بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض معاف کر دینا


سوال

اگر کوئی  اپنا قرض دلی خوشی سے معاف کردے تو کیا معاف ہوجاتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر قرض دینے والا بخوشی مقروض کو قرض کی ادائیگی سے بری کر دے اور مقروض بری کرنے کو رد بھی نہ کرے تو قرض معاف ہوجائے گا۔

شرح مجلة الأحكام العدليةمیں ہے:

’’الْمَادَّةُ (١٥٦٨): لَايَتَوَقَّفُ الْإِبْرَاءُ عَلَى الْقَبُولِ، وَلَكِنْ يَرْتَدُّ بِالرَّدِّ؛ فَلِذَلِكَ لَوْ أَبْرَأَ أَحَدٌ آخَرَ فَلَايُشْتَرَطُ قَبُولُهُ، وَلَكِنْ إذَا رَدَّ الْإِبْرَاءَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ بِقَوْلِهِ: لَاأَقْبَلُ الْإِبْرَاءَ يَكُونُ ذَلِكَ الْإِبْرَاءُ مَرْدُودًا. يَعْنِي لَايَبْقَى لَهُ حُكْمٌ. لَكِنْ لَوْ رَدَّهُ بَعْدَ قَبُولِ الْإِبْرَاءِ فَلَايَرْتَدُّ الْإِبْرَاءُ‘‘. (١/ ٣٠٦)  فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144007200447

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں