

اگر لڑکی مستحقِ زکاۃ ہو تو  اسے جہیز  کے لیے زکاۃ کی رقم سے ڈنر سیٹ دے سکتے ہیں۔  نیز  زکاۃ دیتے وقت زکاۃ  کی نیت ہونا شرط ہے،  جس کو زکاۃ دی جارہی ہے اس کو  بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکاۃ کے پیسے ہیں، بلکہ ہدیہ کا نام لے کر بھی زکاۃ کے پیسے دیے جاسکتے ہیں۔

الفتاوى الهندية (1/ 171):

"ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغي والقنية". فقط و الله أعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

زکاۃ کا مستحق کون ہے ؟

صدقہ واجبہ مستحق کو دینا ضروری ہے تاہم اسے بتانا ضروری نہیں


فتوی نمبر : 144108201187

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں