
ہمارا کفن کا کاروبار ہے، بسا اوقات ہمیں مختلف مقامات سے صدقات کی مد میں کفن بھیجنے کا آرڈر آتا ہے، چوں کہ ہم بذاتِ خود صدقے کے طور پر کفن نہیں بھیج سکتے؛ اس لیے پہلے ہم کسی ایسے شخص سے رابطہ کرتے ہیں،جو مالدار اور صاحب حیثیت ہو، تاکہ وہ یہ کفن صدقات کے طور پر ہم سے خریدے ہمیں ہماری کفن کی رقم مل جائے اور جس شخص نے ہمیں صدقے کے کفن بھیجنے کا کہا تھا، اس تک کفن بھی پہنچ جائیں، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے، جس صاحب حیثیت شخص سے ہم صدقے کی مد میں کفن خریدنے کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ صدقہ کی بجائے زکاۃ کی رقم سے کفن خریدنا چاہتا ہے، حالانکہ ہمیں زکاۃ کی مد میں نہیں بلکہ صدقہ کی مد میں کفن بھیجنے تھے، تو کیا ایسا کرنا ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم مالدار شخص کو زکاۃ کے پیسوں کے عوض کفن بیچ کر پھر خود ہی اس شخص کو بھیج دیں، جس نے ہمیں کفن بھیجنے کا کہا تھا؟اور جس شخص کو ہم نے زکاۃ کے پیسے لے کر کفن بھیجے ہیں وہ اس صورت میں کیا کرے گا؟ کیا وہ یہ کفن صرف ان لوگوں میں تقسیم کرے گا جو زکاۃ کے مستحق ہیں، یا ان لوگوں کو بھی دے سکتا ہے، جو نفلی صدقہ کے مصرف ہوں۔
واضح رہے کہ زکاۃ تب تک ادا نہیں ہوتی جب تک مستحق زکاۃ کی ملکیت میں نہ دے دی جائے، نیز زکاۃ کی رقم سے میت کو کفن خرید کر دینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ اگر کسی کی زکاۃ کی رقم سے کفن کسی علاقے کے لوگوں کی طرف بھیجتے ہیں اور وہ لوگ پھر کسی کے انتقال کے وقت اس کے کفن کا انتظام کرتے ہیں، تو اس سے زکاۃ دینے والے شخص کی زکاۃ ادا نہیں ہو گی۔
البتہ اگر کسی علاقہ کے لوگ غریب ہوں جن کے لیے کفن کا انتظام کرنا مشکل ہوتا ہے، تو ان کے لیے یہ ترتیب بنائی جاسکتی ہے کہ آپ زکاۃ کی رقم کے کفن اس علاقے میں بھجوا دیں،اور وہاں پر موجود معتبر لوگ وہ کفن زندہ مستحقین کی ملکیت میں دے دیں،اور مستحقین مالک ہونے کے بعد وہ کفن اپنی خوشی سے ہبہ کر دیں، اور وہ کفن کسی کے پاس رکھ لیے جائیں، پھر کسی کے انتقال کے وقت اس کے کفن کا انتظام کیا جائے تو درست ہو گا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين."
(کتاب الزکاۃ،الباب السابع في المصارف جلد 1 ص: 188 ط: دارالفکر)
وفیہ ایضاً
"إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة."
(کتاب الزکوۃ،باب السابع فی المصارف،ج:1،ص:190،ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102360
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن