
مسلم شریف کی حدیث ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں چادر کے اوپر سے مباشرت کیا کرتے تھے۔ حدیث کی وضاحت فرما دیجیے۔
حیض کی حالت میں شوہر کے لئے اپنی بیوی کے تمام بدن سے ملاعبت و استمتاع جائز ہے، سوائے بیوی کی ناف تا گھٹنے تک کے حصہ سے بغیر کسی حائل کے استمتاع کی اجازت نہیں ،نیز حائل کے ساتھ تمام بدن سے استمتاع جائز ہے،اور یہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل تھا کہ جب امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن میں سے کسی کی ماہواری شروع ہوجاتی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناف تا گھٹنے تک کے حصہ کو چھپانے کا حکم صادر فرمادیتے، اور باقی بدن سے استمتاع حاصل کرتے۔
مباشرت کا معنی ہوتا ہے، بغیر حائل کے جسم کو جسم سے مس کرنا (لگانا) جیسا کہ معجم الرائد میں ہے:
"باشر - مباشرة و بشارا - (فعل) باشر : امرأته : لامست بشرته بشرتها".
مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن عائشة قالت: كنت أغتسل أنا والنبي صلى الله عليه وسلم من إناء واحد وكلانا جنب وكان يأمرني فأتزر فيباشرني وأنا حائض وكان يخرج رأسه إلي وهو معتكف فأغسله وأنا حائض".
ترجمہ:"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں اور نبی کریم ﷺ دونوں جنابت کی حالت میں ایک برتن سے نہالیا کرتے تھے۔میں ایام سے ہوتی ،تو آپ ﷺ مجھے ارشاد فرماتے،جب میں تہہ بند باند لیتی،تو آپﷺ مجھ سے اپنے بدن لگا کر لیٹ جایا کرتے تھے،اور آپ اعتکاف میں ہوتےاور اپنا سر مبارک (مسجد سے) باہر نکال دیتے تو میں اپنے ایام کی حالت میں آپﷺ کا سر مبارک دھویا کرتی تھی۔"
(كتاب الطهارة، باب الحیض، ج:1، ص:171، ط:المكتب الإسلامي)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"(وعن عائشة رضي الله عنها، قالت: كنت أغتسل أنا والنبي) : بالرفع على العطف للفصل، وروي بالنصب على أنه مفعول معه، وفي نسخة: رسول الله بالوجهين صلى الله عليه وسلم من إناء واحد) : على عادة العرب من وضع ظرف كبير مملوء من الماء، ثم يغترفون منه ويتناوبون (وكلانا) : الواو للحال (جنب) : الإفراد باعتبار لفظ كلا وهو أفصح من التثنية لمعناه (وكان) : عليه الصلاة والسلام (يأمرني) : أي: بالاتزار اتقاء عن موضع الأذى (فأتزر)...والمعنى: فأعقد الإزار في وسطي، وهذا يدل على جوازالاستمتاع بما فوق الإزار دون ما تحته، وبه قال أبو حنيفة ومالك والشافعي في قوله الجديد، ولعل قوله عليه الصلاة والسلام كان رخصة وفعله عزيمة ; تعليما للأمة، فإنه أحوط، فإن من يرتع حول الحمى يوشك أن يقع فيه (فيباشرني) : أي: يضاجعني، فيلامس، وتمس بشرته بشرتي فوق الإزار (وأنا حائض) : جملة حالية، وهو بلا هاء ; لاختصاصه بالمؤنث، وقد تلحقه الخ."
(كتاب الطهارة، باب الحیض، ج:2، ص:493، ط:دار الفكر بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144010200901
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن