بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے ساتھ متصل بنات کے مدرسہ میں محلہ کی عورتوں کا جمع ہوکر باجماعت تراویح کا اہتمام کرنا


سوال

  ہمارے محلے کی مسجد میں بنات کا مدرسہ ہے جہاں رمضان کے دوران خواتین کے لیے عشاء اور تراویح کی نماز جماعت کے ساتھ کروائی جاتی ہے، کیا یہ عمل درست ہے یا اس میں کوئی شرعی مسئلہ ہے؟ اگر یہ کام علماء کی نگرانی میں ہو، اور کسی جید عالم کی امامت میں خواتین کی جماعت کروائی جائے، تو اس کی شرعی حیثیت کیا بنتی ہے؟ کیا اس میں کوئی حرج ہے یا اجازت ہے؟ کیا ہم اپنی گھر کی خواتین کو اُس مدرسے میں بھیج سکتے ہیں؟ ہم نے اب تک کسی دوسری مسجد میں خواتین کی جماعت یا تراویح نہیں دیکھی۔ کئی سالوں سے اس بارے میں کشمکش میں ہوں، ہمت نہیں ہوتی اپنے استادوں سے پوچھنے کی آج بڑی ہمت کر کر کے پوچھ رہا ہوں کیونکہ رمضان قریب ہے ۔

براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ صحیح طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی نماز کو گھر اور گھر میں بھی اندرونی حصہ میں ادا کرنے کو  افضل قرار دیا ہے۔لہذا شریعت کی رو سے عورتوں   کے لیے جماعت کے ساتھ  نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جانا یا گھر سے باہر  کسی بھی جگہ جاکر باجماعت نماز میں شرکت کرنا مکروہ ہے، خواہ فرض نماز ہو یا  عید کی نماز ہو یا تراویح  کی جماعت ہو۔ لہذا بصورتِ مسئولہ آپ اپنی گھریلو خواتین کو مذکورہ مسجد یا بنات کے مدرسہ میں دورانِ رمضان باجماعت تروایح کے لیےنہ بھیجیں،بلکہ وہ خواتین اپنے گھر میں ہی نمازوں کا اہتمام کریں یہی شریعت کا حکم ہے اور اسی میں ان کے لیے زیادہ ثواب ہے ۔علماء کی نگرانی کو بنیاد بنا کر یا جید عالم کی امامت کو پیش نظر رکھ کر یا کسی دوسرے مقصد کی بناء پر خواتین کا اپنے گھروں سے وہاں مدرسہ میں  باجماعت تراویح کی ادائیگی کے لیےجانا شرعاً درست نہیں ہے۔

نیز اگرعورتوں کو مذکورہ تراویح کی جماعت میں عورت ہی امام بنائی جاتی ہو تو اِس میں مزید خرابی اور گناہ لازم آتا ہے، کیوں کہ عورتوں کی کسی عورت کو امام بنا کر نماز ادا کرنامکروہ تحریمی ہے۔

مسند احمد میں حدیثِ مبارک ہے:

" ‌عن عمته أم حميد امرأة أبي حميد الساعدي، أنها جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إني أحب الصلاة معك، قال: " قد علمت أنك ‌تحبين ‌الصلاة معي، وصلاتك في بيتك خير لك من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك، وصلاتك في دارك خير لك من صلاتك في مسجد قومك، وصلاتك في مسجد قومك خير لك من صلاتك في مسجدي "، قال: فأمرت فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها وأظلمه، فكانت تصلي   فيه حتى لقيت الله عز وجل .."

 (مسندالنساء، رقم الحديث:27090، ج:45، ص: 37، ط:مؤسسة الرسالة)

ترجمہ: "حضرت امّ حمید رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے، مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھری میں کمرے کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرے کی نماز گھر کے احاطے کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے احاطے کی نماز محلے کی مسجد سے بہتر ہے، اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ: حضرت اُمِ حمید رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد سن کر اپنے گھر کے لوگوں کو حکم دیا کہ گھر کے سب سے دُور اور تاریک ترین کونے میں ان کے لیے نماز کی جگہ بنادی جائے، چنانچہ ان کی ہدایت کے مطابق جگہ بنادی گئی، وہ اسی جگہ نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جاملیں۔"

 اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے:

"لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌ما ‌أحدث ‌النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل."

(صحيح البخارى، كتاب الأذان،‌‌باب خروج النساء إلى المساجد بالليل والغلس، رقم الحديث:ج:1، ص:173، ط:دارطوق النجاة)

ترجمہ:" عورتوں نے جو نئی روش اختراع کرلی ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اس کو دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجد سے روک دیتے، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔"

مشکاۃ شریف میں ہے:

"وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "صلاة ‌المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها . رواه أبو داود."

(كتاب الصلوة، ‌‌باب الجماعة وفضلها، رقم الحديث:1063 ج:1، ص:334، ط: المكتب الإسلامى)

ترجمہ:حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں صحن کے بجائے کمرے کے اندر زیادہ افضل ہے ، بلکہ کمرے کے بجائے (اندرونی ) کوٹھری میں زیادہ افضل ہے ۔

إعلاء السنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت   ہے:

"عن علي ابن أبي طالب انه قال لا تؤم المرأة."

 

(باب کراهة جماعة النساء، ج:4، ص:242، ط: إدارۃ القرآن)

فتاوی شامی میں ہے :

"(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان."

(کتاب الصلاۃ، ‌‌باب الإمامة ج: 1، ص: 566، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے :

"(قوله ولا يحضرن ‌الجماعات) لقوله تعالى {وقرن في بيوتكن} [الأحزاب: 33] وقال صلى الله عليه وسلم "صلاتها في قعر بيتها أفضل من صلاتها في صحن دارها وصلاتها في صحن دارها أفضل من صلاتها في مسجدها وبيوتهن خير لهن"ولأنه لا يؤمن الفتنة من خروجهن أطلقه فشمل الشابة والعجوز والصلاة النهارية والليلية قال المصنف في الكافي والفتوى اليوم على الكراهة في الصلاة كلها لظهور الفساد."

(کتاب الصلاۃ ، باب الإمامة ج: 1 ص: 380 ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والفتوى اليوم على الكراهة في ‌كل ‌الصلوات لظهور الفساد. كذا في الكافي وهو المختار. كذا في التبيين".

 

(كتاب الصلوة، الباب الخامس  في الإمامة، الفصل الخامس في بيان مقام الإمام و الماموم ، ج:1، ص:89، ط: دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

" ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت،(قوله ‌ويكره ‌تحريما) صرح به في الفتح والبحر (قوله ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضا أو نفلا."

 

(كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:1، ص:565، ط :سعيد)

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:

مستورات کا مسجد میں جاکر نماز تراویح کے جماعت میں شریک ہونا مکروہ ہے

عوتوں کی امامت کا حکم

فقط واللہ اعلم بالصواب


فتویٰ نمبر : 144707101922

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں