
میں نےبھول سے ظہر کی نماز میں پہلے فرض ادا کیے ،پھر دو رکعت سنت اور آخر میں چار رکعت سنت ادا کیں تو کیا میری نماز درست ہوئی یا مجھ پر قضا لازم ہے؟
سائل کو نماز میں ترتیب کا لحا ظ رکھنا چاہیے تھا،پہلے ظہر کی چار رکعت سنتیں پھر چار رکعت فرض اور پھر آخر میں دو رکعت سنتیں پڑھتا ،تاہم صورت مسئولہ میں سائل کی نماز ہوچکی ہے،سائل پراس نماز کی قضالازم نہیں۔
صحیح بخا ری میں ہے:
"عن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يدع أربعا قبل الظهر، وركعتين قبل الغداة."
(أبواب التطوع،باب:الركعتان قبل الظهر،396/1،الرقم:1127،ط:دار اليمامة)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عبد الله بن شقيق قال: سألت عائشة عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تطوعه فقالت: كان يصلي في بيتي قبل الظهر أربعا ثم يخرج فيصلي بالناس ثم يدخل فيصلي ركعتين وكان يصلي بالناس المغرب ثم يدخل فيصلي ركعتين ويصلي بالناس العشاء ويدخل بيتي فيصلي ركعتين وكان يصلي من الليل تسع ركعات فيهن الوتر وكان يصلي ليلا طويلا قائما وليلا طويلا قاعدا وكان إذا قرأ وهو قائم ركع وسجد وهو قائم وإذا قرأ قاعدا ركع وسجد وهو قاعد وكان إذا طلع الفجر صلى ركعتين. رواه مسلم."
(كتاب الصلاة،باب السنن وفضائلها،366/1،الرقم:1162،ط:المكتب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وسن) مؤكدا (أربع قبل الظهر و) أربع قبل (الجمعة."
(كتاب الصلاة،باب الوتر والنوافل،12/1،ط:دارالفکر)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
’’ظہر کی سنتیں پڑھے بغیر فرض کی امامت کرانا
سوال [۳۳۰۲] : آیا امام نماز ظہر سنتیں پڑھنے سے پہلے پڑھا سکتا ہے؟ کیا نماز ہو جائے گی نمازمیں تو کوئی حرج واقع نہ ہوگا ؟
الجواب حامداً ومصلياً :
اس صورت میں فرض ظہر ادا ہو جائیگا ،لیکن بلا عذر ایسا کرنا خلاف سنت ہے، کیونکہ ظہر کی چار سنتیں مؤکدہ ہیں اور ان کا وقت فرض سے پہلے ہے (۲) ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالی اعلم ۔
حرره العبد محمود غفر له معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور۔الجواب صحیح: بنده سعید احمد غفر له، ۔‘‘
(كتاب الصلاة،باب السنن والنوافل،197/7،ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144603101916
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن