بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زیادہ مہر کے مطالبے کا حکم/مہر کی مقدار/ناچ گانے ڈانس کا حکم/لڑکے لڑکی کی شادی کی عمر/لڑکے لڑکی کا زبردستی نکاح کرانے کا حکم


سوال

1-شادیوں  میں سونے کا ایک دو تولہ  حق مہر مقرر کرنا پھر ان کا مطالبہ کرنا ،جس کی وجہ سے بندہ قرض لے کر کے سونا دلواتا ہے اور اسی قرضے کو ادا کرنے میں کئی سال گزر جاتے ہیں کیسا ہے؟

2-شادی کے موقع پر ناچ گانا ،ڈانس ،آتش بازی  کو منسلک کرنا کیسا ہے ؟

3-امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حق مہر کی مقدار کتنی ہے ؟

4-لڑکی یا لڑکے کی زبردستی شادی کروانا کیسا ہے اور رشتہ نہ دینے کی صورت میں اس کےساتھ دشمنی کرنا کیسا ہے؟

5-لڑکے اور لڑکی کے لئے شادی کی عمر کیا ہے؟

جواب

1-مہر کوئی یک طرفہ چیز نہیں کہ لڑکی والے جو کچھ کہہ دیں، وہی مہر بن جائے؛ بلکہ مہر کی تعیین لڑکے اور لڑکی دونوں  کی رضامندی پر موقوف ہے، اگر لڑکی والوں کی طرف سے بہت زیادہ مہر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو لڑکے کو چاہیے کہ صاف الفاظ میں کہہ دے کہ وہ اتنا مہر دینے کی استطاعت نہیں رکھتا، بلکہ اتنا ہی دے سکے گا۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم یعنی 2 تولہ ساڑھے 7 ماشہ جو تقریباً 30.618 گرام چاندی بنتی ہے  اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ، باہمی رضامندی سے جتنا بھی مقرر  کیا جائے شرعاً جائز ہے ۔

البتہ درمیانی درجے  کا مہر مہرِ فاطمی ہے جس کی مقدارایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی ہے، اور گرام کے حساب سے 1.5309 کلو گرام چاندی یا اس کی مالیت ہے ،یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور زیادہ تر ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن کے مہرتھے ۔

لہذا ایک یا دو تولہ سونا حق مہر مقرر کرنا  زیادہ مہر میں شمار نہیں ہوتا ہے ؛کیوں کہ آج کل دو تولہ سونے کی قیمت مہر فاطمی کی مالیت سے بہت زیادہ نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہے  ،اور  ایسے صاحبِ استطاعت شوہر کے لیے مہر فاطمی مقرر کرنا مستحب ہے ، تاہم اگر شوہر مالی طور پر کمزور ہو تو اس کی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کرنا مناسب ہے ۔

البتہ، دونوں کی رضامندی سے جتنا بھی مہر(خواہ کم ہو یا زیادہ) مقرر کر لیا جائے تو وہی مہر ہے ،اور مقرر کردہ مہر دینا لازم ہوگا۔

2-اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں غم و خوشی ہر حالت کے لیے مستقل احکام دیے گئے ہیں۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ چاہے غمی ہو یا خوشی، کسی حال میں بھی دین کے احکام سے روگردانی نہ کرے۔ شادی اور خوشی کے مواقع پر ناچ گانا، ڈانس، آتش بازی جیسے افعال بذاتِ خود ناجائز اور کئی گناہوں کا مجموعہ ہیں۔ پھر ان کو خوشی کے موقع سے جوڑنا، نہ صرف گناہ ہے بلکہ اللہ کی نعمت پر ناشکری بھی ہے۔ لہٰذا، ان تمام ناجائز امور سے ہر حال میں مکمل اجتناب ضروری ہے۔

3-امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار 10 درہم ہے، جو موجودہ وزن کے اعتبار سے 2 تولہ ساڑھے 7 ماشہ یعنی تقریباً 30.618 گرام چاندی بنتی ہے۔ چونکہ چاندی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے، اس لیے مہر کی ادائیگی کے وقت مارکیٹ سے موجودہ قیمت معلوم کر لینا بہتر ہے۔ مہر کی زیادہ سے زیادہ مقدار شریعت میں مقرر نہیں کی گئی، بلکہ یہ دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی پر منحصر ہے۔ البتہ، اتنی رقم مقرر کرنا جو شوہر کی استطاعت سے باہر ہو یا محض دکھاوے کی نیت سے بہت زیادہ ہو، شرعاً نامناسب اور ناپسندیدہ ہے۔

تاہم، درمیانی مقدار جوکہ مہر فاطمی ہے وہی مقرر کرنا  صاحبِ استطاعت شوہر کے لیے مستحب ہے،جس کی مقدار اوپر گذر چکی ہے ۔

4-شریعتِ مطہرہ نے جہاں اولاد کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے والدین اور بڑوں کو اعتماد میں لے کر ان کی رضامندی سے کریں ،وہی شریعت نے والدین اور سرپرستوں کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ عاقل بالغ بچوں پر زبردستی اپنے فیصلے مسلط نہ کریں ۔

لہذا کسی بھی عاقل بالغ لڑکے اور لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی اور اجازت کے بغیر جائز نہیں ،اگر ان کی رضامندی اور اجازت کےبغیر نکاح کیا گیا تو ایسا نکاح ان کی رضامندی پر موقوف ہوگا۔ اگر وہ راضی ہو جائے اور نکاح کی اجازت دے  تو نکاح منعقد  ہوجائے گا، بصورت دیگر نکاح باطل تصور کیا جائے گا۔

اسی طرح اگر کوئی شخص کسی رشتے یا نکاح کو قبول نہیں کرتا، تو شریعت نے اسے اس کا مکمل اختیار دیا ہے۔ اس کی مثال حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعے سے ملتی ہے، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی سفارش کے باوجود  نکاح کو قبول نہیں کیا، اور شریعت نے ان پر کوئی ملامت نہیں کی۔(بخاری شریف ج:7 ،ص:48 ،ط:دار طوق النجاة - بيروت)

لہٰذا، کسی نکاح کے انکار پر دشمنی یا ناراضی رکھنا جائز نہیں،اور یہ شریعت کے عین خلاف امر ہے ۔

5-شریعت میں شادی کی کوئی مخصوص عمر مقرر نہیں۔ والدین اپنے بچوں کا نکاح بلوغت سے پہلے بھی کر سکتے ہیں، لیکن افضل یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد جلد از جلد نکاح کیا جائے۔ اگر بالغ ہونے کے بعد گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو، تو شادی کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ تاہم، اگر مناسب رشتہ نہ ملے تو کچھ تاخیر میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جب مناسب رشتہ مل جائے تو محض رسم و رواج یا غیر شرعی وجوہات کی بنا پر تاخیر کرنا جائز نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو: (1) جب نماز کا وقت ہو جائے، (2) جب جنازہ حاضر ہو، (3) جب کسی غیر شادی شدہ کا رشتہ مل جائے۔(سنن ترمذی،ج:1، ص:213، ط:دار الغرب الإسلامي - بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن عمر بن الخطاب قال: ألا لا تغالوا صدقة النساء؛ فإنہا لو کانت مکرمة في الدنیا وتقوی عند ا للہ لکان أولاکم بہا نبي اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- ما علمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکح شیئًا من نسائہ ولا أنکح شیئا من بناتہ علی أکثر من اثنتي عشرة أوقیة "

(کتاب النکاح ،باب الصداق ،ج:5، ص:2099، ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)

صحیح مسلم میں ہے:

"حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، حدثني يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، ح وحدثني محمد بن أبي عمر المكي، واللفظ له، حدثنا عبد العزيز، عن يزيد، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشاً»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجہ."

(صحیح مسلم ،کتاب النکاح ،باب الصداق، ج: 4 ،ص: 144، رقم الحدیث: 1426، ط: دارالطباعۃ العامرۃ)

ترجمہ:

’’حضرت ابوسلمہؒ سے مروی ہےکہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیاکہ رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کا مہر کتنا تھا؟ فرمایا: آپ ﷺ نے بارہ اوقیہ اورنش مہر دیا تھا، پھر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم کو معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: آدھا اوقیہ (یعنی بیس درہم) اس طرح کل مہر پانچ سو درہم ہوا؛ یہی ازواج مطہرات کا مہر تھا‘‘۔

المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج (شرح النووی)میں ہے:

"واستدل أصحابنا بهذا الحديث على أنه يستحب كون الصداق خمسمائة درهم والمراد في حق من يحتمل ذلك"

(کتاب النکاح ،باب الصداق،ج:9، ص:215 ،ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(أقله عشرة دراهم) لحديث البيهقي وغيره "لا مهر أقل من عشرة دراهم ورواية الأقل تحمل على المعجل (فضة وزن سبعة) مثاقيل كما في الزكاة (مضروبة كانت أو لا)."

(کتاب النکاح ،باب المہر،ج: 3 ،ص: 101،ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(قوله ‌وكره ‌كل ‌لهو) أي كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار، واستماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام "

(کتاب الحضر والاباحۃ ،فصل فی البیع، ج:6، ص:395،ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"أقل المهر عشرة دراهم مضروبة أو غير مضروبة حتى يجوز وزن عشرة تبرا، وإن كانت قيمته أقل، كذا في التبيين وغير الدراهم يقوم مقامها باعتبار القيمة وقت العقد في ظاهر الرواية."

(کتاب النکاح ،الباب السابع فی المہر،الفصل الاول فی بیان مقدرا لمہر ،ج:1 ،ص: 302، ط: رشیدیۃ)  

فتاوی عالمگیری میں ہے  :

"لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج."

(کتاب النکاح ،الباب الرابع فی الاولیاء فی النکاح  ،وقت الدخول بالصغیرۃ، ج:1، ص:287، ط:دار الفكر بيروت)

 قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے :

"وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ ۔"

ترجمہ:

"اور (تفصیل یہ کہ ) تمہاری (مطلقہ ) بیبیوں میں جو عورتیں (بوجہ زیادت سن کے ) حیض آنے سے مایوس ہوچکی ہیں اگر تم کو (ان کی عدّت کی تعیین میں ) شبہ ہو تو ان کی عدّت تین مہینے ہیں اور اسی طرح جن عورتوں کو (اب تک بوجہ کم عمری کے ) حیض نہیں آیا۔"(بیان القرآن)

پس اس آیت کے ذیل میں امام جصاص رحمہ اللہ  کے استنباطات   احکام القرآن للجصاص میں ملاحظہ ہوں  :

"فحكم بصحة طلاق الصغيرة التي لم تحض, والطلاق لا يقع إلا في نكاح صحيح, فتضمنت الآية جواز تزويج الصغيرة.ويدل عليه أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوج عائشة وهي بنت ست سنين۔"

(سورہ آلِ عمران ،ج:2،ص:68/69،ط:دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100717

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں