بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا بیرون ملک تنہا رہائش اختیار کرنے، سفرکرنے اور ملازمت و کاروبا رکرنے کا حکم


سوال

1۔میں سوئٹزرلینڈ میں رہتی ہوں، وہاں کی نیشنلٹی مجھےچاہیے؛  کیوں کہ پاکستان کی آب و ہوا سے میری طبیعت بگڑ رہی تھی، نیز ادھر کے بے کار  رسم و رواج کی وجہ سے میں دینِ اسلام سے بھی دور ہونے لگ گئی تھی اور  میں اپنی عبادات بھی نہیں کر پا رہی تھی جس کی وجہ سے میری ذہنی حالت بگڑنے لگی تھی، ہر وقت غصّہ یا چڑچڑاپن رہتا تھا تو  مجھے ڈاکٹر (میری سائیکالوجسٹ) نےکسی دوسرے ملک جانے کا مشورہ دیا تھا، اچھے ماحول میں تھوڑی سیر و تفریح کے لیے،  ورنہ یہاں رہ کر انہوں نے بولا تھا کہ آپ پاگل ہو سکتی ہیں، اور آپ اس ماحول میں سروائیو نہیں کر پائیں گی۔   اب سوال یہ ہے کہ وہاں میرے والد صاحب نے ایک پوش علاقے میں میرے لیے گھر لیا جو کہ ایک محفوظ سوسائٹی میں ہے، لیکن وہ اپنے کاروبار کی وجہ سے میرے ساتھ وہاں نہیں رہ سکتے، جس کی وجہ سے وہ مجھے وہاں چھوڑ کر واپس پاکستان آجاتے ہیں، اور میں وہاں اکیلی اپنے گھر میں رہتی ہوں جو کہ سوسائٹی کے اندر ہی ہے اور بہت اچھا علاقہ ہے، الحمدللہ پردے کی پابندی بھی کرتی ہوں، وہاں تعلیم حاصل کر رہی ہوں، اور کبھی کبھار  شام کو (عصر کے وقت) اپنی گاڑی میں کسی ریسٹورنٹ جا کر کافی پی لیتی ہوں یا کھانا کھا لیتی ہوں، اور ویسے یونیورسٹی اپنی گاڑی میں جاتی ہوں،نامحرم سے اختلاط صرف یونیورسٹی میں ہوتا ہے، وہ بھی پروفیسرز سے؛ کیوں کہ وہ سارے مرد ہیں،  لیکن وہ بھی تمیز کے دائرے میں رہ کر۔  میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا ایسے وہاں اکیلے رہنا جائز ہے؟ کیا میرے والد صاحب کا مجھے یوں وہاں چھوڑ کر آ جانا جائز ہے؟ یا یہ حرام ہے؟

‎ ‎2۔ عورت کا اکیلے سفر کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیوں کہ ایک دو بار والد صاحب کے نہ آنے کی وجہ سے مجھے اکیلے سفر کرنا پڑا تھا، لیکن وہ اس لیے تھا کہ اگر میں سفر نہ کرتی تو میرا ویزا  ریجیکٹ ہو جاتا،  جس کی وجہ سے بہت سی مشکلات ہوسکتی تھیں، اور والد صاحب اس وقت مصروف تھے، وہ آ نہیں سکتے تھے، اور بھائی وغیرہ یہاں نہیں ہوتے، تو کیا یہ سب کام میں حرام کر رہی ہوں؟

‎ ‎3۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ اگر آپ طویل عرصے تک زندہ رہیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ عورت حیرہ (عراق کے ایک شہر) سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لیے سفر کرتی ہے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی۔تو اس حدیث میں ایک تو پیشن گوئی ثابت ہو گئی،  لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں تو عورت کے محرم کے بغیر سفر کو ناجائز قرار نہیں دیا،  نہ ہی یہ بولا کہ وہ عورت گناہ گار ہو گی،  بلکہ مثال بھی ایک مسلمان عورت کی دی،  تو  کیا اس سے اگر کوئی یہ استدلال کرے کہ اگر عورت کو فتنہ کا اندیشہ نہ ہو  اور وہ اپنی حفاظت کر سکتی ہو تو ایسی صورت میں کیا اس کا بغیر محرم کے سفر کرنا جائز  ہے ؟کیوں کہ میری فیملی میں زیادہ تر لوگ اسی بنا پر اپنی بیٹیوں کو اکیلے سفر کرنے دیتے ہیں اور الحمدللہ انہیں کچھ نہیں ہوتا،  لیکن میں گناہ نہیں کرنا چاہتی، اورورلڈ ٹور کرنا میرا جنون ہے،  میں کیا کروں؟

‎ ‎4۔ کیا کسی کا ساری زندگی نکاح نہ کرنا گناہ ہے؟ جب کہ اس کی کسی کے ساتھ نہ بنتی ہو، مطلب وہ کسی کی نہ سنتا یا سنتی ہو اور کسی کے ساتھ اس کا نباہ کرنا بہت مشکل ہو، لیکن اپنے نفس پر مامون ہو، تو ایسی صورت میں اگر کوئی نکاح نہ کرے تو کیا گناہ گار ہوگا؟جب کہ اسے پتا ہو کہ وہ اپنے شوہر یا لڑکا ہو تو اپنی بیوی کے حقوق ادا نہیں کر پائےگا؟

نیز لڑکی کا نکاح کے وقت لڑکے کا مال و دولت ،حسن و جمال،اور دینداری اور اخلاق یہ چاروں چیزیں ایک لڑکے میں دیکھ کر نکاح کرنا جائز ہے اورکیا باقی رشتوں کو ان چیزوں کے نہ ہونے کی بنا پر ٹھکرانا جائز ہے ؟

‎ ‎5۔ میں نے آپ کی ویب سائٹ پرفتاوی پڑھے ہیں، عورت کے ملازمت یا کاروبار کرنے کے حوالے سے،  میرا سوال یہ ہے کہ اسلام عورت کے ملازمت کرنے کو حرام قرار دیتا ہے یا نا پسند کرتا ہے ؟حالاں کہ کاروبار تو بہت سی صحابیات کرتی تھیں یہاں تک کہ حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنھا کا اتنا بڑا کاروبار تھا عرب میں پھیلا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکبھی ان کو نہیں روکا تو کیا میرا اپنی تعلیم کے ساتھ ایک سوفٹ ویئر کمپنی بنا کر اس میں صرف عورتوں کو ملازمت دینا گناہ ہو گا؟ جب کہ میں پردے کی پابندی بھی کروں اور کمپنی کے اوقات صبح سے دوپہر تک رکھوں؟نیز کیااسی طرح عورت کا آنلائن بچوں کو ٹیوشن پڑھانا یا کھانا بنا کے آن لائن ویب سائٹ یا انسٹاگرام کے ذریعے بغیر اپنے آپ کو دکھائے کمائی کرنا گناہ ہو گا؟کیوں کہ میرے والدین اس کمائی کو بھی ناجائز اور حرام کہتے ہیں، لیکن میں اپنے دین اسلام کے لئے،اپنے لئے،اپنے ملک کی فلاح کے لیے شریعت کی حدود میں رہ کر کچھ کرنا چاہتی ہوں میں اپنی زندگی رائیگاں نہیں جانے دینا چاہتی، جب اللہ نے مجھے عقل و شعور سے نوازا ہے الحمدللہ تو میں اسے صحیح طریقے سے استعمال کر کے اللہ کی رضا حاصل کرنا چاہتی ہوں اور پلیز مجھے یہ نہیں بولیے گا کہ اپنی اولاد کی تربیت کریں، میں اچھی طرح یہ بات جانتی ہوں اور مجھے اس پہ کوئی اعتراض بھی نہیں ہے،  میری پہلی ترجیح میرا گھر ہی ہے،  اس کے علاوہ کی میں بات کررہی ہوں؟

جواب

1-   واضح رہے کہ  شریعت نے غیر شادی شدہ عورت کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بنیادی طور پر  اس کے محارم اور اولیاء پر رکھی ہے؛ کیوں کہ عورت کو تنہا رہائش اختیار کرنے میں عزت کا خطرہ نہ ہو، تب بھی اسے بہت سی ضروریات اور مصالح کے لیے محرم  کی ضرورت رہتی ہے؛ لہٰذا آپ کے والد صاحب کا آپ کو وہاں تنہا چھوڑ کر آجانا حرام تو نہیں، البتہ ان کو چاہیے تھا کہ وہ خود یا آپ کے کسی محرم کے ساتھ آپ کی رہائش کا نظم بناتے۔ تاہم آپ کے لیے مذکورہ سوسائٹی میں والد کی اجازت سے اکیلے رہنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہاں کسی قسم کے فتنہ و ضرر کا اندیشہ نہ ہو۔

نیز  یونیورسٹی میں بھی ممکنہ حد تک اختلاط سے بچیں،  البتہ تعلیمی مقصد کے لیے بقدرِ ضرورت پروفیسرز سے بات کرنی پڑے تو  اس  کی گنجائش ہوگی۔

2-  حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہےکہ :” رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت  (48 میل) کے بقدر سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو ۔“   (صحیح مسلم، کتاب الحج، 1 /433، ط: قدیمی) 

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے  رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرمارہے تھے: ’’ کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے۔   حاضرین میں سے ایک آدمی (یہ سن کر) کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول !  میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے!؟  تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔‘‘  (صحیح البخاري، كتاب الجهاد و السير، باب: من اكتتب في جيش فخرجت امرأته حاجة، 1094/3، ط: دار ابن كثير)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے مذکورہ ارشادات اس بارے میں صریح اور  واضح  ہیں  کہ عورت کے لیے شرعی مسافت کا کوئی بھی سفر محرم یا شوہر کے بغیر جائز نہیں ہے، عورت تنہا سفر کرے یا عورتوں کے قافلے کے ساتھ،  خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی ، یہاں تک کہ اگر حج یا عمرہ کا مقدس سفر ہو  تب بھی عورت کے لیے محرم کے بغیر شرعی مسافت کے بقدر سفر کرنا جائز نہیں ہے،  بلکہ حج کے اسباب  مہیا ہونے کی صورت میں عورت پر حج فرض ہونے کے بعد بھی،  ادا کرنا اس وقت فرض ہوتا ہے جب اس کے ساتھ حج پر جانے کے لیے محرم یا شوہر میسر ہو؛  لہٰذا عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام تو نہیں، البتہ مکروہ تحریمی ہے، لہٰذا آپ کے لیے تنہا سفر کرنا شرعًا جائز نہیں تھا، اس پر توبہ و استغفار  کیجیے، اورآئندہ محرم کے ساتھ سفر کا اہتمام کیجیے۔

3- آپ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے، وہ    مسند احمد میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس کے الفاظ یہ ہیں:

"حدثنا يزيد، أخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أبي عبيدة، عن رجل قال: قلت لعدي بن حاتم: حديث بلغني عنك أحب أن أسمعه منك. قال: نعم، لما بلغني خروج رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكرهت خروجه كراهة شديدة، خرجت حتى وقعت ناحية الروم -وقال، يعني يزيد: ببغداد- حتى قدمت على قيصر. قال: فكرهت مكاني ذلك أشد من كراهيتي لخروجه. قال: فقلت: و الله، لولا أتيت هذا الرجل، فإن كان كاذبًا لم يضرني، و إن كان صادقًا علمت. قال: فقدمت فأتيته، فلما قدمت قال الناس: عدي بن حاتم، عدي بن حاتم. قال: فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لي: "يا عدي بن حاتم، أسلم تسلم" ثلاثا. قال: قلت: إني على دين، قال: "أنا أعلم بدينك منك"، فقلت: أنت أعلم بديني مني؟! قال: "نعم، ألست من الركوسية، و أنت تأكل مرباع قومك؟" قلت: بلى. قال: "فإنّ هذا لايحلّ لك في دينك". قال: فلم يعد أن قالها، فتواضعت لها. فقال: "أما إني أعلم ما الذي يمنعك من الإسلام. تقول: إنّما اتّبعه ضعفة الناس، و من لا قوة له، و قد رمتهم العرب، أتعرف الحيرة؟ "قلت: لم أرها، و قد سمعت بها. قال: "فوالذي نفسي بيده، ليتمّنّ الله هذا الأمر حتى تخرج الظعينة من الحيرة حتى تطوف بالبيت في غير جوار أحد، و ليفتحن كنوز كسرى بن هرمز!" قال: قلت: كسرى بن هرمز؟! قال: " نعم، كسرى بن هرمز، و ليبذلنّ المال حتى لايقبله أحد."

قال عدي بن حاتم: فهذه الظعينة تخرج من الحيرة، فتطوف بالبيت في غير جوار، و لقد كنت فيمن فتح كنوز كسرى بن هرمز. و الذي نفسي بيده لتكوننّ الثالثة لأنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قد قالها."

(حديث عدي بن حاتم الطائي، ج:30، ص:196، رقم:18260، ط:مؤسسة الرسالة)

ترجمہ: "ایک تابعی روایت کرتے ہیں کہ میں نے عدی بن حاتم طائی سے کہا کہ ایک حدیث مجھے آپ کے حوالے سے پہنچی ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ سے براہ راست سنوں! عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! جب مجھے رسول اللہ ﷺ کے خروج (نبوت کی دعوت) کی خبر پہنچی تو مجھے آپ کا اعلانِ نبوت بہت شاق گزرا، میں عرب کی سرزمین سے نکل روم کے کنارے چلا گیا، یہاں تک کہ میں قیصر روم کے پاس چلا گیا، عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرا وہاں رہنا رسول اللہ ﷺ کے خروج سے بھی زیادہ برا محسوس ہونے لگا، چناں چہ میں نے دل دل میں کہا: اللہ کی قسم! کیوں نہ میں ان (رسول اللہ ﷺ) کے پاس جاؤں، اگر یہ جھوٹے ہوئے تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے، اور اگر سچے ہوئے تو میں جان لوں گا، عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں واپس لوٹا اور آپ ﷺ  کے پاس آیا، جب میں حاضر ہوا تو لوگوں نے کہا: عدی بن حاتم، عدی بن حاتم!!! کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ مجھ سے یہ فرمایا: اے عدی بن حاتم اسلام قبول کرلو سلامتی پاؤگے! عدی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: بے شک میں ایک دین پر قائم ہوں! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں آپ کے دین کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں! میں نے عرض کیا: کیا آپ میرا دین مجھ سے زیادہ جانتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں! کیا آپ "رکوسیہ" میں سے نہیں ہو جو اپنی قوم کا چوتھائی مال کھا جاتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ یہ تمہارے دین میں تمہارے لیے حلال نہیں ہے، عدی کہتے ہیں کہ: آپ ﷺ نے یہ کہا نہیں تھا کہ میرا دل جھک گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے لیے اسلام سے کیا مانع ہے؟ تم کہتے ہو کہ ان  (رسول اللہ ﷺ)  کی اتباع تو کمزور لوگوں اور انہوں نے کی ہے جن کے پاس قوت نہیں ہے، جنہیں عرب لوگوں نے بھی دھتکار دیا ہے! کیا آپ شہر "حیرہ" جانتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: میں نے دیکھا نہیں ہے، لیکن اس کے بارے میں سنا ضرور ہے! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور اس دین کو مکمل فرمائیں گے، یہاں تک کہ پردہ نشین عورت کسی کی پناہ کے بغیر تنہا "حیرہ" سے نکل کر بیت اللہ کا طواف کرے گی، اور اللہ تعالیٰ کسری بن ہرمز کے خزانے ضرور بالضرور فتح فرمائیں گے! عدی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا:  کسری بن ہرمز کے خزانے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں، کسری بن ہرمز! اور (آپ ﷺ نے فرمایا:) یقینًا مال  خرچ کیا جائے گا یہاں تک کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔

عدی کہتے ہیں:یہ (زمانہ آگیا ہے کہ) پردہ نشین عورت کسی کی پناہ کے بغیر حیرہ سے نکل کر بیت اللہ کے طواف کے لیے نکلتی ہے، اور میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے کسری بن ہرمز کے خزانے فتح کیے، اور اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! یہ تیسری بات (مال قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا) بھی ضرور پوری ہوکر رہے گی؛ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات فرمادی ہے۔"

اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے  "الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني" میں ہے:

"و المراد من التركيب أن الله عز وجل سيظهر الاسلام وأهله ويمكن لهم فى الأرض ويبدلهم من بعد خوفهم أمنا حتى تسير المرأة المسافة البعيدة من غير حراسة وهى آمنة أى وليفتحن الله على المسلمين أرض الفرس حتى يستولوا على خزانتها وخيراتها ويكونوا سادتها وقد كان ذلك فى عهد عمر بن الخطاب رضى الله عنه."

(كتاب المناقب، ج:22، ص:321، ط:دار احياء التراث العربي)

ترجمہ : ”اس عبارت سے مقصود یہ ہے کہ اللہ عزوجل اسلام اور اہلِ اسلام کو غالب فرمائے گا، انہیں زمین میں اقتدار عطا کرے گا، اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن و اطمینان نصیب فرمائے گا، یہاں تک کہ عورت لمبا سفر بغیر کسی محافظ کے طے کرے گی اور وہ محفوظ ہوگی۔
یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے فارس کی سرزمین فتح فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ اس کے خزانوں اور دولت پر غالب ہو جائیں گے اور اس کے حاکم بن جائیں گے، اور یہ سب کچھ امیرالمؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں واقع ہو چکا ہے۔“

اس  حدیثِ مبارک میں دراصل اسلام کے غلبے اور امن و امان کے قیام کی ایک پیشین گوئی ہے کہ عدی بن حاتم کے ذہن میں اسلام قبول کرنے سے یہ شبہ مانع تھا کہ عرب نے بھی انہیں (مسلمانوں کو) دھتکار دیا ہے اور دنیا کی بڑی طاقتیں ان کے خلاف ہیں، اب معلوم نہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا، یہ غالب آئیں گے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ، اس طرح کی باتیں ان کے ذہن میں تھیں، جب کہ دینِ اسلام برحق ہے، اس نے غالب آکر رہنا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسی غلبے کی خبر دی کہ اسلام کے غلبے کا ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر کوئی عورت تنہا مقامِ حِیرہ سے نکل کر بیت اللہ کا طواف کرے گی تو اسے کسی کا خوف لاحق نہیں ہوگا۔ 

بعض لوگ اس روایت سے یہ سمجھتے ہیں کہ”عورت کو فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور وہ اپنی حفاظت کر سکتی ہو تو بغیر محرم کے سفر کر نا جائز ہے“ ، یہ بات  شرعاً درست نہیں ہے؛ کیوں کہ جن نصوص میں عورت کو محرم کے بغیر سفر سے منع کیا گیا ہے اور غیر محرم کے ساتھ خلوت سے منع کیا گیا ہے وہ صریح، مطلق اور عمومی ہیں، نیز ان میں شرعی حکم کا بیان واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے ناجائز قرار دیا ہے،  لہٰذا مذکورہ حدیث جس میں شرعی حکم بیان کرنے کے الفاظ نہیں ، بلکہ سیاق سباق سے پیشین گوئی کا اسلوب واضح ہے، اسے ان نصوص سے معارض نہیں سمجھا جائے گا، جن میں واضح طور پر  "لایحلّ"کے الفاظ استعمال فرما کر رسول اللہ ﷺ نے عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے منع  فرمایا ہے۔ 

 نیز اس حدیث سے جس نے عورت کے تنہا سفر کرنے پر استدلال کیا ہے کہ  شراح حدیث نے ان پر رد کیا ہے ، ملاحظہ ہو:

علامہ عینی رحمہ اللہ عمدة القاری شرح صحيح البخاری میں تحریر فرماتے ہیں : 

"(يوشك أن ‌تخرج ‌الظعينة ‌من ‌الحيرة تؤم البيت لا جوار معها) الحديث في البخاري قلت: هذا يدل على وجوده لا على جوازه، وأجاب بعضهم عن هذا بأنه خبر في سياق المدح ورفع منار الإسلام، فيحمل على الجواز قلت: هذا إخبار من الشارع بقوة الإسلام وكثرة أهله ووقوع الأمن فلا يستلزم ذلك الجواز."

(باب حج النساء، 10/ 222، ط: دارالفكر)

ترجمہ : ”(قریب ہے کہ حِیرہ سے ایک عورت نکلے گی، بیت اللہ کا قصد کرے گی، اور اس کے ساتھ کوئی محافظ نہیں ہوگا...الخ“ ، یہ حدیث بخاری میں ہے، میں کہتا ہوں: یہ حدیث جواز پر نہیں بلکہ وقوع (واقعے کے  ہو جانے) پر دلالت کرتی ہے، بعض اہلِ علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ:  یہ خبر مدح کے سیاق میں ہے اور اسلام کے غلبے اور اس کے جھنڈے کی بلندی کے بیان میں وارد ہوئی ہے، اس لیے اسے جواز پر محمول کیا جائے گا“۔میں کہتا ہوں: یہ شریعت کی طرف سے اسلام کی قوت، مسلمانوں کی کثرت اور امن کے پھیل جانے کی خبر ہے، اور محض اس سے جواز لازم نہیں آتا۔“

مذکورہ حدیث اور عورت کے محرم کے بغیر سفر کے عدمِ جواز سے متعلق بہت کچھ لکھا گیا ہے، یہاں تمام مباحث کا احاطہ مقصود نہیں ہے، مختصرًاچند اُصولی باتیںلکھی جاتی ہیں، ذہن نشین کرلیجیے، امید ہے کہ ان شاء اللہ مفید ثابت ہوں گی:  

  • شریعت کے احکام کی علتیں بھی ہوتی ہیں اور حکمتیں بھی، لیکن شرعی احکام کا دار و مدار علت پر ہوتاہے، حکمت پر نہیں، مثلًا  قصر نماز  کی علت شرعی سفر ہے اور اس کی حکمت، مشقت کو دور کرنا ہے، اب اگر کسی شخص کو سفر میں مشقت نہ بھی ہو تب بھی اس کے لیے سفر میں قصر نماز پڑھنا ضروری ہے، یہاں حکمت کے نہ پائے جانے کی وجہ سے حکم ختم نہیں ہوا، بلکہ علت  یعنی سفر  کے وجود سے حکم یعنی قصر نماز پڑھنا باقی رہا۔ الغرض علت و حکمت کے درمیان فرق رکھنا اور  احکام کی علت سمجھ کر مسائل کا استنباط کرنافقہاء و مجتہدین کا کام ہے۔
  • عام مسلمان میں دین کے علم میں پختگی اور رسوخ اس درجے کا نہیں ہوتا کہ وہ احکامِ شرعیہ  کی علتوں کا استنباط کرسکے اور حکمتیں بیان کرسکے؛ لہٰذا وہ فقہاء و مجتہدین کی بیان کردہ تحقیقات و تشریحات کی روشنی میں قرآن و سنت پر عمل کا پابند ہے۔
  • عورت کے لیے سفر میں محرم یا شوہر کے ساتھ ہونے کی بہت سی حکمتیں اور فوائد  ہیں، لیکن حکم کا مدار ان حکمتوں اور فوائد پر منحصر نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ نے عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے مطلقًا منع فرمادیا ہے ، یہ حکم عام ہے اور  ہمیشہ کے لیے ہے۔
  •  اگرچہ موجودہ دور میں سہولیات کی وجہ سے سفر نسبتًا آسان ہوگیا ہے، لیکن بہت سی ایسی ممکنہ مشکلات بھی ہیں جن میں خواتین کے لیے محرم  یا شوہر کی موجودگی ضروری ہے۔
  • جس طرح عورت کو یہ حکم ہے کہ وہ محرم یا شوہر کے بغیر تنہا سفر  نہ کرے، اسی طرح مرد کو حکم ہے کہ وہ امن کے زمانے میں بھی اپنی محرم خواتین یا بیوی کو تنہا سفر پر نہ بھیجے، یہ حکم مرد و عورت ہر ایک کے لیے مستقل ہے۔ جیسے رسول اللہ ﷺ نے محرم یا شوہر کے بغیر سفر پر جانے والی خاتون کے شوہر کو  جہاد پر جانے کے بجائے اہلیہ کے ساتھ جانے کا حکم فرمایا۔
  • ائمہ اربعہ میں سے کسی کے ہاں بھی عورت کا تنہا سفر کرنا جائز نہیں ہے، البتہ صرف سفرِ حج کے لیے امام شافعی اور امام مالک رحمہما  اللہ  سے محرم مرد یا شوہر کے بغیر عورت کے سفر کی اجازت جو منقول ہے، وہ حج کے محفوظ قافلوں اور بااعتماد خواتین کی معیت  کی شرط کے ساتھ  ہے۔

لہٰذا درج بالا نکات سے واضح ہوا کہ عورت کا اکیلے سفر  کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کے لیے یہ استدلال کرنا کہ  "اگر عورت کو فتنہ کا اندیشہ نہ ہو  اور وہ اپنی حفاظت کر سکتی ہو تو ایسی صورت میں اس کا بغیر محرم کے سفر کرنا جائز  ہے "  بھی درست نہیں ہے۔

4:  نکاح کی استطاعت رکھنے والے افراد کے لیے عمومی احوال میں نکاح کرنا سنت ہے،  اس کی بے شمار   حکمتیں اور مصلحتیں ہیں ، اس لیے حسبِ وسعت اسباب میسر آنے کی صورت میں نکاح کرنا چاہیے، یہ ایمان کی تکمیل اور پاک دامنی کے حصول کا ذریعہ ہے، اور نبی کریم ﷺ کی سنت ہے،  ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:”جس بندہ نے نکاح کرلیا اس نے اپنا آدھا دین مکمل کرلیا، اب اسے چاہیے کہ باقی آدھے کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔“دوسری حدیث میں آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ:  ”اے علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز میں جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ میں جب آجائے، اور عورت (کے نکاح میں ) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر)  مل جائے۔“اسی طرح  ایک طویل حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی نگہداشت کرنے والا ہوں، مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں اور رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور پھر آپ  نے فرمایا:میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، جو میری سنت سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔“

تاہم شریعتِ مطہرہ نے افراد کی حالت کے اعتبار سے نکاح سے متعلق احکامات عطا فرمائے ہیں، بعض صورتوں میں نکاح مباح ہوتا ہے، بعض میں نکاح مستحب وسنت ہوتا ہے، بعض میں واجب ہوتا ہے، اسی طرح سے بعض حالات میں نکاح مکروہ ہوتا ہے اور بعض حالات میں حرام ہوتا ہے۔ 

لہذا اگر کسی   شخص کو  نکاح کے بعد اندیشہ ہو کہ  وہ شریک ِ حیات  کے حقوق ادا نہیں کرپائے گا، اور ظلم کا مرتکب ہوگا تو  اس کے لیے نکاح مکروہِ تحریمی ہے، اور اگر اس کا صرف اندیشہ نہ ہو بلکہ اپنی عادات یا نفسیاتی میلانات کی وجہ سے اسے یہ یقین ہو کہ نکاح کے بعد  شریک حیات  کے ساتھ جور  و ظلم کا معاملہ رکھے گا تو ایسے شخص کے لیے  نکاح  کرنا حرام ہے۔ البتہ اس کو  اپنی عادات   بدلنے اور اپنے نفس کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ 

حدیث میں ہے کہ عام طور پر لوگ لڑکی سے نکاح چار باتوں کی وجہ سے کرتے ہیں، اس کی مال داری کی وجہ سے، یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، یا حسب و نسب کی وجہ سے، یا اس کی دین داری کی وجہ سے، لیکن تمہیں چاہیے کہ دین دار عورت سے ہی نکاح کرو، اگر دین داری کو چھوڑ کر بقیہ چیزوں کو ترجیح دی تو  یہ تمہارے لیے خسارے کا سودا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ نکاح میں دین داری کو معیار بنایا جائے، جس شخص میں چاروں صفات جمع ہوں صرف اسی سے نکاح کرنا اور باقی رشتوں کو ٹھکرا دینا  حدیث کا منشا و مقصود  ہی نہیں ہے۔

بلکہ حکم یہ ہے کہ جب لڑکا اور لڑکی شادی کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے رشتے میں تاخیر نہ کی جائے، چنانچہ حدیث شریف میں لڑکی کے اولیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی ایسا رشتہ آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو  تو اپنی بچیوں کا نکاح کردو، اگر ایسا نہ کروگے تو معاشرے میں فتنہ اور  بہت بگاڑ ہوگا۔

5۔ شریعت مطہرہ نے ایک مضبوط اور بہتر خاندانی نظام مرتب کرنے کے لیے  گھر اور خاندان سے متعلق اندرونی اور بیرونی امور کی تقسیم کر دی ہے، خانگی اور گھریلو معاملات کی ذمہ داری اور دیکھ بھال عورت کے حوالے کی اور بیرونی اور خارجی معاملات مرد کے ذمہ لازم قرار دئیے۔

قرآن کریم  میں ہے:

"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ." (سورة النساء: 34) ۔

ترجمہ :"مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کیے انہوں نے اپنے مال پھر جو عورتیں نیک ہیں سو تابعدار ہیں نگہبانی کرتی ہیں پیٹھ پیچھے اللہ کی حفاظت سے ۔"  (ترجمۂ شیخ الہند از  تفسیر عثمانی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کے شوہر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان گھریلو   امور کی تقسیم فرما ئی تھی،  اندرونی معاملات مثلاًکھانا پکانا، گھر کی صفائی ستھرائی  وغیرہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  اور خارجی معاملات مثلاً معاش وغیرہ حضرت  علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ لگائے۔

گھریلو معاملات کی مندرجہ بالاتقسیم کےباوجود ضرورت پڑنے پر عورت بیرونی معاملات انجام دے سکتی ہے،بلکہ زندگی کے بعض شعبے اور امور  (مثلاً طب کے شعبے اور  خواتین کی تعلیم و تربیت کے شعبے وغیرہ) تو ایسے ہیں کہ خواتین ہی کے ذریعے ان کی انجام دہی کی ضرورت ہوتی ہے؛ لہٰذا عورت کا ملازمت کرنا فی نفسہ حرام نہیں ہے، اور  اگر ضرورت ہو تو ناپسندیدہ بھی نہیں ہے۔

صورتِ مسئولہ میں آپ کا عورتوں کے لیے ایک محفوظ اور شرعی ماحول میں خواتین پر مشتمل سافٹ ویئر کمپنی قائم کرنا اور شرعی ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے ایسا انتظام کرنا درست ہے۔

نیز اگر آپ جاندار کی تصویر سے بچتے ہوئے  اور  پردے کے احکام کی رعایت کے ساتھ آن لائن تعلیم دیتی ہیں تو یہ جائز ہے،  اسی طرح ویب سائٹ  کے ذریعے کھانے وغیرہ  کی تشہیر کرکے آرڈر لینا اور اس کو فروخت کرکے کمانا جائز ہے۔ البتہ اپنی مصنوعات پر اشتہارات کے ذریعے کمانا مطلقًا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ عمومًا اس میں بہت سی شرعی قباحتیں بھی پائی جاتی ہیں: مثلاً   جان د ار  کی تصویر یا جاندار کی ویڈیو ،یامیوزک وموسیقی والی ویڈیوز اور دیگرغیر شرعی  اشتہارات وغیرہ۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں:

انسٹا گرام سے کمائی کرنے/اس سے حاصل شدہ آمدنی اورعورت کا سوشل میڈیا پر تعلیم دینے کا حکم

یہ بات بھی واضح رہے کہ اسلام عورت کو معاشرتی و دینی خدمات سے نہیں روکتا، بلکہ اسے پاکیزہ اور شرعی حدود میں رہ کر خدمت کا موقع دیتا ہے۔لہذا آپ کااپنی صلاحیتوں کو دین اسلام کے لیے،اپنے  لیے،اپنے ملک کی فلاح کے لیے استعمال کرنے کا جذبہ  قابلِ قدر ہے۔ اگر آپ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے دینی، تعلیمی یا فلاحی مقصد سے عورتوں کے لیےکچھ کام کرنا چاہتی ہیں تو شرعاً یہ جائز ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن كانت البالغة بكرا فللأولياء حق الضم، وإن كان لا يخاف عليها الفساد إذا كانت حديثة السن وأماإذا دخلت في السن واجتمع لها رأيها وعفتها فليس للأولياء الضم ولها أن تنزل حيث أحبت لا يتخوف عليها كذا في المحيط."

(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:542، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ ۔۔۔ وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبیة حرام۔۔۔

وفی الرد: ثم رأیت في منیة المفتي مانصه: الخلوة بالأجنبیة مکروهة وإن کانت معها أخریٰ کراهة تحریم."

(فصل في النظر والمس، ج:6، ص367، ط:سعید)

2۔صحیح بخاری میں ہے:

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم، فقام رجل فقال: يا رسول الله، امرأتي ‌خرجت ‌حاجة، واكتتبت في غزوة كذا كذا، قال: ارجع فحج مع امرأتك."

(كتاب النكاح، باب لا یخلون رجل بامراۃ۔۔۔، ج:5، ص:2005، رقم:4935، ط:دار ابن کثیر)

ترجمہ:” حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور کوئی عورت سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو، تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ میرا نام فلاں فلاں غزوے (جہادی لشکر) میں لکھا گیا ہے، اور میری بیوی حج کے لیے نکل چکی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"(وعنه) أي عن ابن عباس (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يخلون) أكد النهي مبالغة (رجل بامرأة) أي أجنبية (ولا تسافرن) أي مسيرة ثلاثة أيام بلياليها عندنا (امرأة) أي شابة أو عجوزة (إلا ومعها محرم) قال ابن الهمام في الصحيحين «لا تسافر امرأة ثلاثا إلا ومعها ذو محرم» ، وفي لفظ لهما فوق ثلاث، وفي لفظ للبخاري ثلاثة أيام، وفي رواية البزار «لا تحج امرأة إلا ومعها ذو محرم» ، وفي رواية الدارقطني «لا تحجن امرأة إلا ومعها ذو محرم» .۔۔۔ والمراد بالمحرم من حرم عليه نكاحها على التأبيد: بسبب قرابة أو رضاع أو مصاهرة بشرط أن يكون مكلفا ليس بمجوسي ولا غير مأمون."

(كتاب المناسك، ج:5، ص:1743، رقم:2513، ط:دار الفکر)

3۔سنن ترمذی میں ہے:

"عن علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: «يا علي،» ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤا."

(أبواب الصلاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، رقم:171، ج:1 ،ص:213، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)

مشکاۃا لمصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌تنكح ‌المرأة لأربع: لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك"

(کتاب النکاح، ج:2، ص:927، رقم:3082، ط:المكتب الإسلامي)

وفيھا ايضا:

'' وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا تزوج العبد فقد استكمل نصف الدين، فليتق الله في النصف الباقي»''

(کتاب النکاح، ج:2، ص:930، رقم:3096، ط:المكتب الإسلامي)

عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"حدثنا سعيد بن أبي مريم أخبرنا محمد بن جعفر أخبرنا حميد بن الطويل أنه سمع أنس بن مالك، رضي الله عنه، يقول: جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم، يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم، فلما أخبروا كأنهم تقالوها، فقالوا: وأين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم؟ قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر. قال أحدهم: أما أنا فإني أصلي الليل أبدا، وقال آخر: أنا أصوم الدهر ولا أفطر، وقال أخر: أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنتم الذين قلتم كذا وكذا؟ أما والله إني لأخشاكم لله، وأتقاكم له، لكني أصوم وأفطر وأصلي وأرقد وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني۔۔۔وفيه: أن النكاح من سنة النبي صلى الله عليه وسلم، وزعم المهلب أنه من سنن الإسلام، وأنه لا رهبانية فيه. وأن من تركه راغبا عن سننه النبي صلى الله عليه وسلم، فهو مذموم مبتدع ومن تركه من أجل أنه أرفق له وأعون على العبادة فلا ملامة عليه."

(کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، ج:20، ص:65، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية۔۔۔ (و) يكون (سنة) مؤكدة في الأصح فيأثم بتركه

(قوله: عند التوقان) ... والمراد شدة الاشتياق كما في الزيلعي: أي بحيث يخاف الوقوع في الزنا لو لم يتزوج إذ لا يلزم من الاشتياق إلى الجماع الخوف المذكور بحر.۔۔۔(قوله: سنة مؤكدة في الأصح) وهو محمل القول بالاستحباب وكثيرا ما يتساهل في إطلاق المستحب على السنة وقيل: فرض كفاية، وقيل واجب كفاية وتمامه في الفتح، وقيل واجب عينا ورجحه في النهر كما يأتي قال في البحر ودليل السنية حالة الاعتدال الاقتداء بحاله - صلى الله عليه وسلم - في نفسه ورده على من أراد من أمته التخلي للعبادة كما في الصحيحين ردا بليغا بقوله «فمن رغب عن سنتي فليس مني» كما أوضحه في الفتح. اهـ.

وهو أفضل من الاشتغال بتعلم وتعليم كما في درر البحار وقدمنا أنه أفضل من التخلي للنوافل (قوله: فيأثم بتركه) لأن الصحيح أن ترك المؤكدة مؤثم كما علم في الصلاة بحر، وقدمنا في سنن الصلاة أن اللاحق بتركها إثم يسير وأن المراد الترك مع الإصرار وبهذا فارقت المؤكدة الواجب، وإن كان مقتضى كلام البدائع في الإمامة أنه لا فرق بينهما إلا في العبارة."

(كتاب النكاح، ج:3، ص:6 تا 7، ط:سعيد) 

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"و لاينبغي للولي أن يزوج موليته إلا التقي الصالح، جاء في الأثر: إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض . وروي: ‌من ‌زوج ‌كريمته ‌من ‌فاسق ‌فقد ‌قطع ‌رحمها. وينبغي أن يستأمر البكر قبل النكاح ويذكر لها الزوج فيقول: إن فلانا يخطبك أو يذكرك، وإن زوجها من غير استئمار فقد أخطأ السنة لخبر: شاوروا النساء في أبضاعهن ."

(حرف الزاء، ‌‌حق المرأة في اختيار زوجها، ج:24، ص:62، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)

5۔فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهنّ في عمل، أو خدمة۔ كذا في الخلاصة ۔۔۔ ونفقة الإناث واجبة مطلقاً على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهنّ مال، كذا في الخلاصة."

(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، ج:1، ص:562/563، ط:دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) النوع السادس: وهو الأجنبيات الحرائر، فلا يحل النظر للأجنبي من الأجنبية الحرة إلى سائر بدنها إلا الوجه والكفين ؛ لقوله تبارك وتعالى: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ﴾ [النور: 30] إلا أن النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة وهي الوجه والكفان"

(كتاب الاستحسان، ج:5، ص:125، ط:دار الكتب العلمية) 

فتاوی شامی میں ہے:

"‌(وللحرة) ‌ولو ‌خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (خلا الوجه والكفين) فظهر الكف عورة على المذهب (والقدمين)على المعتمد، وصوتها على الراجح.

قوله وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده ...ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة."

(كتاب الصلاة، ‌‌باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج:1، ص:405/406، ط:سعيد)

وفیه ایضا:

"‌وظاهر ‌كلام ‌النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا."

(كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة، ج:1، ص:647، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101391

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں