
ایک کمپنی میں دو ملازم کام کرتے ہیں ،ان میں سے ایک ملازم کمپنی کو دھوکہ دے رہا ہے، مطلب خیانت کر رہا ہے تو دوسرے ملازم کے لیے کیا حکم ہے، کیا وہ مالک کو بتانے کا جواز رکھتا ہے یا وہ کیا کرے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے پاس مذکورہ ملازم کی خیانت کا واضح ثبوت موجود ہے، تو سب سے پہلے سائل کو چاہیے کہ اسے نرمی اور خیرخواہی کے ساتھ سمجھائے کہ وہ اس طرح خیانت کرکے مالک کو نقصان نہ پہنچائے، تاکہ وہ دنیاوی سزا سے بھی بچ جائے اور خیانت جیسے گناہ میں مبتلا ہونے سے بھی محفوظ رہے۔ اگر وہ کسی صورت سمجھانے پر آمادہ نہ ہو، تو ایسی حالت میں سائل کے لیے مالک کو آگاہ کرنا چاہیے، تا کہ دونوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ ہو،اور اگر صرف اطلاع ہو اور اس کی تصدیق اور ثبوت نہ ہو، تو بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
الاختيار لتعليل المختار میں ہے:
"ولا غيبة لظالم يؤذي الناس بقوله وفعله، ولا إثم في السعي به إلى السلطان ليزجره ولا غيبة إلا لمعلومين.
(ولا غيبة لظالم يؤذي الناس بقوله وفعله) ؛ قال عليه الصلاة والسلام: «اذكروا الفاجر بما فيه لكي تحذره الناس» (ولا إثم في السعي به إلى السلطان ليزجره) لأنه من باب النهي عن المنكر ومنع الظلم."
(كتاب الكراهية،فصل في الكلام،ج:4،ص:180،ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100527
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن