بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1448ھ 12 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

شریعہ کمپلائنٹ فنڈ، صکوک بونڈ اور المیزان انویسٹمنٹ کا حکم


سوال

شریعہ کمپلائنٹ فنڈ ،صکوک بونڈ میں پیسہ انویسٹ کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانا (جوکہ اسلامک بینکنگ کے جاری کردہ ہیں)جائز ہے اور اسی طرح المیزان انویسٹمنٹ کا بھی فرمادیجیے۔

جواب

1:شریعہ کمپلائنٹ میوچل فنڈ مینجمنٹ کمپنیاں سرمایہ کار  کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری  کرنے کی راہ نمائی کرتی ہیں، جو درج ذیل ہیں:

  1.  اسٹاک ایکسچینج
  2.  اسلامی بینکوں کے منافع بخش اکاؤنٹس
  3.  گورنمنٹ کے صکوک
  4.  پرائیویٹ کمپنیوں کے صکوک
  5.  سونا اور چاندی کی مارکیٹ

 کراچی اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ  پر موجود معلومات کے مطابق  کسی کمپنی کےشیئرزشریعہ کمپلائنٹ  ہونے کے لیے جو شرائط مذکور ہیں ان میں شرعی اصولوں کی مکمل رعایت نہیں رکھی گئی ہے،جس کی بنا پر ان کو مکمل شرعی کہنا درست نہیں ہے،لہذا شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا  شرعاجائز نہیں ہے۔تفصیل کے لیے درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کریں:

شریعہ کمپلائنٹ شیئرز میں سرمایہ کاری کا حکم

2:اسی طرح اسلامی بینکوں کے منافع بخش اکاؤنٹس، اور صکوک ( خواہ سرکاری اداروں کے ہوں یا  نجی)  میں بھی  درج ذیل شرعی مفاسد  پائے جانے کی وجہ سےسرمایہ کاری کرناشرعا جائز  نہیں ہے ۔

"1۔ صکوک خریدنے والے لوگ صرف منافع یا کرایہ وصول پاتے ہیں، نقصان میں حصے دار نہیں ہوتے ، اور یہ شریعت کے خلاف ہے۔

2۔ لگائے گئے سرمائے پر اصل رقم کے حساب سے طے شدہ منافع دیا جاتا ہے، اور یہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔ 

3۔ شراکت کی مدت کے اختتام پر اثاثہ جات کا تصفیہ نہیں کیا جاتا، بلکہ صکوک جاری کرنے والا صکوک کے اوپر لکھی ہوئی قیمت (Face Value) کے عوض دوبارہ خرید لیتا ہے، یہ شراکت کے تصور کے خلاف ہے۔"(از:تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا،بعنوان: صکوک کی خرید و فروخت، ج4،ص315،316، ط: بيت العمار )

3:المیزان انویسمنٹ کے اکثر معاملات  شرعی اصولوں کے خلاف ہیں ، اس لیے  اس  میں انویسٹ کرنا اور اس   کے ذریعہ منافع حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتوی ملاحظہ فرمائیں:

المیزان انویسمنٹ کا حکم

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " «ليأتين على الناس زمان لا يبقى أحد إلا أكل الربا فإن لم يأكله أصابه من بخاره ويروى من غباره» . رواه أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه.

فإن لم يأكله أصابه من بخاره ويروى من غباره) أي يصل إليه أثره بأن يكون شاهدا في عقد الربا أو كاتبا أو آكلا من ضيافة آكله أو هديته، والمعنى أنه لو فرض أن أحدا سلم من حقيقته لم يسلم من آثاره."

(کتاب البیوع، باب الربا، ج 5، ص1922، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100898

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں