
ایک شخص نے اپنے ایک بیٹے کو جائیداد میں وافر حصہ دیا اور کہا کہ اب جائیداد میں تمھارا کوئی حصہ نہیں اور وہ اس پر راضی ہوگیا اور جائیداد لے لی۔ اب والد کے انتقال کے بعد وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے جائیداد میں اسی طرح حصہ دو جیسے دیگر ورثا کو دے رہے ہو۔ دیگر ورثا اول تو اسے منع کررہے ہیں لیکن اصرار پر کہتے ہیں کہ اگر تمھیں وراثت میں حصہ چاہیے تو جو تم نے زندگی میں لیا تھا وہ پہلے واپس کرو، تو وہ ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ تو زندگی میں دیا گیا، اس کی حیثیت تحفے کی تھی، مجھے اس کا مالک بنادیا گیا تھا ، کوئی عاریت یا امانت کی نہیں تھی، وراثت تو مرنے کے بعد ہوتی ہے۔ وہ تو میرا ہی ہے اور وراثت میں بھی مجھے پورا حصہ ملے گا۔ تو جب اس سے کہا جاتا ہے کہ تم نے اس پر صلح کرلی تھی، تم نے وعدہ کرلیا تھا، یہ تو وعدہ خلافی ہے ، تو اس پر وہ کہتا ہے کہ یہ کوئی مصالحت نہیں ہوتی، وعدہ کیا تھا لیکن وعدہ پورا کرنا مستحب ہے، فرض نہیں اور اب میں اسے پورا نہیں کرسکتا۔ شرعاً میں اس جائیداد کے علاوہ وراثت میں پورے حصے کا حق دار ہوں اور اسے کسی صورت چھوڑنے پر راضی نہیں۔ اور اگر مجھے میرا حصہ نہ دیا جائے تو سب ورثا گناہ گار ہوں گے۔
اب یہ بتائیں کہ مرحوم کے اس بیٹے کی بات کس حد تک درست ہے، اور کیا اسے جائیداد میں حصہ دینا قضاء یا دیانۃ دینا ضروری ہے، جب کہ وہ اپنے سابقہ عہد سے مکر رہا ہے اور کسی صورت ماننے کو تیار نہیں۔ اگر دیگر ورثا اسے کچھ نہ دیں تو کیا وہ گناہ گار ہوں گے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً مذکورہ شخص نے اپنی وفات سے پہلے اپنے بیٹے کو اس معاہدہ کے تحت اپنی جائیداد کا ایک وافر حصہ دیا تھا کہ میرے انتقال کے بعد میری دیگر جائیداد میں تمہارا کوئی حق وحصہ نہیں ہے اور یہ بیٹا اس پر راضی ہو گیا ، اور والد کی شرط کو تسلیم کر کے اس میں سے حصہ لے لیا، تو اب مذکورہ شخص کے ترکے میں اس بیٹے کا کوئی حق باقی نہیں رہتا،لہٰذا اب اس کے لیے ترکے میں اپنے حصے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ مذکورہ بیٹے کا ترکے میں شرعاً کوئی حق نہیں بنتا۔ البتہ اگر دیگر ورثاء باہمی رضامندی سے بطورِ مصالحت یا حسنِ سلوک اسے ترکے میں سے کچھ دے دیں تو یہ بہتر ہے، لیکن اگر دیگر ورثاء اسے کچھ نہ دیں تو وہ گناہ گار نہیں ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ."
(كتاب الوصايا، ج:6، ص:655، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144802100682
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن