بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1448ھ 26 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کے لیے فوج کے مختلف شعبوں میں ملازمت اختیار کرنے کا حکم


سوال

پاکستان کی مسلح افواج میں ہماری خواتین مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں، یہ خدمات نہ صرف عمومی حالات میں انجام دی جاتی ہیں بلکہ جنگ کے مواقع پر بھی خواتین اپنا کردار ادا کرتی ہیں، ان شعبہ جات میں خواتین کی شمولیت کا شرعی جائزہ درکار ہے، خصوصاً ان شعبوں کے حوالے سے جہاں مرد و خواتین کا اختلاط ہوتا ہے یا مردوں سے براہِ راست واسطہ پڑتا ہے۔

خواتین پاکستان آرمی کی میڈیکل کور میں بطورِ ڈاکٹر، نرس یا پیرا میڈیکل اسٹاف مختلف آرمی ہسپتالوں میں کام کرتی ہیں، جن میں مرد مریضوں کا علاج بھی شامل ہوتا ہے، اسی طرح ایجوکیشن کور میں خواتین فوجی تعلیمی اداروں میں مرد و خواتین کی مشترکہ تدریس و تربیت کا حصہ بنتی ہیں، سگنلز، آئی ٹی اور کمیونیکیشن جیسے شعبہ جات میں بھی خواتین مرد اہلکاروں کے ساتھ براہِ راست کام کرتی ہیں، آرمی پبلک اسکولز اور کالجز میں تدریسی عمل میں شرکت، پی ایچ ڈی اور انتظامی امور کی انجام دہی، اور بعض اوقات مرد افسران کے ماتحت کام کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔

پاکستان ایئر فورس میں خواتین جی ڈی (فائٹر پائلٹ) کی حیثیت سے جنگی مشن کا بھی حصہ بن سکتی ہیں۔ ایئر ڈیفنس اور انجینئرنگ کے شعبوں میں مردوں کے ساتھ مل کر سسٹمز پر کام کرتی ہیں۔ ہوائی اڈوں پر ہسپتالوں میں مرد مریضوں کا علاج، تعلیم و انتظامی ذمہ داریاں بھی ان کے فرائض میں شامل ہیں۔

پاکستان نیوی میں خواتین نیول ایجوکیشن سروس میں تدریسی فرائض انجام دیتی ہیں۔ اگرچہ فی الوقت انہیں جنگی جہازوں یا آبدوزوں میں شامل نہیں کیا جاتا، لیکن وہ نیول ہیڈ کوارٹرز اور دیگر دفتری امور میں مرد افسران کے ساتھ یا ان کے ماتحت کام کرتی ہیں۔

جنگ کے مواقع پر خواتین ڈاکٹرز، نرسز، انجینیئرز اور دیگر فنی شعبہ جات میں فرنٹ لائن یا بیس کیمپس پر اپنی خدمات انجام دیتی ہیں۔ ان تمام تفصیلات کے پیش نظر راہنمائی مطلوب ہے کہ:

کیا ان شعبہ جات میں خواتین کا کام کرنا شرعاً جائز ہے؟خصوصاً ان جگہوں پر جہاں مردوں سے براہِ راست واسطہ یا اختلاط ہو۔اور کیا ان حالات کو شرعی مجبوری قرار دیا جا سکتا ہے، بالخصوص جنگ کے موقع پر؟اورکیا بعض شعبہ

جات ایسے ہیں جہاں خواتین کا کام کرنا مطلقاً جائز ہے، اور بعض ایسے ہیں جن میں ناجائز یا مکروہ قرار دیا جا سکتا ہے؟

  ان امور کی شرعی حیثیت واضح  کر دیں!

جواب

جواب سے پہلے چند تمہیدی باتوں کا جاننا ضروری ہے:

1۔شریعت مطہرہ نے ایک مضبوط اور بہتر خاندانی نظام مرتب کرنے کے لیے  گھر اور خاندان سے متعلق اندرونی اور بیرونی امور کی تقسیم کر دی ہے، خانگی اور گھریلو معاملات کی ذمہ داری اور دیکھ بھال عورت کے اور بیرونی معاملات کی ذمہ داری مرد کے حوالے کی۔

قرآن کریم  میں ہے:

"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ."(سورة النساء: 34) 

ترجمہ :"مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال پھر جو عورتیں نیک ہیں سو تابعدار ہیں نگہبانی کرتی ہیں پیٹھ پیچھے اللہ کی حفاظت سے ۔"

(ترجمہ شیخ الہند  از تفسیر عثمانی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کے شوہر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان گھریلو   امور کی تقسیم فرما ئی تھی،  اندرونی معاملات مثلاًکھانا پکانا، گھر کی صفائی ستھرائی وغیرہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اور خارجی معاملات مثلاً معاش وغیرہ حضرت  علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ لگائے۔

2۔ گھریلو معاملات کی مندرجہ بالاتقسیم کے باوجود  ضرورت پڑنے پر مرد گھر کے اندرونی معاملات اور عورت بیرونی معاملات انجام دے سکتی ہے، لیکن گھر سے باہر عورت کو مختلف قسم کے فتنوں کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے،  اسی لیے شریعت نے اسے پردے کے ساتھ نکلنے اور مردوں کے ساتھ غیر ضروری اختلاط سے بچنے کی تاکید کی ہے،نیز اسے حکم دیا کہ وہ   ہر اس عمل سے دور رہے جس کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔

3۔زندگی کے بعض شعبے اور امور    ایسے ہیں کہ خواتین ہی کے ذریعے ان کی انجام دہی کی ضرورت ہوتی ہے،مثلاً طب کا شعبہ ہے،  جس میں خواتین کے علاج معالجے کے لیے خاتون طبیبہ اور متعلقہ خاتون عملے کی ضرورت ہوتی ہے،اور خواتین کی  تعلیم و تربیت  کے شعبے میں بھی بسا اوقات خاتون معلمہ کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح سے بہت سی ضروریات  و امور ایسے ہیں جن میں ان کی ضرورت رہتی ہے۔ایسے شعبوں کے لیے معاون خواتین اس وقت میسر آسکتی ہیں  جب ان شعبہ جات کا باقاعدہ قیام ہو ،اور  ان میں خواتین کی باقاعدہ تعلیم و تربیت ہو۔

 لہذا صورتِ مسئولہ  میں مسلح افواج میں خواتین کا اُن شعبوں میں شرائط کے ساتھ خدمات انجام دینا جائز ہے  جہاں شعبے کو خواتین کی ضرورت ہو، لہذا خاتون کے لیے فوج میں بطورِ ڈاکٹر،  نرس، یا پیرامیڈیکل اسٹاف کی خدمت انجام دینا درست ہے،تاہم عمومی حالات میں عورت مردوں کا علاج نہ کرے، لیکن اگر مجبوری ہو اور مرد طبیب میسر نہ ہو تو عورت کے لیے مردوں کے علاج کرنے کی گنجائش ہو گی، جیساکہ  غزوۂ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ  کی رگ کٹ گئی اور ان کی حالت نازک ہو گئی  تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہیں علاج کی غرض سے ایک صحابیہ حضرت رفیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے گئے، جو زخمیوں کا علاج کیا کرتی تھیں۔

نیز خواتین کے لیے  پردے کے احکامات کے ساتھ فوج کے ذکر کردہ شعبوں کے ساتھ وابستہ ہونا جائز ہے، بشرطیکہ نامحرم مردوں کے ساتھ غیر ضروری اختلاط نہ ہو اور کسی قسم کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔

اسی طرح جنگ کے موقع پر بھی خواتین کے لیے  ضرورتًا فوج میں خدمات انجام دینا درست ہے، تاہم ان کی عزت اور ناموس کے تحفظ کی خاطر انہیں براہِ راست دشمن کے مدِ مقابل لانے سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن الربيع بنت معوذ قالت:كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نسقي ونداوي الجرحى، ونرد القتلى إلى المدينة."

ترجمہ:حضرت ربیع بنت معوذؓ فرماتی ہیں:ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (غزوات میں) جاتی تھیں، پانی پلاتے تھیں، زخمیوں کا علاج کرتی تھیں اور شہداء کی میتیں مدینہ واپس لاتی تھیں۔"

(کتاب الجہاد، باب غزوات النساء، باب مداواة النساء الجرحى في الغزو، ج3، ص1056،رقم:2726، ط:دار ابن كثير)

سنن ابی داؤد میں ہے:

"قال: حدثني حشرج بن زياد ، عن جدته أم أبيه،  أنها خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة خيبر سادس ست نسوة، فبلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبعث إلينا فجئنا فرأينا فيه الغضب فقال: مع من خرجتن؟ وبإذن من خرجتن؟ فقلنا: يا رسول الله، خرجنا نغزل الشعر، ونعين به في سبيل الله، ومعنا دواء للجرحى، ونناول السهام ونسقي السويق، فقال: قمن حتى إذا فتح الله عليه خيبر أسهم لنا، كما أسهم للرجال. قال: فقلت لها: يا جدة، وما كان ذلك؟ قالت: تمرا."

ترجمہ:حشرج بن زیاد اپنی دادی (امِّ ابیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ خیبر میں نکلی، ہم چھ عورتیں تھیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے ہمیں بلا بھیجا۔ ہم حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ کے چہرے پر ناراضی کے آثار تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تم کس کے ساتھ نکلی ہو؟ اور کس کے اذن سے نکلی ہو؟ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! ہم اون کاتنے، اللہ کے راستے میں مدد کرنے، زخمیوں کے لیے دوائیں لے جانے، تیر پکڑانے اور لوگوں کو ستو پلانے کے لیے نکلیں ہیں، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:جاؤ۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح فرما دیا تو ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا، جیسے مردوں کو دیا گیا،راوی کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے پوچھا: وہ حصہ کیا تھا؟انہوں نے فرمایا: کھجوریں۔"

(کتاب الجہاد، ‌‌باب في المرأة والعبد يحذيان من الغنيمة، ج3، ص26، رقم:2729، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي)

الادب المفرد ميں ہے:

"حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا ابن الغسيل، عن عاصم بن عمر، عن محمود بن لبيد قال: لما أصيب أكحل سعد يوم الخندق فثقل، حولوه عند امرأة يقال لها: رفيدة، ‌وكانت ‌تداوي ‌الجرحى، فكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا مر به يقول:  كيف أمسيت؟ وإذا أصبح:  كيف أصبحت؟  فيخبره."

(‌‌باب: كيف أصبحت؟، ص: 385، ط: دار البشائر۔بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولأن النساء أمرن بالقرار في البيوت فكان مبنى حالهن على الستر، وإليه أشار النبي صلى الله عليه وسلم حيث قال (كيف يفلح قوم تملكهم امرأة)."

(باب الإمامة، مطلب في شروط الإمامة الكبرى ، ج1، ص548، ط:سعید )

البحر الرائق میں ہے:

"‌فإنا ‌نجيز ‌الكلام ‌مع ‌النساء ‌الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ."

(کتاب الصلوٰۃ، باب شروط الصلوٰۃ، ج1، ص275، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100861

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں