بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکے کا نام البَرّ رکھنا کیسا ہے ؟


سوال

لڑکے کانام”  البَرّ “  رکھنا کیسا ہے ؟ اکثر سننے میں آتا ہے کہ اکیلا ” البَرّ“  نام رکھنا درست نہیں،  ” عبد البَرّ “  رکھنا چاہیے۔  اس مسئلہ  کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ البَرّ (با پر زبر اور راء پر تشدید کے ساتھ) لفظ ” برر“  کے مادہ سے نکلا ہے، جس کے معنی نیکی، سچائی اور احسان کے ہیں۔ البَرّ مصدر  اور صفتِ مشبہ  ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کے معنی ہیں: بہت زیادہ نیکی کرنے والا، بے حد احسان کرنے والا۔

اللہ تعالیٰ کے وہ صفاتی نام جن کا استعمال  قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں صرف اللہ ربّ العزّت ہی کے لیے مخصوص  طورپرہواہے، ان  کو کسی انسان کے لیے بطورِ نام رکھنا جائز نہیں، جیسے: رحمٰن، رزّاق، غفّار، الصمد،البتہ اگر ان ناموں کے ساتھ ” عبد“  یا اس جیسا کوئی لفظ ملا دیا جائے تو نام رکھنا جائز ہو جاتا ہے، جیسے: عبدالرحمٰن، عبدالرزّاق، عبدالغفّار، عبدالصمد،اور اللہ تعالیٰ کے وہ صفاتی نام جن کا استعمال قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اللہ ربّ العزّت کے علاوہ دیگر افراد کے لیے بھی وارد ہوا ہے، جیسے: رؤوف، رحیم، کریم، ایسے صفاتی ناموں کو بندوں کے نام کے طور پر رکھنا جائز ہے، اور ان کے ساتھ ” عبد“  یا کوئی دوسرا لفظ ملانا  ضروری نہیں۔ چنانچہ رؤوف، رحیم، کریم، البَرّ وغیرہ نام رکھے جا سکتے ہیں۔

نیز یہ کہ ” البَرّ“  بھی اللہ تعالیٰ کے ان  صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے، جو اللہ ربّ العزّت کے علاوہ دوسرے افراد کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثالیں احادیثِ مبارکہ میں موجود ہیں، اور یہ لفظ عرفِ عام میں بھی نیک اور صالح لوگوں کے لیے بطورِ اچھی صفت استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں لڑکے کا نام صرف ” البَرّ"“ رکھنا جائزتو ہے،  البتہ  اللہ تعالی ٰ کےصفاتی نام  کی طرف نسبت کرتے ہوئے” عبد“  کے ساتھ ملا کر "عبدُ البَرّ "رکھنا بہتر ہے۔

قرآن مجید میں ہے : 

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ  اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ  {سورة الطور:28}

ترجمہ : ہم پہلے سے پکارتے تھے اس کو بیشک وہی ہے نیک سلوک والا مہربان۔ ( معارف القرآن )        

معارف القرآن میں  مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ  اس مسئلے کے تفصیل میں لکھتے ہیں:

" اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام دو طرح کے ہیں: پہلی قسم:وہ نام ہیں جوقرآن و حدیث میں غیراللہ کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے بھی۔ غنی، حق، حمید، طاہر، جلیل، رحیم، رشید، علی، کریم، عزیز وغیرہ کا استعمال قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ بندوں کے لیے بھی ہواہے؛ لہٰذا ایسے صفاتی نام بندوں کے لیے بھی رکھے جاسکتے ہیں، اور ان ناموں کے ساتھ عبد لگانا ضروری نہیں۔ دوسری قسم:وہ نام ہیں جوقرآن و حدیث میں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور غیراللہ کے لیے ان کا استعمال ثابت نہیں ہے۔ "رحمن، سبحان، رزّاق، خالق، غفار " قرآن وسنت میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے لیے نہیں آتے؛ لہٰذا ان ناموں کے ساتھ کسی کا نام رکھنا ہو تو ان کے ساتھ "عبد" کا لفظ ملانا ضروری ہے، جیسے: عبدالرحمن، عبدالسبحان، عبدالرزاق، عبدالخالق، عبدالغفار وغیرہ۔ بعض لوگ لاعلمی یا لاپروائی کی بنا پر عبدالرحمن کو رحمٰن، عبدالرزاق کو رزّاق، عبدالخالق کو خالق، عبدالغفار کو غفار کہہ کر پکارتے ہیں، ایسا کرنا ناجائز اور  گناہِ کبیرہ ہے، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں ہوتا۔‘‘

(ماخوذ از تفسیر معارف القرآن ،ج:4،ص:132،مکتبہ معارف القرآن )

صحيح مسلم  میں ہے: 

" ... وقالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول "هجاهم حسان فشفى واشتفى". قال حسان:

  هجوت محمدا فأجبت عنه    وعند الله في ذاك الجزاء 

     هجوت  محمدا  ‌برا   ‌تقيا  رسول الله  شيمته  الوفاء   

فإن أبي  ووالده  وعرضي    لعرض  محمد  منكم  وقاء

(  باب فضائل حسان بن ثابت، رضي الله عنه، ج: 4، ص: 1936، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت )

شعب الإيمان  میں ہے: 

[22] "البر" وهو المريد لإعزاز أهل الولاية. " البر ": ورد في القرآن كاسم لله تعالى مرة في سورة الطور (52/ 28). قال الحليمي: ومعناه الرفيق بعباده يريد بهم اليسر، ولا يريد بهم العسر ويعفو عن كثير من سيئاتهم، ولا يؤاخذهم بجميع جناياتهم، وبِحزيهم بالحسنة عشر أمثالها، ولا يجزيهم بالسيئة إلا مثلها، ويكتب لهم الهم بالحسنة، ولا يكتب عليهم الهم بالسيئة. والولد البر بابيه هو الرفيق به، المتحري لمحابه، المتوقي لمكارهه. 

وقال الخطابي: البر هو العطوف على عباده، المحسن إليهم، عم بره جميع خلقه، فلم يبخل عليهم برزقه، وهو البر باوليائه، إذ خصهم بولايته واصطفاهم لعبادته، وهو البر بالمحسن في مضاعفة الثواب له: والبر بالمسئ في الصفح والتجاوز عنه. (شأن الدعاء 89 - 90).

وقال الحليمي: وقد قيل إن البر في صفات الله تعالى هو الصادق من قولهم:"بر في يمينه، وأبرها إذا صدق فيها أو صدقها،. راجع " الأسماء والصفات " (91 - 93) و" المنهاج " (1/ 204). وكلام الحليمي الأخير ذكره المؤلف في "الأسماء والصفات" وهو غير موجود في "المنهاج" المطبوع الموجود بين أيدينا. وقال المؤلف في "الاعتقاد": هو المحسن إلى خلقه، عمهم برزقه، وخص من شاء منهم بولايته ومضاعفة الثواب له على طاعته، والتجاوز عن معصيته (ص: 27)."

( ومن أسامي صفات الذات ما يعود إلى الإرادة، ج: 1، ص: 232، ط: مكتبة الرشد )

فتاوی شامی میں ہے :

"‌وجاز ‌التسمية ‌بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية.( قوله ‌وجاز ‌التسمية ‌بعلي إلخ ) الذي في التتارخانية عن السراجية التسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة إلخ، ومثله في المنح عنها وظاهره الجواز ولو معرفا بأل ..."

( كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 417، ط: سعید )

جمهرة أنساب العرب لابن حزم  میں ہے: 

" ولد عبد العزيز بن مروان بن الحكم: عمر، أمير المؤمنين،الخليفة الفاضل ‌البَّرّ ‌التَّقيّ رضى الله عنه؛ أمه: أمّ عاصم بنت عاصم بن عمر بن الخطّاب."

 ( وهؤلاء ولد عبد العزيز بن مروان، ص: 105، ط: دارالمعارف، ) 

تهذيب اللغة  میں ہے: 

" بر: قال الليث: البر: خلاف البحر. ... قال: والعرب تستعمله في النكرة، تقول: جلست برا، وخرجت برا. قلت: وهذا من كلام المولدين، وما سمعته من فصحاء العرب البادية... والبر من صفات الله: العطوف الرحيم اللطيف الكريم. حدثنا عبد الله وعروة، قالا: حدثنا محمد بن منصور الخراز، قال: حدثنا سفيان، عن شمر، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( الحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة ) ."

( الجزء: 15، ص: 134، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت )

جامعہ کی ویب سائیٹ پر یہ عنوان ملاحظہ فرمائیں:

اللہ کے کن صفاتی نام کے ساتھ عبد لگانا ضروری ہے ؟  

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101087

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں