بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا B4U میں پیسے انویسٹ کرنا جائز ہے؟


سوال

کیا B4U میں پیسے انویسٹ کرنا جائز ہے؟

جواب

مذکورہ کمپنی کے کاروبار کا مکمل طریقہ، و منافع کی تقسیم کا طریقہ کار و شرائط اب تک مکمل طور پر واضح نہیں ہے، البتہ اس کمپنی کی ویب سائٹ سے حاصل شدہ معلومات اور دیگر ذرائع سے دست یاب معلومات کے مطابق اس کا حکم درج ذیل ہے:

1- چوں کہ مذکورہ ادارہ کرپٹو کرنسی میں کاروبار کرتا ہے، اور مذکورہ کرنسی پاکستان و دنیا کے بیشتر ممالک میں تاحال غیر تسلیم شدہ ہے، لہذا اس میں سرمایہ کاری کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

2- مذکورہ کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے پر کمپنی دوقسم کے پیکج دیتی ہے:

1: فکس منافع میں آپ کا منافع فکس ہوگا۔ 2: آپ کامنافع فکس نہیں رہتا، کم بھی اور زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔

بصورتِ مسئولہ پہلی صورت جس میں منافع متعین ہوتا ہے،  وہ بہر صورت جائز نہیں۔

 اور دوسری صورت کے بارے میں حکم یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کو چوں کہ پاکستان میں قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، تاحال اس کرنسی کا معاملہ ہی  مشکوک ہے، اور ابھی تک علماء نے اس کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں دی ہے، پس جب تک مذکورہ کمپنی کے تمام پہلو مکمل واضح نہ ہو جائیں، اس وقت تک  دوسری قسم (یعنی جس میں منافع متعین نہیں ہوتا) میں بھی انویسٹمنٹ کرنے سے   اجتناب کیا جائے،  کیوں کہ صرف منافع فکس نہ ہونے سے منافع حلال نہیں ہوتا، بلکہ دیگر شرعی حدود و شرائط کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ لہذا اس کمپنی میں پیسے انویسٹ کرنا جائز نہیں ہے۔

3- اگر انویسٹر کے توسط سے لگنے والوں کے بعد ان کے توسط سے کاروبار میں لگنے والوں کی وجہ سے بھی پہلے انویسٹر کو اجرت یا کسی عنوان سے رقم دی جاتی ہے تو یہ مزید قباحت ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

(وكون الربح بينهما شائعًا) فلو عين قدرًا فسدت.

(كتاب المضاربة، ج:5، ص:648، ط:ايج ايم سعيد)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

وعن النعمان بن بشير - رضي الله عنهما - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: " «الحلال بين والحرام بين، وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب» ". متفق عليه.

(باب الكسب وطلب الحلال، ج:5، ص:1891، ط:دار الفكر.بيروت)

 مزید  تفصیل کے لیے دیکھیے:

B4u میں انویسٹمنٹ کرنا

b4u کمپنی میں انوسٹ کرنے کا حکم


فتوی نمبر : 144201201292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں