
تین بندوں نے پچاس ہزار کا جانور خریدا قربانی کی نیت سے، دو اور بندے آگئے ساتھ میں ،اب پہلے والا جانور بیچ کر ساٹھ ہزار میں دوسرا خریدا اب پہلے والے تین بندوں کے حصے کی رقم کم ہوگئی۔ مہربانی فرما کر مفصل جواب دیجئے
مذکورہ تین لوگوں نے اگر جانور خریدتے وقت یہ نیت کی تھی کہ ہم بعد میں مزید لوگوں کو بھی اپنے ساتھ اس جانور میں شریک کریں گے تو پھر اس صورت میں پہلا جانور بیچ کر دوسرا جانور خریدنے اور اس میں مزید دو افراد کو شریک کرنے کی وجہ سے اگر ان کے حصے کی رقم کم ہوگئی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ تینوں افراد صاحب نصاب ہوں، لیکن اگر جانور خریدتے وقت ان کی نیت کسی اور کو اس جانور میں شریک کرنے کی نہیں تھی اور اب پہلا جانور بیچ کر دوسرا جانور خریدنے اور اس میں مزید دو افراد کو شریک کرنے کی وجہ سے ان کے حصے کی رقم کم ہوگئی ہے تو جتنی رقم کم ہوئی ہے اتنی رقم صدقہ کردینی چاہیے۔
الفتاوى الهندية (5/ 304)
’’ولو اشترى بقرة يريد أن يضحي بها، ثم أشرك فيها ستة يكره ويجزيهم؛ لأنه بمنزلة سبع شياه حكما، إلا أن يريد حين اشتراها أن يشركهم فيها فلا يكره، وإن فعل ذلك قبل أن يشتريها كان أحسن، وهذا إذا كان موسرا، وإن كان فقيرا معسرا فقد أوجب بالشراء فلا يجوز أن يشرك فيها، وكذا لو أشرك فيها ستة بعد ما أوجبها لنفسه لم يسعه؛ لأنه أوجبها كلها لله تعالى، وإن أشرك جاز، ويضمن ستة أسباعها، وقيل في الغني: إنه يتصدق بالثمن‘‘۔
الفتاوى الهندية (5/ 294)
’’ رجل اشترى شاة للأضحية وأوجبها بلسانه، ثم اشترى أخرى جاز له بيع الأولى في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -، وإن كانت الثانية شرا من الأولى وذبح الثانية فإنه يتصدق بفضل ما بين القيمتين؛ لأنه لما أوجب الأولى بلسانه فقد جعل مقدار مالية الأولى لله تعالى فلا يكون له أن يستفضل لنفسه شيئا، ولهذا يلزمه التصدق بالفضل قال بعض مشايخنا: هذا إذا كان الرجل فقيرا فإن كان غنيا فليس عليه أن يتصدق بفضل القيمة، قال الإمام شمس الأئمة السرخسي الصحيح أن الجواب فيهما على السواء يلزمه التصدق بالفضل غنيا كان أو فقيرا؛ لأن الأضحية وإن كانت واجبة على الغني في الذمة فإنما يتعين المحل بتعيينه فتعين هذا المحل بقدر المالية لأن التعيين يفيد في ذلك‘‘۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144010201187
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن