بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں والدہ کا صرف ایک بیٹے کو مال دینا


سوال

آپ حضرات سے اسلام کی روشنی میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر ماں کا پیسہ ہو،  اور ان کی عمر 90 سال ہو، صاحبِ فراش نہ ہو تو کیا وہ ایک بیٹے کو دے سکتی ہے، کل پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ؟

صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہےجو مفہوم مجھے سمجھ آیا،  کمی بیشی معاف  وہ یہ ہےکہ" سب کو برابر دے،  یا ایک سے بھی واپس لے لے" آپ اس پر غور فرمائیں،  اورحدیث کی روشنی میں  میرے راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ  والدین  اپنی  زندگی میں  اپنا مال  خوشی  و رضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں  تو کرسکتے ہیں اور زندگی میں  اولاد کے درمیان جو اموال  تقسیم کیے جائیں وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتے ہیں،  اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے،بلاوجہ کسی کو کم یا زیادہ دینا، یا کسی کو بالکل محروم کرنا جائز نہیں۔  رسول اللہ ﷺ  نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیاہے،  جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی  روایت میں ہے: کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟ انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ (مظاہر حق،  باب العطایاج:3، ص:193، ط: دارالاشاعت)

البتہ  کسی بیٹے یا  بیٹی کو  کسی معقول وجہ کی بنا پر یعنی کسی کی شرافت  ودین داری، یا غریب ہونے کی بنا پر  ، یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں   والدہ کا صرف ایک بیٹے  کو اپنا مال دینا اور باقی اولاد کو کچھ بھی نہ دینا شرعاً جائز نہیں ہے، اگر دینا ہے تو سب کو دیں ورنہ کسی کو بھی نہ دیں، نیز سب کو دیتے ہوئے اگر کسی ایک بیٹے کو اس کی فرماں برداری یا زیادہ خدمت گزاری یا ضرورت مندی کی وجہ سے دیگر اولاد کی بنسبت زیادہ دینا چاہیں تو اس کی گنجائش ہوگی، تاہم بالکل محروم رکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔

مسلم شریف میں ہے:

"عن النعمان بن بشير أنه قال: « إن أباه أتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكل ولدك نحلته مثل هذا؟ فقال: لا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فارجعه."

(‌‌كتاب الهبات، ‌‌باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة، ج: 5، ص: 65، رقم الحدیث: 1623، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)

فتای ہندیہ میں ہے:

"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان. وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية، كذا في خزانة المفتين.ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه، كذا في الخلاصة."

(كتاب الهبة، الباب السادس في الهبة للصغير، ج:4، ص:391، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101836

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں