بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں امام صاحب قرآن کی آیات کبھی آگے اور کبھی پیچھے پڑھ رہا ہو سامع کا بوقت ضرورت لقمہ دینا جائز ہے


سوال

نمازِ تراویح میں اگر امام صاحب کبھی آگے پڑھے اور کبھی پیچھے پڑھے ،تو کیا ایسی صورت میں سامع لقمہ دے سکتا ہے؟

جواب

بصورت مسئولہ نمازِ تراویح میں اگر امام سے قرآن پڑھنے میں بھول چوک یا غلطی ہوجائے اور وہ آیات کوآگے پیچھے پڑھ رہا ہو تو اصول یہ ہے کہ اگر امام خود متنبہ ہو کر درست کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو سامع کو چاہیے کہ فوراً لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے بلکہ امام کو اصلاح کا موقع دے، تاکہ وہ مزید تشویش اور اضطراب میں مبتلا نہ ہو؛ البتہ اگر امام کوشش کے باوجود  از خود اصلاح پر قادر نہ ہو اور غلطی برقرار رہے تو ایسی صورت میں سامع کو بقدرِ ضرورت لقمہ دینے کی اجازت ہے،لیکن سامع کا لقمہ دینے میں بلاضرورت جلدی کرنا ناپسندیدہ ہے۔

امام کو لقمہ دینے کے حوالے سے مزید تفصیل کے لیے فتوی ملاحظہ ہو:

تراویح میں لقمہ دینے کا طریقہ ، کب اور کیسا لقمہ دیا جائے؟

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(والفتح على الإمام لا يفسد الصلاة) يعني المقتدي، فأما غير المقتدي إذا فتح على المصلي تفسد به صلاة المصلي، وكذلك المصلي إذا فتح على غير المصلي؛ لأنه تعليم وتعلم، والقارئ إذا استفتح غيره فكأنه يقول: بعد ما قرأت ماذا فذكرني، والذي يفتح عليه كأنه يقول بعد ما قرأت كذا فخذ مني، ولو صرح بهذا لم يشكل فساد صلاة المصلي، فأما المقتدي إذا فتح على إمامه هكذا في القياس، ولكنه استحسن لما روي «أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ سورة المؤمنين فترك حرفًا، فلمافرغ قال: ألم يكن فيكم أبي؟ فقالوا: نعم يا رسول الله، فقال: هلا فتحت علي! فقال ظننت أنها نسخت، فقال: لو نسخت لأنبأتكم بها»."

(کتاب الصلواۃ ،باب الحدث في الصلواۃ، 1 / 193، ط:دارالمعرفة بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن فتح على إمامه لم تفسد، ثم قيل : ينوي الفاتح بالفتح على إمامه التلاوة، والصحيح : أن ينوي الفتح على إمامه دون القراءة، قالوا : هذا إذا أرتج عليه قبل أن يقرأ قدر ما تجوز به الصلاة، أو بعدما قرأ، ولم يتحول إلى آية أخرى، وأما إذا قرأ، أو تحول ففتح عليه تفسد صلاة الفاتح، والصحيح : أنها لا تفسد صلاة الفاتح بكل حال، ولا صلاة الإمام لو أخذ منه على الصحيح. هكذا في الكافي.

ويكره للمقتدي أن يفتح على إمامه من ساعته؛ لجواز أن يتذكر من ساعته فيصير قارئا خلف الإمام من غير حاجة. كذا في محيط السرخسي، ولا ينبغي للإمام أن يلجئهم إلى الفتح؛ لأنه يلجئهم إلى القراءة خلفه، وإنه مكروه، بل يركع إن قرأ قدر ما تجوز به الصلاة، وإلا ينتقل إلى آية أخرى. كذا في الكافي، وتفسير الإلجاء : أن يردد الآية، أو يقف ساكتا. كذا في النهاية."

(کتاب الصلاة، الفصل الأول فیما یفسدها: ج 1، ص 99، ط: دارالفكر)

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:

"ويكره للمقتدي أن يعجل بالفتح، ويكره للإمام أن يلجئهم إليه بأن يسكت بعد الحصر، أو يكرر الآية، بل يركع إذا جاء أوانه، أو ينتقل إلى آية أخرى ليس في وصلها ما يفسد الصلاة، أو ينتقل إلى سورة أخرى."

(حرف الفاء،فصل ‌‌فتح على الإمام،  ‌‌أحكام الفتح على الإمام، ج:32، ص:15، ط:مطابع دار الصفوة - مصر) 

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں