
میرے پاس 2022 سے 46.48 گرام (3/87تولہ )سوناموجود ہے ،اس کے علاوہ کوئی چاندی یااضافی رقم موجود نہیں ہے۔
میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ چونکہ اب چاندی اور سونے کی قیمت میں پیش بہااضافہ ہوچکاہے توکیا مجھ پر اپنے سونے کی زکاۃ اور قربانی کی کچھ ادائیگی فرض ہوئی ہے ؟
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے پاس صرف 3/87 تولہ سونا موجودہے ،اس کے علاوہ کوئی چاندی اور اضافی رقم موجود نہیں ہے تو سائلہ پر زکاۃ واجب نہیں ہے ۔
نیز اگر قربانی کے ایام میں سائلہ کے پاس اس سونے کے علاوہ چاندی ، نقد رقم یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد کوئی سامان بھی موجود نہ ہو، کہ ان سب کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کو پہنچتا ہو، تو قربانی واجب نہیں ہوگی۔البتہ اگر قربانی کے ایام میں اس سونے کے ساتھ اگر چاندی، یا نقد رقم یا مال تجارت ، یا ضرورت سے زائد گھریلو اتنا سامان موجود ہو کہ ان سب کی مجموعی رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچتی ہو تو اس صورت میں سائلہ پر قربانی واجب ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال."
(کتاب الزکات،فصل من کان لہ ذہب مفرد ،ج:2،ص:18،ط:دارالکتب العلمیۃ)
فتاوی شامی میں ہے:
"على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها."
(کتاب الزکاۃ،ج:2،ص:262،ط،سعید)
وفیہ ایضاً:
"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى)."
"(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا."
(کتاب الاضحیۃ،ج:6،ص:312،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100558
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن