بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ضعف شدید کی وجہ سے طہارت اور عبادات کے احکام


سوال

میرے دادا بہت ضعیف ہیں  اور صاحب فراش  ہیں۔اپنی پاکی اور کپڑوں کی صفائی کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں۔ طہارت  یعنی وضو پر قادر نہیں ہے۔اور نہ ہی تیمم پر صحیح طرح قادر ہیں۔ بدن کے بالوں کی صفائی پر بھی قادر نہیں ہیں۔

بھولنے کی بیماری ہے، اور چنانچہ نماز میں رکعات بھول جاتے ہیں، توان کو مستقل  یاد دہانی کرانی پڑتی ہے ،اس  سے  نماز میں فساد تو نہیں آئےگا؟ مذکورہ صفات کے حامل انسان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  پاکی کے اعتبار سے دادا سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ انہیں پیشاب پاخانہ وغیرہ کرانے کی ذمہ داری  اگر دادی حیات ہوں تو یہ ذمہ داری وہ اٹھائیں، اور دادی کے نہ ہونے کی صورت میں مذکورہ کام کوئی مرد (خواہ وہ بیٹا ہو یا کوئی نوکر ) ادا کرے ، یعنی پانی وغیرہ کا ڈالنا ، سہارا دینا یہ ذمہ داری بیٹا انجام دے اوردادا خود اپنے ہاتھ سے استنجا کریں، کوئی غیر ان کا ستر نہ دیکھے، نہ ستر چھوئے۔  اور اگر وہ اتنے ضعیف ہیں کہ خود استنجا کرنے پر قادر نہ ہوں تو اس صورت میں استنجا کا حکم ساقط ہوجائے گا۔  البتہ اگر کوئی مرد استنجا کرانا چاہے تو اپنے ہاتھ پر کوئی کپڑا یا میڈیکل گلوز پہن کر کرائے، (جس سے اعضاءِ مستورہ  کا احساس نہ ہو) بغیر حائل کے ان کے ستر کو ہاتھ نہ لگائے۔ اہلیہ اور بیٹا یا کوئی خدمت گار مرد  نہ ہو تو بیٹی یا کسی خاتون کے لیے استنجا کرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اور بھولنے کی بیماری کی وجہ سے اگر وہ واقعتاً نماز پڑھتے ہوئے رکعات  کی تعداد بھول جاتے ہیں تو ساتھ میں بیٹھے ہوئے شخص کی طرف سے رکعات کی تعداد بتانا  یا اشارہ کرناجائز ہے، ایسی صورت میں دادا کی نمازیں ادا ہوجائیں گی اور اعادے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔  

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

" لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا" (البقرة:286)

ترجمہ: ’’اللہ تعالی کسی شخص کو مکف نہیں بناتا مگر اسی کا  جو اس کی طاقت اور اختیار میں ہو۔‘‘ (از بیان القرآن: ج:1: ص:209، ط:مکتبہ رحمانیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"الرجل المريض إذا لم تكن له إمرأة ولا أمة و له إبن او أخ و هو لا يقدر علي الوضوء، قال يوضئه إبنه أو أخوه غير الإستنجاء؛ فإنه لا يمس فرجه و يسقط عنه".

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فصل في الإستنجاء، ج:1، ص:340، ط: سعيد) 

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:

"أنواع التخفيف التي تترتب على العجز:تختلف أنواع التخفيف المترتبة على العجز وذلك على الوجه الآتي:

أولا: سقوط المطلوب إن لم يكن له بدل:  إذا عجز الإنسان عن أداء المطلوب، ولم يكن له بدل فإنه يسقط، ويسمى ذلك تخفيف إسقاط، ومن أمثلة ذلك إسقاط الحج عن الفقير.

ثانيا: الانتقال إلى بدل المطلوب: إذا عجز الإنسان عن فعل المطلوب وكان له بدل فإنه ينتقل إلى البدل، كالعاجز عن استعمال الماء للوضوء أو الغسل فإنه ينتقل إلى التيمم، وقد جاء النص بذلك في قوله تعالى: {وإن كنتم مرضى أو على سفر أو جاء أحد منكم من الغائط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا}  . وكذلك من لم يقدر على القيام في الصلاة انتقل إلى القعود، ومن لم يقدر على القعود انتقل إلى الاضطجاع، ومن لم يقدر على الركوع والسجود انتقل إلى الإيماء، وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم لعمران بن حصين: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب .ومن عجز عن الصيام انتقل إلى الإطعام."

(الموسوعة الفقهية الكويتية: المادة: العجز، ج:29 ص:289، ط: وزارۃ الٲوقاف)

نفع المفتى والسائل میں ہے:

"الاسْتِفْسَارُ : مريض يشتبه عليه أعداد الركعات بسبب شدة المرض، أولنعاس يلحقه، فيلقنه غيره، هل يجزيه؟

الاسْتِبْشَارُ : يُجْزِيه؛ لأَنَّ التَّلقين من الغير، وإن كان مفسداً، لكـــن الضرورات تبيح المحظورات.في القنية»: (شم) : أي شرف الأئمةِ المَكِّي: مريض يشتبه عليه أعداد الركعات والسجداتِ لايلزمه الأداء، و لو أداها بتلقين غيره، ينبغي أن يُجزيه. (قع): أي قاضي عبد الجبار : مصل أقعد عند نفسه إنساناً ليخبره إذا سَهَـى عـن الركوع و السجود ، يُجزيه إذا لم يمكنه إلا بهذا. انتهى."

(کتاب الصلوة، باب مايتعلق بالأعذار المسقطة لأركان الصلوات، ص:374، ط: دارالفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144607101483

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں