
اگر میں آپ کو بچے کی پیدائش کی تاریخ ، وقت اور دن بتاؤں؛ تو آپ بتاسکتے ہیں کہ بچے کا نام کس حرف سے رکھ سکتے ہیں ؟
واضح رہے شریعتِ مطہرہ نے مسلمانوں کو اپنے بچوں کے اچھے نام رکھنے کا حکم دیاہے اور اس کو والدین پر اولاد کا حق قرار دیا ۔چنانچہ جن ناموں کے معنی اچھے نہیں ہیں ان کو رکھنے سے منع بھی کیا، خود رسول اللہ ﷺ نے بہت سے بچوں اور بڑوں کے ایسے نام جن کے معنی اچھے نہیں ہوتے ان کو تبدیل کرکے اچھے معنی والے نام رکھ دیے؛ لہذا نام کے اچھا اور بامعنی ہونے کا انسان کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اچھے نام رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
البتہ صورت مسئولہ میں پیدائش کے دن اور تاریخ کا حساب کرکے یا ستاروں کی مناسبت سے نام رکھنے کا اہتمام کرنا اور اس سے نام کا انسانی شخصیت پر بھاری ہونا یا اس کے اچھا اثر ہونے کا عقیدہ رکھنا یہ خلافِ شریعت عقائد میں سے ہے، یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں ہے، ایسی کوئی بات شریعت سے ثابت نہیں ہے۔
یہ بھی ملحوظ رہے کہ نام کے اچھا یا برا ہونے کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ نام پسند آجائے، بلکہ اچھا ہونے کی بنیاد شریعت کی نظر میں اس نام کا اچھا ہونا ہے، فقہاءِ کرام فرماتے ہیں کہ بچوں کا ایسا نام رکھنا جو اللہ نے اپنے بندوں کا نہیں لیا اور نہ اس کو رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا اور نہ اس کو مسلمانوں نے استعمال کیا ہو یعنی مسلمانوں کا اس نام کے رکھنے کا تعارف نہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ ایسا نام نہ رکھا جائے۔
لہذا نام رکھنے کا ادب یہ ہے کہ اس میں نیک لوگوں کی نسبت ملحوظ ہو مثلاً انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمانوں کے نام پر ہو، یا وہ اچھا بامعنی لفظ ہو، اور اس نام سے اسلامی تشخص جھلکتا ہو۔
نیز ہماری ویب سائٹ کے سر ورق پر اسلامی ناموں کے سیکشن میں حروف تہجی کی ترتیب سے لڑکوں اور لڑکیوں کے منتخب نام موجود ہیں، جنس اور حرف منتخب کرکے نام کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ جس کا لنک درج ذیل ہے:
https://www.banuri.edu.pk/islamic-name/?cat=Larkon-k-Mana-k-Aytibar-se-Achay-Naam
حدیث مبارکہ میں ہے :
"وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه»".
(مشکاۃ المصابیح، کتاب النکاح، ج:2، ص:939، ط:المکتب الاسلامی)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"و في الفتاوى: التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده و لا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم و لا استعمله المسلمون تكلموا فيه، و الأولى أن لايفعل، كذا في المحيط."
(کتاب الکراہیۃ، الباب الثانی والعشرون، ج:۵، ص:۳۶۲، ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101694
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن