
روزے کی حالت میں فری فائر(free fire) گیم کھیلنے کا کیا حکم ہے؟
فری فائر گیم کھیلنا ویسے بھی جائز نہیں اور رمضان میں اس کی شناعت اور بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ اس میں نہ کوئی دنیوی فائدہ ہے اور نہ ہی اخروی، لہذا یہ لہو و لعب میں داخل ہے جس سے شریعت نے واضح طور پر منع فرمایا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (سورة لقمان:6)
ترجمہ :اور بعضا آدمی (ایسا) بھی ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے جو الله سے غافل کرنے والی ہیں تاکہ الله کی راہ سے بےسمجھے بوجھے گمراہ کر لے اور اس کی ہنسی اڑا دے ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔(بیان القرآن)
معارف القرآن میں ہے :
"اور لہو الحدیث میں لفظ ”حدیث“ تو باتوں اور قصے کہانیوں کے معنی میں ہے اور لہو کے لفظی معنی غفلت میں پڑنے کے ہیں ، جو چیزیں انسان کو ضروری کاموں سے غفلت میں ڈالیں وہ لہو کہلاتی ہیں اور بعض اوقات ایسے کاموں کو بھی لہو کہا جاتا ہے جن کا کوئی معتد بہ فائدہ نہ ہو، محض وقت گزاری کا مشغلہ یا دل بہلانے کا سامان ہو ۔"
(جلد :7، ص :21، ط :مکتبہ معارف القرآن)
روح المعانی میں ہے:
’’ولهو الحديث على ما روي عن الحسن كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها‘‘.
(تفسیر الآلوسي (11 / 66)، سورۃ لقمان، ط:دار الکتب العلمیة)
تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں :
فری فائر (Free Fire) گیم کا حکم
فقظ واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100994
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن