بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں بیٹی کو گھر دے کر اس کے ترکہ کے حصہ میں سے گھر کی قیمت منہا کرنا


سوال

میری اہلیہ کی والدہ اپنی زندگی میں میری اہلیہ کو گھر یا گھر خریدنے کے لیے رقم بطور ہدیہ/ہبہ دینا چاہتی ہیں، لیکن وہ یہ بات بھی کہہ رہی ہیں کہ: "یہ جو ہدیہ/ہبہ میں تمہیں دے رہی ہوں، اسے میرے ترکہ/میراث میں سے اپنے حصے میں ایڈجسٹ کروا لینا۔"

اس بارے میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1. کیا والدہ اپنی زندگی میں دیے گئے ہدیہ/ہبہ کو بعد میں اپنے ترکہ میں سے کسی وارث کے حصے میں ایڈجسٹ کرنے کی شرط لگا سکتی ہیں؟

2. اگر میری اہلیہ کو یہ گھر یا رقم ابھی ہدیہ/ہبہ کے طور پر دے دی جائے اور شرعی قبضہ و ملکیت بھی منتقل ہو جائے، تو کیا میری اہلیہ اس گھر/رقم کی مکمل مالک شمار ہوں گی؟

3. والدہ کے انتقال کے بعد کیا یہ ہدیہ/ہبہ میری اہلیہ کے میراث کے حصے سے منہا کیا جا سکتا ہے؟

4. اگر ایڈجسٹمنٹ شرعاً جائز ہو، تو ایڈجسٹمنٹ کس قیمت پر ہوگی: جس قیمت پر گھر خریدا گیا تھا، یا والدہ کے انتقال کے وقت گھر کی مارکیٹ ویلیو/سیلنگ پرائس کے حساب سے؟

5. اگر ابتدا میں یہ طے ہو جائے کہ والدہ کے انتقال کے بعد اس گھر کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے میری اہلیہ کے میراثی حصے میں ایڈجسٹمنٹ ہوگی، لیکن میری اہلیہ کچھ سال بعد اس گھر کو فروخت کر دیتی ہیں، تو پھر ایڈجسٹمنٹ کس طرح ہوگی؟

6. اگر گھر فروخت کرنے کے بعد اس کی رقم کسی اور جگہ لگا دی جائے، مثلاً دوسرا گھر، کاروبار، سرمایہ کاری، بچوں کی ضروریات، یا کسی اور مصرف میں خرچ ہو جائے، تو والدہ کے انتقال کے بعد ترکہ میں ایڈجسٹمنٹ کے لیے کون سی قیمت معتبر ہوگی؟

   اصل گھر کی خریداری قیمت؟فروخت کی گئی قیمت؟والدہ کے انتقال کے وقت اس گھر کی اندازاً مارکیٹ ویلیو؟ یا اس رقم سے جو نئی چیز خریدی گئی ہو، اس کی موجودہ قیمت؟

7. اگر گھر فروخت ہو چکا ہو اور اصل گھر موجود نہ ہو، تو کیا پھر بھی میری اہلیہ کے میراثی حصے سے وہی رقم/قیمت منہا کی جائے گی جو پہلے طے ہوئی تھی؟

8. کیا اس قسم کی شرط یا ایڈجسٹمنٹ کے لیے باقی ورثاء، یعنی دوسرے بہن بھائیوں کی رضامندی ضروری ہے؟ اور اگر بعد میں کوئی وارث اعتراض کرے تو شرعی حکم کیا ہوگا؟

9. اگر میری اہلیہ نے والدہ کی زندگی میں اس بات کو قبول کر لیا ہو کہ یہ ہدیہ/ہبہ بعد میں ان کے میراثی حصے سے ایڈجسٹ ہوگا، لیکن والدہ کے انتقال کے بعد جب ترکہ تقسیم ہونے کا وقت آئے تو میری اہلیہ اس ایڈجسٹمنٹ سے انکار کر دیں، تو کیا یہ وعدہ خلافی شمار ہوگی؟ کیا اس پر گناہ ہوگا؟ اور کیا شرعاً ان پر اس ایڈجسٹمنٹ کو پورا کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟

براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں کہ اس ہدیہ/ہبہ کی شرعی حیثیت کیا ہوگی، میری اہلیہ کی ملکیت کس حد تک ثابت ہوگی، اور بعد میں ترکہ میں ایڈجسٹمنٹ کا درست شرعی طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی ساس کا اپنی بیٹی کو اس شرط پر گھر یا اس  کی قیمت ہدیہ کرنا کہ "یہ جو ہدیہ/ہبہ میں تمہیں دے رہی ہوں، اسے میرے ترکہ/میراث میں سے اپنے حصے میں ایڈجسٹ کروا لینا"، یہ خرید و فروخت کے معنی میں ہے ، لہذا:

1۔والدہ کا  اپنی زندگی میں بیٹی کو  گھر دے کر اس گھر کی قیمت اس کے ترکہ کے حصہ سے منہا کرنے کی شرط لگا سکتی ہے۔

2۔آپ کی ساس آپ کی اہلیہ کو  اس شرط کے ساتھ   کہ "اپنے وراثتی حصہ میں یہ قیمت منہا کروا لینا"دے  دے تو آپ کی اہلیہ گھر یا رقم کی مالک شمار ہو گی۔

3۔اہلیہ کی والدہ کے انتقال کے بعد والدہ کی طرف سے مذکورہ شرط کے ساتھ دیے ہوئے گھر کی قیمت اہلیہ کے حصے سے منہا کرنا ضروری ہو گا۔

4، 5، 6، 7۔ اگر والدہ اپنی بیٹی کو مذکورہ شرط کے ساتھ گھر یا اس کی قیمت دے دیتی ہے، توجس وقت وہ گھر آپ کی اہلیہ کو دیا جارہا ہے ، وہی قیمت  والدہ کے انتقال کے بعد آپ کی اہلیہ کے حصے سے منہا کی جائے گی، خواہ اسی  گھر قیمت بڑھ جائےیا آپ کی اہلیہ اسے بیچ کر کوئی دوسرا گھر خرید لے، یا کاروبار یا دیگر ضروریات میں خرچ کر دے۔

8۔آپ کی ساس چوں کہ اپنے مال کی مالک ہیںِ اور مالک کو اپنے مال میں ہر قسم کے جائز تصرف کااختیار ہو تا ہے، اس لیے اس قسم کی شرط یا ایڈجسٹمنٹ کے لیے بقیہ ورثاء کی رضامندی ضروری نہیں، اور نہ ہی کسی وارث کو بعد میں اعتراض کا حق حاصل ہو گا۔

9۔اگر آپ کی اہلیہ والدہ کی زندگی میں مذکورہ شرط کے ساتھ ہدیہ قبول کر لیتی ہے تو  والدہ کے انتقال کے بعد اس پر اپنے حصہ میں سے اس گھر کی قیمت منہا کروانا ضروری ہوگا، بصورتِ دیگر اگر وہ اپنے وراثتی حصہ میں والدہ کی زندگی میں مذکورہ شرط کے ساتھ لیے ہوئے گھر کی قیمت منہا نہیں کروائیں گی، تو دوسرے ورثاء کو حق غصب کرنے والی شمار ہوں گی۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال - رحمه الله - (فإن وقع عن مال بمال بإقرار اعتبر بيعا)؛ لأن معنى البيع ‌قد ‌وجد فيه، وهو مبادلة المال بالمال عن تراض فتجري فيه أحكام البيوع، وهذا؛ لأن الأصل في الصلح أن يحمل على أشبه العقود له فتجري عليه أحكامه".

(كتاب الصلح، ج:5، ص:31، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی  میں ہے:

"قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ. قلت: وحكى القولين في جامع الفصولين فقال: قيل جاز وبه أفتى بعضهم وقيل لا اهـ."

(کتاب الوصیایا،6/655،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801102020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں