
میری والدہ کے پاس اپنی ذاتی رقم تھی، جو میرے والد مرحوم کو وقتاً فوقتاً پلاٹ کے خریدنے کے لیے دیتی رہتی تھیں،( یہ کہہ کر کہ کل کو یہ میرے بچوں کے کام آئے)، نیز میرے والد مرحوم اپنی کمائی وغیرہ گھر کے اخراجات میں صرف کرتے تھے، اور میرے والد مرحوم نے میری والدہ کی ذاتی رقم سے پانچ عدد پلاٹ اور ایک گھر خریدا (اور اسی گھر میں ہم حالاً رہائش پذیر ہیں)، میرے والد کے انتقال کو تقریباً چھ ماہ ہو چکے ہیں۔
اب میری والدہ چاہ رہی ہیں کہ پانچ پلاٹ اور ایک گھر تمام بچوں میں شرعی طور پر تقسیم ہو ں،تو وہ کہتی ہیں کہ میں نے پانچ پلاٹوں میں سے دو پلاٹ (میرے) والد مرحوم کی حیات میں ہی مسجد کے لیے وقف کا کہاتھاکہ :"میں یہ دو پلاٹ مسجد کے لیےوقف کر چکی ہوں" ، جبکہ میرے والد اس کے حق میں نہیں تھے۔
نوٹ: ایک عدد پلاٹ کی قیمت تقریبا چھ سے سات لاکھ روپے کے درمیان ہے اور گھر کی مالیت تقریباً 70 لاکھ روپے ہے ۔
اب مذکورہ صورتحال میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
کیامذکورہ تمام پلاٹ میرے والد مرحوم کی ملکیت شمار ہو کر اب ترکہ میں شمار ہو کر ورثاء میں تقسیم کیے جائیں گے یا میری والدہ کی ملکیت شمار کیے جائیں گے؟اگر میری والدہ کی ملکیت ہیں تو میری والدہ اب مذکورہ پانچ پلاٹوں میں سے دو پلاٹ وقف شمار کر کے باقی تین پلاٹ اور ایک گھر بچوں میں تقسیم کرنے کی خواہش مند ہیں تو شرعاً تمام ورثاء میں کس تناسب سے تقسیم ہو گی؟اور اگر والد یہ پلاٹ والد کا ترکہ ہیں تو اس صورت میں ترکہ کس تناسب سے تقسیم کیا جائےگا؟
اوروالد مرحوم کے ورثاء ایک بیوہ، دو بیٹےاور چار بیٹیاں ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ جب سائل کے والد کو یہ کہہ کر پلاٹ خریدنے کے لیے رقم دیتی رہتی تھیں کہ کل کو یہ میرے بچوں کے کا م آئیں گے، اگر دی گئی تمام رقم سائل کی والدہ کی ذاتی رقم ہو اور والد کو محض خریدنے کے لیے وکیل بنایا تھا تو سائل کی والدہ کی ذاتی رقم سے خریدے گئے پلاٹ اور گھر سائل کی والدہ ہی کی ملکیت شمار کیے جائیں گے،نیز ہر انسان اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک ہوتا ہے اور اس میں اپنی مرضی سے تصرف بھی کر سکتا ہے، اورزندگی میں اگر کوئی اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتاہے تو وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے،اور ہبہ میں اولاد کے درمیان برابری ضروری ہوتی ہے،کسی شرعی بنیاد کے بغیر کسی ایک کو دوسروں پر ترجیح دینا درست نہیں ۔
لہذا صورتِ مسئولہ اگر سائل کی والدہ دو پلاٹ مسجد کے لیے وقف کر کےبقیہ جائیداد اپنی زندگی ہی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنےلئے اس قدر رکھ لیں کہ جس سے بقیہ زندگی بغیر محتاجگی کے گزار سکیں ، اس کے بعد باقی جائیداد دو بیٹوں اور چار بیٹیوں میں برابر تقسیم کریں ، بلا وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دیں ، البتہ اگر کسی کو فرمانبرداری، خدمت، دین داری یا محتاجگی کی وجہ سے زیادہ دینا چاہیں تو اس کی گنجائش ہے،تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ علیحدہ کرکے اس پر مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار بھی دے دیں ۔
جب کوئی جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی جائے تو وقف کرنے کے بعد وہ جگہ واقف (وقف کرنے والے) کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے،پھر اس جگہ کی نہ خرید و فروخت جائز ہے،اور نہ ہی اسے میراث میں تقسیم کیا جائے گا، لہذا جن دو پلاٹوں کو سائل کی والدہ وقف کرچکی ہیں وہ ان کی ملکیت سے خارج ہوچکے ہیں ۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: أكل ولدك نحلت مثله ؟قال: لا قال:فأرجعه و في رواية ...... قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم."
(باب العطایا، ج:1، ص:261، ط: قدیمی)
"ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"
(مظاہر حق،باب العطایا ،ج:3، ص: 193، ط: داراالاشاعت)
دررالحکام میں ہے:
"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره."
(دررالحکام،الباب الرابع فی بیان المسائل التی تتعلق بمدۃ الاجارۃ،ج:1،ص:559،ط: دارالجیل)
البحر الرائق میں ہے:
"وقال أبو يوسف: هو مسجد أبدًا إلى قيام الساعة لايعود ميراثًا ولايجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا، وهو الفتوى، كذا في الحاوي القدسي. وفي المجتبى: وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف، ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه ... الخ"
(کتاب الوقف ،فصل لما اختص المسجد، ج:5، ص:282،ط:دارالکتاب الاسلامی)
وفیہ ایضاً:
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم."
(كتاب الهبة،باب هبة الاب لطفله، ج:7، ص: 288، ط:دارالکتاب الاسلامی)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة."
(کتاب الھبۃ،ج:4،ص:374،ط:رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100219
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن