بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

پاؤں میں تکلیف کے باوجود کھڑے ہوکر نماز پڑھنا


سوال

اگر کسی کو پاؤں میں تکلیف ہو اس کے باوجود وہ کرسی پر یا زمین پر بیٹھ کر نماز ادا نہیں کرے تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب

کرسی پر زمین پر بیٹھ کر نماز  پڑھنے  کے مسئلہ کی تفصیل  یہ ہے کہ گھٹنوں یاقدموں میں معمولی تکلیف  کی وجہ سے  فرض نماز میں قیام ترک کردینا اور بیٹھ کر  نماز  پڑھنا  جائز نہیں، ہاں اگر  تکلیف  اس حد تک  پہنچ چکی  ہے کہ  آدمی کھڑے ہوتے ہی  گرجاتا ہے یا مرض  کے بڑھ جانے  یا شفایا بی میں  دیر لگ جانے  کا ظن غالب ہو یا  ناقابلِ بر داشت تکلیف پہنچتی ہو تو بیٹھ کر  نماز پڑھنا  جائز ہے،  لیکن اگر تھوڑی  دیر کےلیے  ہی کھڑے ہونے کی طاقت  ہو (اور زمین پر سجدہ پر بھی قدرت ہو) تب بھی اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے،  اگر چہ  دیوار یالاٹھی  وغیرہ کے ساتھ ٹیک  لگانی پڑے، اس صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنا  جائز نہیں۔

لہذا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اگر پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے قیام مشکل ہو تو کرسی یا زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے، اس عذر  کی وجہ سے  قیام ترک کرنا (یعنی بیٹھ کر نماز پڑھنا)  لازم نہیں۔

وفي الدر المختار  للحصکفي:

"(من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) حقيقي وحده أن يلحقه بالقيام ضرر به يفتى(قبلها أو فيها) أي الفريضة (أو) حكمي بأن (خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه أو دوران رأسه أو وجد لقيامه ألماً شديدًا) أو كان لو صلى قائمًا سلس بوله أو تعذر عليه الصوم كما مر (صلى قاعدًا) ولو مستندًا إلى وسادة أو إنسان فإنه يلزمه ذلك على المختار (كيف شاء) على المذهب؛ لأن المرض أسقط عنه الأركان فالهيئات أولى. وقال زفر: كالمتشهد، قيل: وبه يفتى (بركوع وسجود وإن قدر على بعض القيام) ولو متكئًا على عصًا أو حائط (قام) لزومًا بقدر ما يقدر ولو قدر آية أو تكبيرة على المذهب؛ لأن البعض معتبر بالكل (وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطًا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعدًا) وهو أفضل من الإيماء قائمًا لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوماً ... الخ"

وفي رد المحتار لابن عابدین :

"(قوله: لمرض حقيقي إلخ) قال في البحر: أراد بالتعذر التعذر الحقيقي، بحيث لو قام سقط، بدليل أنه عطف عليه التعذر الحكمي وهو خوف زيادة المرض... (قوله: أو وجد لقيامه) أي لأجله ألماً شديدًا ... (قوله: بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدًا يومئ؛ ولو صلى قائمًا بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل؛ لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ". 

(کتاب الصلاة، باب صلاة المریض، ج:۲، ص:۹۵ تا ۹۸، ط:سعید)

مزید تفصیل مندرجہ ذیل لنک پر موجود فتوی میں ملاحظہ فرمائیں:

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201153

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں