
ہماری شادی کو تقریبا 42 سال ہوچکے ہیں ،میں اور میری بیوی دونوں حیات ہیں ،البتہ میں شدید بیمار ہوں ،ہم دونوں نے ایک مکان خریدا تھا جس میں تقریبا آدھی رقم میری بیوی نے دی تھی ،اب میں یہ پورا مکان اور اس میں موجود سارا سامان اپنی اہلیہ کو گفٹ کرنا چاہتا ہوں ، تاکہ میرے فوت ہونے کے بعد اس کے پاس رہنے کے لیے گھر موجود ہو ،تو اس کا شرعی کیا طریقہ ہوگا ؟واضح رہے کہ میں خود بھی اس گھر میں رہتا ہوں ،ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔اور میرے والدین بھی فوت ہوچکے ہیں ۔
واضح رہے کہ کسی بھی چیز کو ہبہ (گفٹ) کرنے کے لیے ضروری ہے (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے) کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کررہا ہے) کے نام کرنے کے ساتھ اس کا مکمل قبضہ اور تصرف بھی دے دے، اور ہبہ کے وقت موہوبہ چیز سے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے، صرف نام کردینے سے شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل اپنا رہائشی گھر اپنی بیوی کوزندگی میں بطورِ ہدیہ (ہبہ) دینا چاہتا ہے،اور پورے گھر کا سامان سمیت اپنی بیوی کو مالک بنانا چاہتا ہے ،تو گھر کے مالک بنانے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سائل وہ مکان بیوی کو ہبہ کر کے اس کا مکمل قبضہ اور تصرف بھی اپنی بیوی کو دے دے ، اس طور پر کہ سائل نے اپنی ملکیت اور مالکانہ تصرف ختم کرکے مکان اس کے حوالے کردے ،کچھ دیر کے لیے گھر سے نکل کر وہ گھر بیوی کے حوالے کردیا جائے تو ہبہ مکمل ہوجائے گا اور مذکورہ مکان بیوی کی ملکیت شمار ہوگا، پھر بیوی کی اجازت سے اسی گھر میں رہے،البتہ اگر صرف کاغذات میں بیوی کے نام منتقل کیا اور شرعی قبضہ نہ دیا تو ہبہ مکمل نہیں ہوگا، اور مکان بدستور سائل ہی کی ملکیت شمار ہوگا۔اسی طرح سارا سامان بھی بیوی کو ہبہ کردیا جائے اور پھر اس کی اجازت سے استعمال کرسکتا ہے۔
اور گھر میں موجود سامان ہبہ کرنے کی صورت یہ بھی ممکن ہے کہ سائل اس گھر کا سارا سامان معمولی قیمت کے عوض بیوی کو فروخت کر دے اور پھر اس کی قیمت اس کو معاف کر دے تو اس صورت میں بھی بیوی اس گھر میں موجود سارے سامان کی مالک بن جائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے :
" (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".
(کتاب الھبة،ج:5،ص:690،ط: سعید)
وفیہ ایضا:
"وفي الجوهرة، وحيلة هبة المشغول أن يودع الشاغل أولا عند الموهوب له ثم يسلمه الدار مثلا فتصح لشغلها بمتاع في يده (في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم."
(کتاب الھبة،ج:5،ص:692،ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100182
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن