بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ماں کا اپنی زندگی میں زیورات اولاد کو دینا


سوال

میری ساس نے اپنابھاری زیور اپنی بیٹیوں میں تقسیم کر دیا ہے،  کیا اس میں بیٹوں کو حصّہ دینا ضروری ہے؛ کیوں کہ وہ مالی لحاظ سے بیٹوں کے مقابلے میں کم زور ہیں یا وہ اپنی مرضی سے جس کو چاہیں دے سکتی ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے اموال کا خود مالک  ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں  ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے ، نیز والد ین کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا ان  کی جائیداد /اموال میں شرعی حق  و حصہ نہیں  ہوتا،  اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل  ہوتاہے،  تاہم اگر والدین  اپنی  زندگی میں  اپنا مال  خوشی  و رضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں  تو کرسکتے ہیں، اور زندگی میں  اولاد کے درمیان جو اموال  تقسیم کیے جائیں وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتے ہیں اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ  نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیاہے،  جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی  روایت میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»". (مشکاة المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط: قدیمي)

ترجمہ:حضرت نعمان بن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟ انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)

اور صاحبِ مال  کی طرف سے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی  طریقہ یہ ہے کہ اولاًاپنے  لیے   جتنا چاہے رکھ لے، تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بقیہ مال اپنی  تمام  اولاد میں برابر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے،  نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا اور اس صورت میں ایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ کہلائے گی۔

البتہ  کسی بیٹے یا  بیٹی کو  کسی معقول وجہ کی بنا پر  دوسروں کی بہ نسبت   کچھ زیادہ  دینا چاہے تو دےسکتا ہے،  یعنی کسی کی شرافت  ودین داری یا غریب ہونے کی بنا پر  یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو  دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں   اگر آپ کی ساس نے اپنا زیور اپنی بیٹیوں کے درمیان تقسیم کیا ہے  اور بیٹے والدہ کے اس فیصلے پر  اپنی دلی خوشی سے رضامند ہیں، اور والدہ کا مقصد  بھی بیٹوں کو محروم کرنا یا نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ بیٹیوں کی مالی کم زوری کے سبب ان کی اعانت کرنامقصود ہے تو  ایسی صورت میں اس کی گنجائش ہے، گو بہتر یہ تھا کہ بیٹوں کو بھی کچھ نہ کچھ دیتیں۔ اور اگر ان میں سے کوئی بھی بات نہ پائی جائے تو پھر یہ تقسیم غیر منصفانہ ہوگی ،والدہ  (آپ کی ساس) گناہ گار ہوں گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200890

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے