
میں نے اپنی بیٹی کا نام اجوہ رکھا تھا ، اور عقیقہ بھی اسی نام سے کیا تھا، لیکن کچھ دنوں کے بعد نام تبدیل کر کےضحیٰ رکھ دیا تھا ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی اس کو اپنے انداز سے پکارتا ہے ۔ کوئی عربی میں (دوحا-Doha) کوئی ( زوہا-Zoha) تو کوئی (-ضحی Zohaa) ۔ اس لیے گزارش ہے کہ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں ۔ کہ ضحٰی نام رکھنا درست ہے یا نہیں ۔ اور مختلف انداز سے بولنے سے کوئی حرج تو نہیں؟
دوسرا یہ کہ عقیقہ اجوہ کے نام سے کیا تھا تو نام کی تبدیلی سے اس پر کوئی حرج تو نہیں بیٹی کی عمر3ماہ ہے۔ شکریہ
”ضُحیٰ“کے معنی ہیں: روشنی، چاشت کا وقت، نیز کسی بات کے واضح ہونے کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے، یہ نام رکھنا جائز ہے۔
گھر والے ضحٰی صحیح تلفظ سے پکارنےکا اہتمام کریں،ا ور جو افراد درست تلفظ سے نام نہ لیں،ان کو بچی کے نام کا صحیح تلفظ بتلایا جائے۔
بچی کے لیے ایک ہی مرتبہ عقیقہ کرنا کا فی ہے، نام کی تبدیلی سے عقیقہ دوبارہ کرنا لازم نہیں۔
لسان العرب میں ہے:
"الضحى من طلوع الشمس إلى أن يرتفع النهار وتبيض الشمس جدا، ثم بعد ذلك الضحاء إلى قريب من نصف النهار، قال الله تعالى: والشمس وضحاها."
(و- ي، فصل الضاد المعجمة، ج: 14، 475، ط: دار صادر)
فتاوی شامی میں ہے:
"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا."
(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 336، ط: سعید)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101179
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن