بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امامت کے فرائض سے معزول امام کو تا حیات تنخواہ دینے کا حکم


سوال

گزارش ہے کہ ہماری مسجد کے امام جو طویل عرصہ سے امامت کی خدمت انجام دے رہے تھے، ان کو چند سال پہلے ضعیف العمری اور نسیان کے باعث امامت سے باہمی رضامندی سے سبک دوش کر دیا گیا اور ان سے یہ کہا گیا تھا کہ آپ کو تا حیات ہر مہینے تنخواہ پہنچا دی جائے گی ، چنانچہ اس کے مطابق چند سالوں  سے عمل ہو رہا ہے۔

مگر چند روز پہلے بعض متعلقین کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ چوں کہ اب وہ مسجد کی کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے ہیں۔ اس لیے ان کو مسجد کے چندے سے ہر مہنے کا مشاہرہ دینا قابل غور ہے۔

آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں  رہمائی فرمائیں ۔ نیز یہ بتائیں کہ گذشتہ چند سالوں سے جو مسجد فنڈ سے ان کو مشاہرہ دیا گیا ہے اس کا کیا ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب مذکورہ امام ضعف اور نسیان کی وجہ سے امامت کی ذمہ داریوں سے رضامندی سے سبک دوش ہوگئےتھے اور مسجد کی کسی قسم کی کوئی خدمت نہیں کرتے تھے تو پھر مذکورہ امام مسجد کے چندہ سے ماہانہ تنخواہ کے مستحق نہ ماضی میں تھے اور نہ اب ہیں۔ مسجد کی انتظامیہ نے جو ان سے یہ طے کیا تھا کہ ہم آپ کو تا حیات مسجد کے چندہ سے ماہانہ تنخواہ دیتے رہیں گے، ان کا یہ طے کرنا شرعا درست نہیں تھا، مسجد انتظامیہ اس کی مجاز نہیں تھی۔ 

لہذا آئندہ کے لیے مسجد کے چندہ سے مذکورہ امام کی تنخواہ کی ادائیگی موقوف کر دیا جائے۔ مذکورہ امام کے لیے مسجد کے چندہ کے علاوہ ایک الگ چندہ کرلیا جائے جس میں دینے والوں کو وضاحت سے یہ بات معلوم ہو کہ یہ چندہ مذکورہ امام کے ساتھ تعاون کے لیے جمع کیا جارہا ہے۔اور گزشتہ سالوں میں جو مسجد کے چندہ سے ادائیگی ہوتی رہی اس ادائیگی کے کمیٹی کے لوگ ضامن ہیں، اتنی رقم کمیٹی کے افراد کو مسجد کے چندہ کو لوٹانی ہوگی۔اس کے لیے بھی یہ سبیل کی جاسکتی ہے ایک الگ چندہ کرلیا جائے جس میں چندہ دہنگان کو وضاحت سے معلوم ہو کہ مذکورہ امام کو جو ماضی میں لا علمی میں مسجد چندہ سے رقم دے گئی اس کے تدارک کے لی رقم جمع کی جارہی ہےاور یہ رقم انتظامیہ کی طرف سے مسجد کے چندہ کو لوٹا دی جائے گی۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن حدث للمتولي أفة مثل الجنون أو العمى أو الخرس فإن أمكنه مع ذلك الأمر والنهي فالأجر قائم وإن لم يمكنه ذلك لم يكن له من الأجر شيء."

(کتاب الوقف،باب خامس، ج:۲،ص:۴۲۵، دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لو استأجر المتولي أجيرا بدرهم ودانق وأجر مثله درهم فاستعمله في عمارة الوقف ونقد الأجرة من مال الوقف يضمن جميع ما نقد كذا في الظهيرية.ـ"

(کتاب الوقف،باب خامس، ج:۲،ص:۴۲۰، دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وللمتولي أن يستأجر من يخدم المسجد يكنسه ونحو ذلك بأجر مثله أو زيادة يتغابن فيها فإن كان أكثر فالإجارة له وعليه الدفع من مال نفسه ويضمن لو دفع من مال الوقف وإن علم الأجير أن ما أخذه من مال الوقف لا يحل له، كذا في فتح القدير."

(کتاب الوقف،باب حادی عشر، فصل ثانی، ج:۲،ص:۴۶۱، دار الفکر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"زید نے عرصہ دراز تک بعوض تنخواہ ایک مدرسہ میں رہ کر درس کلام پاک کی تعلیم انجام دی، اب بوجہ مسلسل بیمار و بزمانہ پیر سالی مدرسہ مذکورہ کی کسی بھی قسم کی خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ اب فرمائیے کہ اس صورت میں مدرسہ سے تنخواہ پانے کے مستحق ہوسکتے ہیں یا نہیں؟۔۔۔۔۔

الجواب حامدا و مصلیا:

۱) تنخواہ تو کام کا معاوضہ ہے، جب مدرسہ کا کوئی کام نہیں کرتے تو پھر تنخواہ کس بات کی۔"

(کتاب الوقف، باب ما یتعلق بالمدارس، فصل خامس،ج:۱۵،ص: ۵۳۹، جامعہ فاروقیہ)

خیر الفتاوی میں ہے:

"موجودہ عمومی چندہ سے پینشن دینا درست نہیں کیونکہ یہ عرف مدارس دینیہ کے خلاف ہے۔ ہاں اگر اس خاص مد کے لیے چندہ کرلیا جائےتو بلا شبہ جائز ہے۔ مدرسہ "خیر المدارس" میں بھی ایسا ضابطہ نہیں ہے۔الخ۔"

(کتاب الوقف،احکام المدارس، ج:۶، ص: ۶۳۸، ط: مکتبہ امدادیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں