بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مجبوری میں بینک سے سود پر قرضہ لینا


سوال

مجبوری میں بینک سے قرضہ  لینے کی صورت میں سود،   ادا کرنا کیا یہ جائز ہے؟

جواب

سودی  قرضہ  لینا   اور دینا دونوں حرام ہیں، اس پر  قرآن  و  احادیث  میں سخت  وعیدات وارد ہوئی ہیں، لہذا سود پر قرضہ لینے  سے اجتناب لازم ہے، سائل نے  مجبوری کا مطلقاً ذکر کیا ہے، نوعیت کی  چوں کہ وضاحت نہیں کی ہے، لہذا متعینہ طور پر اس کا حکم بتلانا  مشکل ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ مجبوری اور مجبوری کے بغیر گناہ میں فرق ہے۔اگر کسی کو ایسی  سخت مجبوری اور محتاجی لاحق  ہو  جائے کہ گزارے  کی  کوئی صورت نہ ہو   اور  بغیر سود کے کہیں سے  قرض نہ مل رہا ہو تو ایسی مجبوری میں سود پر قرضہ لینے کی گنجائش ہوگی، اس صورت میں گناہ سود  پر قرض دینے والے کو ہوگا۔  فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

مجبوری کی صورت میں سودی قرضہ / بینک سے لون لینا


فتوی نمبر : 144206200882

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں