بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں اولاد کے درمیان اپنی ملکیت کی تقسیم کا طریقہ/ بیوہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

درج ذیل سوالات کے بارے میں رہنمائی درکار ہے:

1۔ ایک خاتون ہے، جو اپنی زندگی میں ہی اپنے بچوں (ایک بیٹا اور ایک بیٹی) کے درمیان 50 تولہ سونا تقسیم کرنا چاہتی ہے، جبکہ شوہر اور والدین کا انتقال ہوچکا ہے۔ تو اس کے تقسیم کی صورت کیا ہوگی؟ اور ہر ایک کو کتنا حصّہ ملے گا؟

2۔ ایک بیوہ خاتون ہے، جس کے مرحوم شوہر کے کسی پر 25 لاکھ روپے قرض ہیں، اور مرحوم کے ورثاء میں بیوہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں، جبکہ مرحوم کے والدین کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ تو یہ رقم ان ورثاء کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟ اور ہر ایک کے حصّے میں کتنی کتنی رقم آئے گی؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون اپنی زندگی میں اپنی تمام ملکیت کی مکمل مالک ہیں۔ ان کی زندگی میں اولاد میں سے کسی کا شرعًا اس میں کوئی حق یا حصّہ نہیں۔ لہٰذا وہ اپنی ملکیت میں جس طرح چاہیں تصرف کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

البتہ اگر وہ خاتون اپنی زندگی میں ہی اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنا سونا اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتی ہیں، تو شریعت مطہرہ انہیں اس کی اجازت دیتی ہے۔

چنانچہ اس کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے وہ اس سونے میں سے اپنے لیے  جتنا چاہیں رکھ لیں، تاکہ بوقتِ ضرورت کام آسکے۔ پورا سونا اولاد کے درمیان تقسیم کرنا ضروری نہیں۔اس کے بعد باقی سونا اپنے دونوں بچوں (بیٹا اور بیٹی) کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کر دیں، یعنی جتنا سونا بیٹے کو دیں اتنا ہی بیٹی کو بھی دیں،نہ کسی کو محروم کریں، اور نہ ہی بلا وجہ کمی بیشی کریں، ورنہ گناہ ہوگی اور ایسی تقسیم شرعًا غیر منصفانہ قرار پائے گی۔

البتہ اگر ان میں سے کسی ایک کو کسی معقول وجہ (مثلاً: شرافت، دینداری، خدمت گزاری، یا مالی تنگی) کی بنیاد پر دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہیں، تو شرعًا اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد دوسری اولاد کو نقصان پہنچانا یا محروم کرنا نہ ہو۔

2۔ صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ ان کے مذکورہ ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 24 حصّوں میں تقسیم کرکے 3 حصّے مرحوم کی بیوہ کو، 14 حصّے بیٹے کو، اور 7 حصّے بیٹی کو ملیں گے۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:24/8

بیوہبیٹابیٹی
17
3147

یعنی مرحوم کے کسی اور کے ذمّے لازم 25 لاکھ روپے میں سے 312,500 (تین لاکھ، بارہ ہزار، پانچ سو) روپے مرحوم کی بیوہ کو، 1,458,333.33 (چودہ لاکھ، اٹھاون ہزار، تین سو، تینتیس روپے، تینتیس پیسے) بیٹے کو، اور 729,166.66(سات لاکھ، انتیس ہزار، ایک سو، چھیاسٹھ روپے، چھیاسٹھ پیسے) بیٹی کو ملیں گے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى."

(كتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج:4، ص:444، ط:ايج ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100532

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں