بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں اور وفات کے بعد میراث کی تقسیم کا طریقہ کار / وارث کا اپنے شرعی حصے سے زیادہ مطالبہ کرنے کا حکم


سوال

 میں، میری اہلیہ، میرے دو بیٹے اور ان کی فیملیاں ایک ہی مکان میں رہتے ہیں،یہ مکان میری ملکیت ہے،میرے ورثاء میں میری بیوی، دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ میرے والدین کا انتقال ہوچکا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ  اس کو  باقی ورثاء کی نسبت زیادہ حصہ ملنا چاہیے، حالانکہ اس نے گزشتہ آٹھ سال سے میرا  کوئی مالی تعاون نہیں کیا،وہ اپنے مؤقف پر اصرار کر رہا ہے،میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی ہی میں اس مکان کو اپنی اولاد میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردوں، مگر میرا بڑا بیٹا اس بات کو نہیں مانتا۔

اب دریافت طلب امور یہ ہیں:

(1)اگر میں اپنی زندگی میں یہ مکان تقسیم کردوں تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟اوراس کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟

(2)کیا بڑے بیٹے کا زیادہ حصہ طلب کرنا شرعاً درست ہے؟

(3)اگر میری وفات کے بعد یہ مکان تقسیم ہو، تو وراثت کی شرعی تقسیم کس ترتیب سے ہوگی؟

جواب

وا ضح رہے کہ ہر انسان اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا  خود مالک ہوتا ہے اور  اپنی  زندگی میں اپنی جائیداد میں جس  طرح کا  جائز تصرف کرنا چاہے کرسکتا ہے، اور زندگی میں اگر والدین اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کریں تو یہ میراث یا وراثت نہیں کہلاتی، بلکہ اس کی حیثیت ہدیہ (گفٹ) ہوتی ہے۔

(1)صورتِ مسئولہ میں اگر سائل  اپنی جائیداد   اپنی  زندگی میں تقسیم کرنا چاہتاہے  تو  اس کا طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی  جائیداد   میں سے اپنے  لیےاوّلا ًجس قدر چاہے رکھ لےتاکہ  کل کو احتیاج نہ ہو ، پھر آٹھو یں حصہ کے بقدر اپنی اہلیہ کو دیدے اور بقیہ جائیداد اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹوں کو  دے  اتنا ہی بیٹیوں کو دے، نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلا وجہ کمی بیشی کرے۔ البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول وجہ کی بنیاد پر دوسروں  کی بنسبت زیادہ دینا چاہے تو ایسا بھی کرسکتاہے،  یعنی کسی کو  زیادہ شرافت و  دین داری یا غریب ہونے کی بنا پر یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا  پر اوروں کی بنسبت زیادہ دے سکتاہے۔نیز اولاد میں سے  جس کو جو حصہ دے  وہ الگ اور ممتاز کر کے اس پر قبضہ  بھی دیدے،ورنہ  شرعاہبہ درست نہیں ہو گا۔

(2)  بڑے بیٹے کا والد کی زندگی میں اس مکان میں کوئی حصہ نہیں ہے،بڑے بیٹے کاوالد کی زندگی میں  کسی قسم کے زیادہ حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً ناجائز ہے، البتہ والد کی وفات کے بعد وہ اپنے شرعی حصے کا حق دار ہوگا۔

(3)سائل کی  وفات کے بعد مذکورہ وارثین کی صورت میں  سائل کی میراث   کی تقسیم کا طریقہ کاریہ ہو گا کہ ، سب سے پہلے سائل کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی : تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے ؛ اور اگر سائل کے ذمہ کوئی قرض ہو  تو اس کی ادائیگی کے بعد ؛ اور اگر سائل نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی  مال میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد،سائل کی تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو   64  حصوں میں تقسیم کر کے،  بیوہ   کو 8  حصے ، ہر بیٹے کو  14،14 حصے اورہر بیٹی کو7،7 حصے  دیئے جا ئیں گے۔

میت (والد)64/8

بیوہبیٹا بیٹا بیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
814147777

فیصد کے حساب سے بیوہ    کو12.50فیصد ، ہر بیٹے کو21.875 فیصد اورہر بیٹی کو10.9375 فیصد   دیئے جا ئیں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و في الخانیة: لا بأس بتفضیل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب وکذا في العطایا إن لم یقصد به الإضرار، و إن قصده فسوی بینهم یعطی البنت کالابن عند الثاني، و علیه الفتوی."

(‌‌كتاب الهبة،ج:5، ص:696 ،ط: سعید)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال."

(ج:2،ص: 201،المادة:1192،ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں