بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ٹیکس دینے کے بعد بھی زکوۃ دینا لازم ہے


سوال

میں امریکا  میں رہتا ہوں،  میری تنخواہ سے 30٪ ٹیکس کٹتا ہے جو کہ غریب لوگوں پر خرچ ہوتا ہے تو کیا پھر بھی مجھے زکاۃ دینی ہوگی؟

جواب

زکاۃ عبادت ہے، اس کا ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں، ٹیکس کوئی بھی حکومت اپنے اخراجات سامنے  رکھ  کر مخصوص قوانین کے مطابق عوام سے وصول کرتی ہے، لہذا اگر زکاۃ واجب ہو تو ٹیکس دینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ اس کی ادائیگی علیحدہ سے کرنا ضروری ہے، اور زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو مالک بناکر دینا ضروری ہے، اس لیے ٹیکس کی مد میں کاٹی جانے والی رقم (اگرچہ وہ جائز مصارف مثلاً تعمیرات اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں وغیرہ میں خرچ ہورہی ہو، تب بھی اس رقم) کی ادائیگی کے وقت زکاۃ کی نیت سے دینے سے بھی زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔ البتہ زکاۃ کا سال مکمل ہونے تک جتنا ٹیکس واجب الادا ہو  اتنی رقم کل سرمایہ سے منہا کرلی جائے، اس کے بعد جو رقم بنیادی ضرورت سے زائد ہو اس پر زکات واجب ہوگی۔ اور  ٹیکس کی جتنی مقدار کی ادائیگی فی الحال یعنی زکاۃ کا سال مکمل ہونے کے وقت تک لازم نہ ہوئی ہو، وہ منہا نہیں کی جائے  گا۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

کیا ٹیکس ادا کرنے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی؟

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 289):

"قال في التنجيس والولوالجية: السلطان الجائر إذا أخذ الصدقات، قيل: إن نوى بأدائها إليه الصدقة عليه لايؤمر بالأداء ثانياً؛ لأنه فقير حقيقةً.

ومنهم من قال: الأحوط أن يفتى بالأداء ثانياً، كما لو لم ينو؛ لانعدام الاختيار الصحيح، وإذا لم ينو، منهم من قال: يؤمر بالأداء ثانياً. وقال أبو جعفر: لا؛ لكون السلطان له ولاية الأخذ فيسقط عن أرباب الصدقة، فإن لم يضعها موضعها لايبطل أخذه، وبه يفتى، وهذا في صدقات الأموال الظاهرة، أما لو أخذ منه السلطان أموالاً مصادرةً ونوى أداء الزكاة إليه، فعلى قول المشايخ المتأخرين يجوز. والصحيح أنه لا يجوز وبه يفتى؛ لأنه ليس للظالم ولاية أخذ الزكاة من الأموال الباطنة. اهـ.

أقول: يعني وإذا لم يكن له ولاية أخذها لم يصح الدفع إليه وإن نوى الدافع به التصدق عليه؛ لانعدام الاختيار الصحيح، بخلاف الأموال الظاهرة؛ لأنه لما كان له ولاية أخذ زكاتها لم يضر انعدام الاختيار ولذا تجزيه سواء نوى التصديق عليه أو لا، هذا، وفي مختارات النوازل: السلطان الجائر إذا أخذ الخراج يجوز، ولو أخذ الصدقات أو الجبايات أو أخذ مالا مصادرة إن نوى الصدقة عند الدفع قيل يجوز أيضا وبه يفتى، وكذا إذا دفع إلى كل جائر نية الصدقة؛ لأنهم  بما عليهم من التبعات صاروا فقراء والأحوط الإعادة اهـ وهذا موافق لما صححه في المبسوط، وتبعه في الفتح، فقد اختلف التصحيح والإفتاء في الأموال الباطنة إذا نوى التصدق بها على الجائر وعلمت ما هو الأحوط.

قلت: وشمل ذلك ما يأخذه المكاس؛ لأنه وإن كان في الأصل هو العاشر الذي ينصبه الإمام، لكن اليوم لاينصب لأخذ الصدقات بل لسلب أموال الناس ظلماً بدون حماية، فلاتسقط الزكاة بأخذه، كما صرح به في البزازية. فإذا نوى التصديق عليه كان على الخلاف المذكور (قوله: لأنهم بما عليهم إلخ) علة لقوله قبله: "الأصح الصحة"، وقوله: بما عليهم تعلق بقوله: فقراء". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110200075

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں