
کیا ایک عورت کے لیے پاکستان کی افواج (آرمی، نیوی یا ایئر فورس) میں ملازمت کرنا شرعاً جائز ہے؟ واضح رہے کہ ایسی ملازمت میں باقاعدہ ٹریننگ بھی شامل ہوتی ہے، جس میں جسمانی مشقیں اور بعض اوقات مردوں کے ساتھ مشترکہ ماحول (mixed environment) بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی عورت مکمل پردہ برقرار رکھتے ہوئے ایسی ملازمت اور ٹریننگ کرے تو کیا اس کے لیے یہ جائز ہوگا؟ اگر جائز ہے تو کن شرائط کے ساتھ؟ اور اگر ناجائز ہے تو اس کی تفصیل سے وضاحت فرما دیں!
صورتِ مسئولہ میں خواتین کا ضرورتًا فوج میں خدمات انجام دینا اور اس کے لیے تربیت لینا درست ہے، بشرطیکہ نامحرم مردوں کے ساتھ غیر ضروری اختلاط نہ ہو اور کسی قسم کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:
عورتوں کے لیے فوج کے مختلف شعبوں میں ملازمت اختیار کرنے کا حکم
صحیح البخاری میں ہے:
"عن الربيع بنت معوذ قالت:كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نسقي ونداوي الجرحى، ونرد القتلى إلى المدينة."
ترجمہ:حضرت ربیع بنت معوذؓ فرماتی ہیں:ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (غزوات میں) جاتی تھیں، پانی پلاتے تھیں، زخمیوں کا علاج کرتی تھیں اور شہداء کی میتیں مدینہ واپس لاتی تھیں۔"
(کتاب الجہاد، باب غزوات النساء، باب مداواة النساء الجرحى في الغزو، ج3، ص1056، رقم:2726، ط:دار ابن كثير)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"قال: حدثني حشرج بن زياد ، عن جدته أم أبيه، أنها خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة خيبر سادس ست نسوة، فبلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبعث إلينا فجئنا فرأينا فيه الغضب فقال: مع من خرجتن؟ وبإذن من خرجتن؟ فقلنا: يا رسول الله، خرجنا نغزل الشعر، ونعين به في سبيل الله، ومعنا دواء للجرحى، ونناول السهام ونسقي السويق، فقال: قمن حتى إذا فتح الله عليه خيبر أسهم لنا، كما أسهم للرجال. قال: فقلت لها: يا جدة، وما كان ذلك؟ قالت: تمرا."
ترجمہ:حشرج بن زیاد اپنی دادی (امِّ ابیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ خیبر میں نکلی، ہم چھ عورتیں تھیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے ہمیں بلا بھیجا۔ ہم حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ کے چہرے پر ناراضی کے آثار تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تم کس کے ساتھ نکلی ہو؟ اور کس کے اذن سے نکلی ہو؟ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! ہم اون کاتنے، اللہ کے راستے میں مدد کرنے، زخمیوں کے لیے دوائیں لے جانے، تیر پکڑانے اور لوگوں کو ستو پلانے کے لیے نکلیں ہیں، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:جاؤ۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح فرما دیا تو ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا، جیسے مردوں کو دیا گیا،راوی کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے پوچھا: وہ حصہ کیا تھا؟انہوں نے فرمایا: کھجوریں۔"
(کتاب الجہاد، باب في المرأة والعبد يحذيان من الغنيمة، ج3، ص26، رقم:2729، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي)
الادب المفرد ميں ہے:
"حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا ابن الغسيل، عن عاصم بن عمر، عن محمود بن لبيد قال: لما أصيب أكحل سعد يوم الخندق فثقل، حولوه عند امرأة يقال لها: رفيدة، وكانت تداوي الجرحى، فكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا مر به يقول: كيف أمسيت؟ وإذا أصبح: كيف أصبحت؟ فيخبره."
(باب: كيف أصبحت؟، ص: 385، ط: دار البشائر۔بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ولأن النساء أمرن بالقرار في البيوت فكان مبنى حالهن على الستر، وإليه أشار النبي صلى الله عليه وسلم حيث قال (كيف يفلح قوم تملكهم امرأة)."
(باب الإمامة، مطلب في شروط الإمامة الكبرى ، ج1، ص548، ط:سعید )
البحر الرائق میں ہے:
"فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ."
(کتاب الصلوٰۃ، باب شروط الصلوٰۃ، ج1، ص275، ط:دار الكتاب الإسلامي)
"الموسوعة الفقهية الكويتية"میں ہے:
"اختلاط الرجال بالنساء: يختلف حكم اختلاط الرجال بالنساء بحسب موافقته لقواعد الشريعة أو عدم موافقته، فيحرم الاختلاط إذا كان فيه:
أ - الخلوة بالأجنبية، والنظر بشهوة إليها.
ب - تبذل المرأة وعدم احتشامها.
ج - عبث ولهو وملامسة للأبدان كالاختلاط في الأفراح والموالد والأعياد، فالاختلاط الذي يكون فيه مثل هذه الأمور حرام، لمخالفته لقواعد الشريعة.
قال تعالى:{قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم} . . . {وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن}.
و قال تعالى عن النساء:{ولا يبدين زينتهن}وقال:{إذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب}. و يقول النبي صلى الله عليه وسلم: لا يخلون رجل بامرأة فإن ثالثهما الشيطان و قال صلى الله عليه وسلم لأسماء بنت أبي بكر يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن يرى منها إلا هذا وهذا وأشار إلى وجهه وكفيه ... و يجوز الاختلاط إذا كانت هناك حاجة مشروعة مع مراعاة قواعد الشريعة."
(اختلاط، ج:2، ص:290-291، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100128
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن