
ایک بندہ پردیس میں کام کر رہا ہے۔ گرمی انتہائی شدت کی ہوتی تھی۔ اگر وہ کام پر نہ جاتا تو تین افراد کا کام متاثر ہوتا تھا، اس وجہ سے وہ کام پر جاتا رہا۔ اس نے دو یا تین رمضانوں میں مختلف ایام کے روزے نہیں رکھے ہیں، اور وہ رات ہی سے یہ نیت کر لیتا تھا کہ میں کل روزہ نہیں رکھوں گا۔ اس طرح تقریباً 38 روزے اس سے چھوٹ گئے ہیں۔
اب وہ ان روزوں کی قضا کرنا چاہتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اس پر صرف قضا لازم ہے یا کفارہ سمیت قضا کرنا ہوگی؟
اگر کسی شخص کی رات ہی سے یہ نیت ہو کہ وہ کل کا روزہ نہیں رکھے گا اور پھر وہ روزہ نہ رکھے تو اس پر صرف اس روزے کی قضا لازم ہے، کفارہ لازم نہیں ہے،البتہ رمضان کا روزہ بلا عذرِ شرعی جان بوجھ کر چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔،اگرچہ اس کی قضا سے ذمہ ساقط ہو جاتا ہے، لیکن اس کی روحانی برکتیں اور اس روزے کا جو خاص اجر و ثواب تھا وہ حاصل نہیں ہو سکتا، بلکہ انسان عمر بھر بھی قضا روزے رکھے تو اس اصل فضیلت و برکت کی تلافی نہیں ہو سکتی،لہذا صورت مسئولہ میں اس بندے پر صرف قضاء ہے ، کفارہ لازم نہیں ہےآیندہ روزوں کا اہتمام کرے، اور اگر روزہ رکھنا مشکل ہو تو ڈیوٹی کا وقت تبدیل کر لے، یا اس کے علاوہ کوئی دوسرا کام تلاش کرے جس سے روزوں پر کوئی اثر نہ پڑے۔ تاہم اگر دوسرا کام ملنے میں رکاوٹیں ہوں تو روزہ رکھ کر کام پر جائے، پھر اگر روزہ پورا کرنا انتہائی مشکل ہو جائے تو اسے توڑ دے، اور بعد میں اس کی قضا کرلے۔
سنن ترمذی میں ہے:
"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أفطر يوما من رمضان من غير رخصة ولا مرض، لم يقض عنه صوم الدهر كله، وإن صامه"
(أبواب الصوم، باب ما جاء في كفارة الفطر في رمضان، ج:2، ص:219، ط:دار الرسالة العالمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا أصبح غير ناو للصوم ثم نوى قبل الزوال ثم أكل فلا كفارة عليه كذا في الكشف الكبير."
(كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج:1، ص:206، ط:دار الفكر بيروت)
البنایۃشرح الہدایہ میں ہے:
"(ومن أصبح غير ناو) ش: أي حال كونه غير ناو م: (للصوم فأكل لا كفارة عليه عند أبي حنيفة رحمه الله) ش: سواء أكل قبل الزوال أو بعده وكذا لو جامع، وبقول أبي حنيفة قال مالك والشافعي وأحمد رحمهم الله."
(كتاب الصوم، حكم أصبح غير ناو للصوم فأكل، ج:4، ص: 99، ط:دار الكتب العلمية بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101947
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن