بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گندم کو مہنگے داموں فروخت کرنے کے لیے اسٹاک کرنا


سوال

گزشتہ سال گندم کی قیمت فی من 2400روپے تھی ،تو اس وقت میں نے 50 من اسٹاک کرکے رکھ دی ،پھر آٹھ ماہ بعد جب اس کی قیمت بڑھ کر فی من 4500سو روپے ہوگئی تو میں نے گندم  بیچ  دی ،جس میں مجھے 90ہزار کانفع ہوا،کیا یہ نفع میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟کیا ایسا کاروبا ر کرنا کہ جب گندم سستی ہو  تو اسے خرید کررکھا جائےاور جب  مہنگا ہو جائے اسے بیچ دیا جائے ،کیا یہ شرعا درست ہے؟

جواب

وہ غذائی اجناس جس کی لوگوں کو ضرورت ہو،اور اس کی ذخیرہ اندوزی قلت کا باعث ہو ، اور بازار میں دستیاب نہ ہوتو ایسا کرنا شرعا ممنوع ہے،بصوررت دیگر ممنوع نہیں ،لہذا  صورت مسئولہ میں قیمت کے بڑھنے کی امید پر  گندم ودیگر غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کرنے سے اگر گندم بازار میں آسانی سے دستیاب ہو تو درست ہے، نفع حلال ہے، اور اگر اس وجہ سے گندم بازار میں دستیاب نہ ہو تو ایسا کرنا درست نہیں ہو گا، اس سے اجتناب کرنا لازم ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

''(و) كره ( احتكار قوت البشر ) كتين وعنب ولوز ( والبهائم ) كتبن وقت ( في بلد يضر بأهله ) لحديث "الجالب مرزوق والمحتكر ملعون"، فإن لم يضر لم يكره.

 قوله ( وكره احتكار قوت البشر ) الاحتكار لغة: احتباس الشيء انتظارا لغلائه والاسم الحكرة بالضم والسكون كما في القاموس،  وشرعا: اشتراء طعام ونحوه وحبسه إلى الغلاء أربعين يوما؛ لقوله عليه الصلاة والسلام "من احتكر على المسلمين أربعين يوما ضربه الله بالجذام والإفلاس"، وفي رواية "فقد برىء من الله وبرىء الله منه"،قال في الكفاية: أي: خذله، والخذلان ترك النصرة عند الحاجة اه، وفي أخرى"فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين،لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا"، الصرف النفل والعدل الفرض، شرنبلالية عن الكافي وغيره. وقيل: شهرا، وقيل: أكثر. وهذا التقدير للمعاقبة في الدنيا بنحو البيع والتعزير، لا للإثم؛ لحصوله وإن قلت المدة. وتفاوته بين تربصه لعزته أو للقحط والعياذ بالله تعالى، در منتقى مزيدا. والتقييد بقوت البشر قول أبي حنيفة ومحمد، وعليه الفتوى، كذا في الكافي. وعن أبي يوسف كل ما أضر بالعامة حبسه فهو احتكار،وعن محمد الاحتكار في الثياب، ابن كمال. '' 

(كتاب الحضر والإباحة ، فصل في البيع ، ج:6 ، ص :398 ، ط : سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

'‌'الاحتكار ‌مكروه وذلك أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع من بيعه وذلك يضر بالناس كذا في الحاوي، وإن اشترى في ذلك المصر وحبسه ولا يضر بأهل المصر لا بأس به''

(فصل في الاحتكار، ج : 3  : 213 ، ط :  رشيدية)

درر الحكام شرح غرر الأحكاممیں  ہے:

'' (و) كره (احتكار قوت البشر والبهائم في بلد يضر بأهله)

قوله: وكره احتكار قوت البشر والبهائم) والاحتكار حبس الطعام للغلاء افتعال من حكر إذا ظلم ونقص وحكر بالشيء إذا استبد به وحبسه عن غيره وتقييده بقوت البشر والبهائم قول أبي حنيفة ومحمد وعليه الفتوى.

وقال أبو يوسف كل ما أضر بالعامة حبسه فهو احتكار وإن كان ذهبا أو فضة أو ثوبا كذا في الكافي.''

(كتاب الكراهية والاستحسان،فصل احتكار قوت البشر والبهائم،ج:  1 ، ص : 321، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں