بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں دو بیٹوں کو نصف جائیداد گفٹ کرکے بیٹیوں کو محروم کرنے کا حکم


سوال

میرے دو بیٹے اور تین بیٹیاں  ہیں،بڑابیٹا پندرہ سال سے میرے ساتھ کاروبار میں ہے،چھوٹا بیٹا گھر کے کام میں ہوتا ہے،تین بیٹیوں کی شادی ہوچکی ہے،میں  نے اپنی جائیدادکا آدھے کے قریب حصہ اپنے دوبیٹوں کو دو گواہوں کی موجودگی میں ہبہ کردیا ہے ،بڑے بیٹے کو زیادہ حصہ ،چھوٹے بیٹے کو اس سے کم حصہ ،باقی آدھے کے قریب جائیداد کے حصے میں میرے ان دو بیٹوں کے ساتھ تین بیٹیاں بھی شرعی اعتبار سے شریک ہوں گی۔

اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ بیٹوں کو ہبہ کرنے کے لیے شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟ ہبہ مکمل ہونے کے لیے صرف دو گواہ کافی ہیں؟

 

جواب

صورت مسئولہ میں سائل اپنی زندگی میں جائیداد میں سے کچھ حصہ اگر اپنے دونوں بیٹوں کو دینے کا ارادہ رکھتا ہو،تو اس کے لیے تمام اولاد میں برابری کرنا ضروری ہوگا،صرف بیٹوں کو دینے اور بیٹیوں کو نہ دینے کا اسے شرعاً گناہ ہوگا،لہذا بہتر یہی ہے کہ سائل اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم نہ کرے ،البتہ اگر کسی جبرواکراہ کے بغیرتقسیم کرنا چاہو،تو اس کا بہتر طریقہ  یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے لیے اپنی خواہش کے مطابق حصہ مختص کرلے،تاکہ بوقت ضرورت کسی کی محتاجی نہ ہو،پھر بیوی اگر حیات ہو تو اس کا حصہ مختص کرلے جو کل کے آٹھویں حصہ سے کم نہ ہو، اس کے بعد  جو بچے وہ برابری کی بنیاد پر پانچ حصوں میں تقسیم کرکے ایک ایک حصہ ہرایک بیٹا ،بیٹی کو دے دے ،ہاں اگر اولاد میں سے کوئی زیادہ خدمت گزار یا زیادہ محتاج ہو تو اسے دیگر کی بنسبت کچھ زیاد ہ بھی دینے کی اجازت ہوگی،نیز جس کے لیے جو حصہ مختص کرے،وہ اس کے سپرد بھی کردے،مشترکہ طورپر جائیداد اولاد کے  صرف نام کردینا انتقال ملکیت کے لیے کافی نہ ہوگا۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

''وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: أكل ولدك نحلت مثله؟قال: لا قال: فأرجعه. وفي رواية .... قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم.''

(باب العطایا، ج: 1،ص:261، ط: قدیمی) 

ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

(مظاہر حق،   باب العطایا، ج: 3، ص: 193،  ط: دارالاشاعت)

مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:

"وفي السراجية وينبغي أن يعدل بين أولاده في العطايا، والعدل عند أبي يوسف أن يعطيهم على السواء هو المختار كما في الخلاصة.

وعند محمد يعطيهم على سبيل المواريث، وإن كان بعض أولاده مشتغلا بالعلم دون الكسب لا بأس بأن يفضله على غيره، وعلى جواب المتأخرين لا بأس بأن يعطي من أولاده من كان عالما متأدبا ولا يعطي منهم من كان فاسقا فاجرا."

(کتاب الھبة،ارکان الھبة،ج: 2، ص: 358، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل."

(كتاب الوقف، فصل إجارة الواقف، ج:4، ص:444، ط:سعيد) 

وفیہ ایضاً:

"وفي الخانیة: لا بأس بتفضیل بعض الأولاد في المحبة، لأنھا عمل القلب، وکذا فی العطایا إن لم یقصد به الإضرار، وإن قصد فسوی بینھم یعطي الإبن کالبنت عند الثانی وعلیه الفتویٰ." 

(کتاب الھبة، ج:5، ص:696، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے :

"(قوله فروع) ‌يكره ‌تفضيل ‌بعض ‌الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين."

(کتاب الهبة، هبة الأب لطفله، ج:7، ص:288، ط: دارالکتاب الإسلامی)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط."

(کتاب الھبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4، ص:377، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100972

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں