بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن حائضہ عورت کا غسل کرنے کا حکم


سوال

 اکثر دیہات میں کچھ بزرگ خواتین کہتی ہیں کہ حائضہ عورت کو جمعہ کے دن غسل نہیں کرنا چاہیے کیا یہ درست ہے؟ 

جواب

 واضح رہے کہ جب کوئی عورت ماہواری سے پاک ہوجائے،تو  پاکی کے بعد دن یا رات میں اور ہفتے کے ایام میں سے کسی بھی دن میں غسل کرنا عورت کے لیے جائز ہے، شرعاً کسی وقت کی تخصیص یا کسی دن میں غسل سے ممانعت نہیں ہے؛ اس لیے جمعہ سمیت ہر دن غسل کر نا جائز ہے۔

فتاوی  ہندیہ  میں ہے:

"(ومنها) وجوب الاغتسال عند الانقطاع. هكذا في الكفاية.

إذا مضى أكثر مدة الحيض وهو العشرة يحل وطؤها قبل الغسل مبتدأة كانت أو معتادة ويستحب له أن لا يطأها حتى تغتسل. هكذا في المحيط".

(کتاب الطھارۃ، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحكام الحيض، ج:1، ص:39، ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100611

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں