بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ہینڈ سینیٹائزر میں الکوحل کا حکم


سوال

ہینڈ سینیٹائزر  جس کے اجزاءِ  ترکیبیہ میں الکحل بھی شامل ہوتا ہے، کیا اسے ہاتھوں پر لگانے کے بعد  ہاتھ پاک رہتے ہیں؟  اور کیا اسے لگانے کے بعد نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

الکحل کی دو قسمیں ہیں:

(1) ایک وہ جو منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب سےحاصل کی گئی ہو،  یہ بالاتفاق ناپاک  وحرام ہے، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت ناجائز ہے۔

(2) دوسری  وہ جو مذکورہ  بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے بشر ط یہ کہ نشہ آور نہ ہو۔ عام طور پر ادویات ، پرفیوم اور دیگر مرکبات  میں جو الکحل استعمال ہوتی ہے وہ انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ  دیگر اشیاء سے بنائی جاتی ہے، لہذا  کسی چیز  کے بارے میں جب تک  تحقیق سے ثابت  نہ ہوجائے کہ اس  میں  پہلی قسم (منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب )سے حاصل شدہ الکحل ہے ، اس وقت تک اس کے استعمال کو  ناجائز اور حرام نہیں کہہ سکتے،  تاہم اگر احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

 انگوراور کھجور  کے علاوہ  دیگر ذرائع سےحاصل شدہ  ایتھائل الکحل کا استعمال ذاتی استعمال کی صنعت  کی خارجی استعمال کی مصنوعات   میں جائز ہے،  مثلاً ٹوتھ پیسٹ، خوشبویات  ہاتھ صاف  کرنے کی چیزیں، ذاتی استعمال کی دیگر اشیاء وغیرہ ، جب کہ ان ہی مصنوعات میں اگر انگور  یا کھجور سے حاصل شدہ  ایتھائل الکحل استعمال ہو تو ان کا استعمال جائز نہیں ہے۔

         عام طور پر HAND  SANITIZER میں جوالکحل استعمال ہوتی ہے وہ انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ  دیگر اشیاء سے بنائی جاتی ہے، لہذا ہینڈ سینیٹائزر  کا استعمال  کرنے کے بعد نماز پڑھنا جائز ہے۔

ہاں اگر کسی ہینڈ سینیٹائزر کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ اس  میں  انگور اور کھجور سے حاصل شدہ  ایتھائل الکحل کا استعمال  کیا گیا  ہے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 452)
(قوله ومفاد كلامه) حيث صرح بأن نجاسة الباذق كالخمر وسكت عن هذين، ويبعد أن يقال تركه هنا اعتمادا على ما مر فتأمل (قوله واختار في الهداية أنها غليظة) فيه نظر. ونص ما في الهداية: ونجاستها خفيفة في رواية وغليظة في أخرى اهـ. وعبارته في الدر المنتقى أحسن مما هنا، حيث قال: ومختار السرخسي الخفة في الأخيرين وإن قال في الهداية بالغلظة في رواية اهـ وعبارته في باب الأنجاس هكذا. وفي باقي الأشربة روايات التغليظ والتخفيف والطهارة، رجح في البحر الأول، وفي النهر الأوسط اه

 

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.

و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع". (كتاب الأشربة، حكم الكحول المسكرة، ٣/ ٦٠٨، ط: مكتبة دار العلوم) فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144107200735

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں