بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا اور ورثاء کے لیے وصیت کرنے کاحکم


سوال

والد صاحب کا انتقال ہوا ہے ،میراث  میں ایک مکان ہے،ورثاء  میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ، والدہ اور والد کے والدین پہلے انتقال کر گئے ہیں۔

مکان کے والد صاحب نے زندگی میں چار حصے کیے تھے، تین حصے تین بیٹوں کو دے دیے، تھے اور ایک حصہ اپنے لیے چھوٹے بیٹے کے  حصے کے ساتھ رکھا تھا ،اور ساتھ میں چھوٹے بیٹے سے یہ بھی کہا تھا کہ میرا حصہ میرے مرنے کے بعد میرے بیٹیوں کو دینا ہے۔

اب جب والد صاحب کا انتقال ہوا تو چھوٹا بیٹا اپنا حصہ بیچنے کے ساتھ بہنوں کا حصہ بھی بیچ رہا ہے ، اور بہنوں کو حصہ  نہیں دے رہا ہے کہ تمہیں والد صاحب سے ان کی زندگی میں مانگنا چاہیے۔

کیا چھوٹے بھائی کا یہ کہنا صحیح ہے ؟ کیا بہنوں کا حصہ  نہیں بنتا ؟ اگر بنتا ہے تو کتنا حصہ بنے گا ؟

وضاحت:والد صاحب نے جوحصہ اپنے اور بیٹے کے درمیان مشترک طور پر رکھا تھا،اس میں ایک کمرہ والد صاحب نے اپنے لیے متعین کیا تھا، اور اس کے بارے میں کہا تھا کہ یہ مرنے کے بعد میری بیٹیوں کو دے دینا،اور  اسی حصے میں ایک کمرہ اور کچن وغیرہ بیٹے کو دیا تھا،والد صاحب نے تینوں  بیٹوں کو حصہ دیتے ہوئے باقاعدہ کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا، کہ اس کے بعد میراث میں تمہارا کوئی حصہ نہ ہوگا،بلکہ یہ کہا تھا کہ میرے پاس جو ہے،میں نے تم لوگوں میں بانٹ دیا ہے۔

جواب

1.  صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتا سائلہ کے والد نے مکان کے چار حصے کرکے تین  حصے تین بیٹوں میں تقسیم کر کے دیئے تھے،اور ان کو اس پر قبضہ بھی دے دیا تھا تو مذکورہ تینوں بیٹے اپنے اپنے حصے کے مالک ہوں گے،تاہم والد صاحب کو چاہیے تھا کہ مکان میں   اپنی تمام اولاد کو برابر حصہ  تقسیم کرکے دیتے ،نیز مکان کا مذکورہ حصہ جس کے بارے میں والد صاحب نے یہ کہا تھا کہ مرنے کے بعد  میری بیٹیوں کو دیا جائے شرعا قابل عمل نہیں،اس لیے کہ یہ ورثاء(بیٹیوں ) کے لیے وصیت ہے،اور ورثاء کے لیے وصیت کرنا شرعا معتبر نہیں؛ البتہ اگر تمام ورثاء بالغ ہیں اور سب رضامندی سے والد صاحب کی وصیت پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو اس پر عمل کرنا درست ہے، اور اگر ورثاء والد کی وصیت پر عمل کرنے پر راضی نہیں  تو اس حصے میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے تناسب سے شریک ہوں گے،البتہ سائلہ کے بھائیوں کو  چاہیے کہ   تقسیم ہونے کے بعد اپنی خوشی سے تمام بھائی اپنے اپنے حصوں سے اپنی بہنوں کے حق میں دستبردار ہوجائیں، اور بہنوں کو چاہیے کہ وہ اپنے والد سے اتنا حصہ ملنے پر راضی ہوجائیں ،تاکہ والد صاحب کی غیر منصفانہ تقسیم کا کچھ مداوا ہوجائے،اور وہ آخرت کی پکڑ سے بچ جائیں،نیز مذکورہ بھائی  کا اپنی بہنوں سے  یہ کہنا کہ آپ کو اپنا حصہ والد   صاحب سے زندگی میں وصول کرنا چاہیےتھا،اور صرف ساتھ رہنے کی وجہ سے  مذکورہ بھائی  کا اس حصے کو  ذاتی ملکیت سمجھتے ہوئے  اپنے حصے کے ساتھ والد کا حصہ بیچنا شرعا جائز نہیں ،اس لیے کہ وہ  حصہ جو والد نے اپنے لیے رکھا تھا وہ  والد صاحب کا ترکہ ہونے کی وجہ سے تمام  شرعی ورثاء کے درمیان مشترک ہے،لہذا مذکورہ بھائی کو دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر  فروخت کرنا ناجائز ہے،ایسا کرنے پر  وہ سخت گناہ گار ہوگا،اور قیامت میں سخت پکڑ کا باعث ہوگا۔

2.سائلہ کے والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو10 حصوں میں تقسیم کرکے دو دو حصے ہر بیٹے کو،اور ایک ایک حصہ مرحوم کی ہر بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:والد مرحوم:10

بیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
2221111

یعنی فیصد کے اعتبار سے والد مرحوم کے ہر بیٹے کو 20 فیصد،اور ہر بیٹی کو 10 فیصد ملے گا۔

صحیح مسلم میں ہے:

" عن ‌سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: « من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين »."

(كتاب البيوع، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها،ج:5،ص:57، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)

ترجمہ:" حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک بالشت برابر زمین ظلم سے لے لے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو سات زمینوں کا طوق پہنا دے گا"۔

مشکاۃ المصابیح:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم."

(باب العطایا، ج:1، ص:261، ط: قدیمی)

ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

(مظاہر حق،ج:3،ص:193 باب العطایا، ط: دارالاشاعت)

فتاوی عالم گیری میں ہے:

"ولو ‌وهب ‌رجل ‌شيئا ‌لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره."

(كتاب الهبة، ج:4، ص:391، ط:رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."

(کتاب الھبة،ج:5،ص:690،ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة)لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر"

(کتاب الوصایا، ج: 6، ص: 656، ط: سعید)

فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

"قال (ولا تجوز لوارثه) لقوله عليه الصلاة والسلام «إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث» ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه.

(کتاب الوصایا، ج:10، ص:423، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100401

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں