
میری بیوی کے پاس تقریباً 9 تولہ سونا موجود ہے۔ زکات کے وقت میں ابھی تقریباً 6 ماہ باقی ہیں، اور میری تنخواہ میں گھریلو اخراجات بڑی مشکل سے پورے ہوتے ہیں، اگر میری بیوی اپنے سونے میں سے آدھا سونا (یعنی تقریباً 4.5تولہ) مجھے ہبہ (گفٹ) کر دے اور میں اس کا مالک و قابض بھی بن جاؤں۔تواس صورت میں بیوی کے پاس تقریباً 4.5تولہ سونا باقی رہ جائے گا، جو نصاب سے کم ہے، میرے پاس بھی تقریباً 4.5 تولہ سونا ہوگا، جو نصاب سے کم ہے،اس حالت میں کیا ہم دونوں پر زکات فرض ہوگی یا نہیں؟
نیز اگر میری بیوی یہ سونا مجھے ہبہ کر دے، تو کیا وہ اسے استعمال کر سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں محض زکوٰۃ سے بچنے کے لئے آدھا سوناشوہرکو دینا اور آدھاخود رکھناشرعاًمذموم یعنی بہت براہے،باقی سائل کی بیوی آپ کو آدھا سونادے دیتی ہے،دونوں کے پاس ساڑھے چار تولہ سوناہو،تو زکوٰۃ کے واجب ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں یہ تفصیل ہےکہ اگر بیوی کے پاس اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں کوئی نقدی یا چاندی نہ ہوتواس کی بیوی پرصرف ساڑھےچار تولہ سونے پرزکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ۔
بصورت دیگر اگر ساڑھے چار تولہ سونے کے علاوہ کوئی نقدی یا چاندی وغیرہ سائل کی بیوی کی ملکیت میں ہو، جس کی مجموعی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی)کے برابر ہو تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
جہاں تک سائل کے زکوٰۃدینے کی بات ہے تو اگر سائل کے پاس پہلے سے نصاب موجود ہے تو زکوٰۃ کا سال پورا ہونے پر مذکورہ ساڑھے چارتولہ سونے کی مالیت کو ملاکر مجموعے کی زکوٰۃادا کرنالازم ہوگا، اور اگر پہلے سے سائل صاحبِ نصاب نہیں ہے، بلکہ ساڑھے چارتولے آنے کی وجہ سےسائل صاحبِ نصاب بناہو، یعنی ساڑھے چارتولہ سونے کے علاوہ ضرورت سے زائد کچھ نقدی یا چاندی یا مالِ تجارت ملکیت میں موجود ہے، تو سائل اس صورت میں صاحبِ نصاب بن جائےگا، نصاب کا سال پورا ہونے پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی۔
نیزاگر سائل کی بیوی کا سائل کو ساڑھے چارتولہ سوناقبضہ سمیت ہبہ کرکے زکات کا وقت گزرنے کے بعد واپس لینے کی نیت نہ ہوتوایسی صورت میں سائل کی ملکیت ثابت ہوجائے گی،وہ جیسے چاہے اسے استعمال کرسکتا ہےاوراپنی بیوی کو بھی پہننے کے لئے دے سکتاہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السائمة بآخر أو أخرجه عن ملكه ثم أدخله فيه، قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير. وفي المحيط أنه الأصح.
وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا، وكذا الخلاف في حيلة دفع الشفعة قبل وجوبها.
وقيل الفتوى في الشفعة على قول أبي يوسف، وفي الزكاة على قول محمد، وهذا تفصيل حسن شرح درر البحار."
(كتاب الزكوة، ج:2، ص:284، ط:سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"قال علمائنارحمهم الله تعالى - أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة... قال الشيخ الإمام الأجل شمس الأئمة الحلواني - رحمه الله تعالى - الذي كرهها محمد بن الحسن رحمه الله والذي رخص فيها أبو يوسف - رحمه الله تعالى - فقد ذكر الخصاف - رحمه الله تعالى - الحيلة في إسقاط الزكاة وأراد به المنع عن الوجوب لا الإسقاط بعد الوجوب ومشايخنا رحمهم الله تعالى أخذوا بقول محمد - رحمه الله تعالى - دفعا للضرر عن الفقراء فإن الرجل إذا كانت له سائمة لا يعجز أن يستبدل قبل تمام الحول بيوم بجنسها أو بخلاف جنسها فينقطع به حكم الحول أو يهب النصاب من رجل يثق به، ثم يرجع بعد الحول في هبته فيعتبر الحول من وقت الرجوع والقبض ولا يعتبر ما مضى من الحول وكذا في السنة الثانية والثالثة يفعل هكذا فيؤدي إلى إلحاق الضرر بالفقراء."
(کتاب الحیل، ج:6، ص:390، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية) والعلم به ولو حكما ككونه في دارنا (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة ... (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) ... (نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه."
(کتاب الزکوٰۃ، ج:2، ص:258، ط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."
(کتاب الھبة، ج:5، ص:690، ط:سعید)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
سوال:"کوئی شخص سال آنے پراپنامال لڑکے کوہبہ کردے،پھرجب دوسراسال آنے لگے توبیٹاباپ کو ہبہ کردے،توکیاایساکرناجائزہے،اورکیایہ بھی حیلہ بازی ہے۔"
جواب:" اگراس سے مقصود یہ ہو کہ زکوۃ فرض نہ ہوتوایساکرنامکروہ ہے۔"
(کتاب الزکاۃ، ج:9، ص:340، ط: ادارۃ الفاروق کراچی)
و فیہ ایضاً:
"محض زکوۃ سے بچنے کے لیے ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔"
( ج:22، ص:295، ط: ادارۃ الفاروق)
فتاویٰ بینات میں ہے:
"اس پر قانون فقہ کی رو سے اگرچہ زکوۃ ادا کرنے کا فتوی نہیں ہوگا، لیکن زکوۃ سے بچنے کی نیت سے اس طرح مستقل طور پر حیلہ اختیار کرنا اور مال کو مال پر، دولت کو دولت پر جمع کرتے رہنا غضبِ الہی کو دعوت دینا ہے، اپنے آپ کو اور مال کو گندا کرنا ہے، دنیا میں تو اس قسم کا حیلہ اختیار کرنے سے زکوۃ بچ جائے گی، لیکن آخرت میں اس پر سخت مؤاخذہ ہوگا۔۔۔الخ"
(کتاب الزکوۃ ،ج2، ص:689 ، ط: مکتبہ بینات)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702102086
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن