
صورتِ حال یہ ہے کہ میں نے ایک مکمل پروجیکٹ خریدنے کا ایگریمنٹ اس طرح کیا ہے کہ اس میں زمین کے ساتھ ساتھ 4 عدد بیسمینٹ مع دس منزلہ عمارت مکمل فنشنگ کے ساتھ تیار بلڈنگ کا معاہدہ کیا ہے۔
چوں کہ معاہدہ ایک بڑی رقم کا تھا لہذا زمین اور تعمیرات مکمل فنشنگ کے دونوں معاہدے الگ الگ کئے جس کے لئے ایک یادداشتی مفاہمت نامہ ماہ شعبان میں کرلیا گیا ہے۔
میرا اس پروجیکٹ کو فی الحال خرید کر آگے فروخت کا ارادہ نہیں ہے۔
بلکہ ارادہ کرایہ پر دینے کا ہے،حتمی رائے اس لئے قائم نہیں کی گئی چونکہ پروجیکٹ 4 سال کی مدت کا ہے اور حالات بدلتے رہتے ہیں ،ہوسکتا ہے کہ کسی مرحلہ میں ادائیگی کی ضرورت کی وجہ سے کچھ حصہ فروخت کرنا پڑے تو اس وقت کے حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاسکے۔
چوں کہ دو علیحدہ علیحدہ معاہدے ہیں ایک زمین اور دوسرا تعمیرات جس کی وجہ اوپر ذکر کردی گئی ہے۔
اس حوالے سے رائج طریقہ کار مطابق زمین کاپہلا ابتدائی معاہدہ کرلیا جاتا ہے جسےایگریمنٹ ٹو سیل (Agreement To sell) کہا جاتا ہے اور اس میں ایڈوانس رقم اور بقایا پیمینٹ شیڈول درج ہوتا ہے، چناں چہ ہمارے ایگریمنٹ کی رو سے پیمینٹ کا ایک خطیر حصہ رمضان سے قبل ادا کردیا گیا، جو کہ زمین کے معاہدہ کا تقریبا 45فیصد بنتا ہےدوسرا حصہ عید کے بعد اپریل تک ادا ہوگا، جب کہ تیسرا حصہ اکتوبر 2026ء تک ادا ہوگا جس کے بعد پراپرٹی میرے نام ٹرانسفر ہوگی ان شاء اللہ۔
اس کے بعد جنوری 2027ء سے شیڈول کے مطابق تین سے چار سال کے دوران تعمیرات کی مد میں ادائیگی کرنی ہوگی۔
واضح رہے کہ بلڈر مجھے خالی زمین فروخت کرنے پر راضی نہیں تھا اس کی شرط تھی کہ میں ہی پورا پروجیکٹ بناکر فروخت کرونگا۔
البتہ چوں کہ ملکی کاروباری حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہ معاملہ پیسوں کے اعتبار سے ایک کافی بڑا معاملہ ہے اس لئے میں نے مستقبل میں کسی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لئے بلڈر کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ہم ایگریمنٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرلیں جب آدھی ادائیگی ہوجائے گی تو پلاٹ ٹرانسفر ہوجائے تاکہ میں بھی اپنے آپ کو محفوظ تصور کروں۔
اس ایگریمنٹ کی رو سے مجھے زکوۃ کے معاملات کی تفصیل سمجھنی ہے کہ اس صورتِ حال میں مجھ پر زکوۃ کے کیا احکامات لاگو ہونگے؟
واضح رہے میں اپنا سالانہ زکوۃ کا حساب پہلی رمضان المبارک کو کرتا ہوں، اس تفصیل کی رو سے میرے درج ذیل سوالات ہیں :
1۔جو پیسے رمضان سے قبل ادا کردئیے اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟
2۔اپریل اور اکتوبر 2026ء تک جو ادائیگی کرنی ہے کیا وہ میں اپنے اموال زکوۃ میں سے منہا کرسکتا ہوں چونکہ ایگریمنٹ ٹو سیل ہوچکا اور معاہدہ کے لحاظ سے میں اپنے اپ کو پابند تصور کرتا ہوں اور یہ واضح رہے کہ یہ رقم نقد، سونا اور پراپرٹی کی صورت میں موجود ہے جسے شیڈول کے مطابق ادائیگی کرنے کے لئے میں نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔
3۔ جنوری 2027ء سے جو شیڈول کے مطابق ادائیگی شروع ہوگی تو اگلے سال رمضان المبارک میں ایک سال کی واجب الادا قسط اموال زکوۃ میں سے منہا کرسکتا ہوں؟
دوبارہ واضح رہے یہ پروجیکٹ میں نے آگے فروخت کی نیت سے نہیں لیا ہے۔
ایک اور وضاحت ضروری ہے کہ اس مرحلے میں sale agreement عموما نہیں ہوتا کیونکہ ادائیگی قسط وار ہورہی ہوتی ہے ، لہذا اس صورتحال میں مارکیٹ پریکٹس یہ ہے کہ ابتدا agreement to sell کیا جاتا ہے،اور پوری ادائیگی کے وقت قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لئے پراپرٹی ٹرانسفر کردی جاتی ہے جس کے لئے قانونی کاغذ یعنی Sale Agreement/Sale Deed کے عمل کو مکمل کرلیا جاتا ہے.
واضح رہے کہ پورے پروجیکٹ کے 50 فیصد ادائیگی کے وقت یعنی زمین کے معاہدہ کی پوری رقم کی ادائیگی کے بعد صرف زمین کی سیل ڈیڈ بنے گی جس کے بعد زمین کی ملکیت ٹرانسفر ہوجائے گی۔
1-صورتِ مسئولہ میں سائل نے زمین کے معاہدے کے لیےجتنی رقم اپنی زکات ادا کرنے کی تاریخ سے پہلے ادا کردی شرعا اس پر کوئی زکات نہیں ہے،البتہ جو رقم نقد،سونے،اور ایسی پراپرٹی پر مشتمل ہے جس کو بیچنے کی نیت سے رکھا ہواہے وہ بھی دیگر قابل زکات اموال کے ساتھ شمار ہوکر اس پر زکات ادا کرنا سائل کے ذمہ ہوگی۔
2-زیرِ نظر مسئلہ میں اگر چہ سائل کا زمین خریدنے کا معاہدہ ہوچکا ہے،لیکن ادائیگی چوں کہ قسط وار طے ہوئی ہے،اور قسط وار ادائیگی میں صرف رواں سال کی اقساط کو منہا کیا جاتا ہے،آئندہ جو اقساط ادا کرنی ہوں ان کو منہا نہیں کیا جاتاہے؛لہذا سائل آئندہ ادا کی جانے والی اقساط کو زکوۃ میں سے منہا نہیں کرے گا۔
3- مذکورہ پروجیکٹ کی مد میں آئندہ سال جتنی رقم قسطوں کی صورت میں سائل نے ادا کرنی ہےاس کو قرض شمار کرکے رواں سال کی زکات سے منہا نہیں کرے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول.
قوله: وشرط كمال النصاب إلخ) أي ولو حكما، لما في البحر والنهر،قوله: للانعقاد) أي انعقاد السبب أي تحققه بتملك النصاب ط (قوله: للوجوب) أي لتحقق الوجوب عليه ط (قوله: فلو هلك كله) أي في أثناء الحول بطل الحول."
(کتاب الزکوۃ، باب زکاۃ المال، ج:2، ص:302، ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"والمستفاد) ولو بهبة أو إرث (وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه) فيزكيه بحول الأصل
قوله: والمستفاد) السين والتاء زائدتان: أي المال المفاد ط (قوله: ولو بهبة أو إرث) أدخل فيه المفاد بشراء أو ميراث أو وصية وما كان حاصلا من الأصل كالأولاد والربح كما في النهر."
(کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج:2، ص: 288، ط:سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة."
(کتاب الزکوۃ،الباب الأول، ج:1، ص: 172، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101310
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن