
فیوچر کرپٹو ٹریڈنگ یا فاریکس میں سونے کی فیوچر ٹریڈنگ اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟
شیئر مارکیٹ وغیرہ میں تجارت کا ایک طریقہ جسے" فیوچر ٹریڈ" (بیاعات مستقبلیات) کہتے ہیں مروّج ہے، اس کا مقصد شیئر وغیرہ کا خریدنااور فروخت کرنا نہیں ہوتا بلکہ بڑھتے گھٹتے دام کے ساتھ نفع نقصان کو برابر کرلینا بھی مقصود ہوتا ہے، تجارت کا یہ طریقہ چند وجوہات کی بناء پر جائز نہیں ہے۔
تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر موجود فتوی ملاحظہ فرمائیں:
فیوچر ٹریڈنگ سے پیسہ کمانا جائز ہے یا نہیں؟
فتویٰ نمبر : 144707100895
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن