بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا طلاق دینے سے پہلے بیوی کو جائیداد میں سے حصہ دینا ضروری ہے ؟


سوال

میرا ذاتی مکان ہے،میں گھریلو کچھ مسائل کی وجہ سے گھر چھوڑ کر تین سال سے کسی دوسری جگہ رہ رہا ہوں۔ اب میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں، جہاں میرا ذاتی گھر ہے اس جگہ کی کمیٹی  والےکہہ رہے ہیں کہ یہ جو تمہارا ذاتی مکان ہے جس میں  بیوی اور بقیہ اولاد  رہتی ہے اس کو  بیچو اور بیوی، اولاد کو زندگی میں ان کا حصہ دے دو۔ 

میرا سوال یہ ہے کہ کیا اپنی بیوی سے الگ ہونے سے پہلے میرے لیے ضروری ہے کہ مکان بیچ کر اپنی بیوی کو زندگی میں حصہ دوں ؟ واضح رہے کہ پورا مکان میرا ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی بیوی اور بچوں کو تحفے کے طور پر کچھ دینا چاہے، اور اس میں اس کی دلی خوشی شامل ہو، تو ایسا کرنا جائز ہے، ضروری نہیں۔ البتہ اس صورت میں اولادکے درمیان برابری کا خیال رکھنا ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں سائل نے ذکر کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہونا چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں سائل کے لیے یہ  ضروری نہیں کہ وہ اپنا مکان بیچ کر بیوی اور بچوں کو زندگی ہی میں کوئی حصہ دےاور نہ کوئی شخص اس کو مجبور کر سکتا ہے۔ البتہ اگر مہر ابھی تک ادا نہیں کیا تو وہ ادا کرنا لازم ہو گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے :

’’(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق۔ أي لوجود الشقاق .‘‘

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج : 3 ، ص : 441 ، ط : سعید )

     شرح المجلۃ میں ہے:

"لایجوز لأحد  أن یاخذ  مال أحد  بلا سبب شرعي".

 ( المادۃ : 97، ج : 1، ص : 264، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں