
"ضحیٰ" نام رکھنا یا پھر "گیروا" نام رکھنا کیسا ہے؟"
"ضحی" کا معنی ہے سورج کی روشنی، یہ نام رکھنا درست ہے۔
"گیروا" یہ اردو کا لفظ ہے اور اس کا معنی ہے: لال رنگ والا، گہرا گلابی، معنی کا لحاظ سے یہ اچھا نام نہیں ہے اور مسلمانوں میں مستعمل بھی نہیں ہے، لہٰذا یہ نام نہ رکھا جائے۔
المعجم الوسیط میں ہے:
"(الضحى) ضوء الشمس وارتفاع النهار."
(المعجم الوسيط، ج:1، ص:535، ط:دار الدعوة)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط."
(كتاب الكراهية، ج:5، ص:362، ط:دار الفكر)
فیروز اللغات میں ہے:
"گیروا: لال رنگ کا، گیرد کے رنگ کا، گہرا گلابی۔"
(فیروز اللغات، ص:1137)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100779
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن