بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں تقسیمِ جائیداد کا حکم


سوال

میں اپنی حیات میں اپنی اولاد کے درمیان برابر جائیداد تقسیم کرنا چاہتی ہوں۔ میرے شوہر کا تقریباً  پچاس سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ انہوں نے ایک جگہ میرے نام کردی تھی، اس وقت اس پر کوئی تعمیر نہیں تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد میں نے اس جگہ پر تعمیر کروائی۔

میرا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔

سوال یہ ہے:کیا میں اپنی زندگی میں اپنے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان جائیداد برابر تقسیم کرسکتی ہوں؟

ایک اضافی سوال: اگر کوئی اپنے حق کے لیے نہ لڑے تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟

جواب

1-صورت مسئولہ میں  اگر مرحوم شوہر نے یہ پلاٹ صرف آپ کے نام کیا تھا اور ان کی زندگی میں مالکانہ تصرف انہی کا تھا تو   تو یہ   جگہ آپ کی ملکیت نہیں ہے، بلکہ شوہر کی جائیداد شمار ہوگی، اور ان کی وفات کے بعد شرعی قواعد کے مطابق ورثاء میں مقررہ حصوں کے تحت تقسیم ہوگی۔ 

اور اگر مرحوم نے یہ پلاٹ آپ کے نام کرنے کے ساتھ مالکانہ حقوق  بھی دیے تھے  کہ آپ شوہر کی زندگی میں جو چاہے تصرف کرسکتی تھیں تو  یہ پلاٹ آپ کی ملکیت شمار ہوگا اور آپ اگر زندگی میں اس پلاٹ کو اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں  تو کر سکتی ہیں،لیکن زندگی میں تقسیم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام اولاد کو برابری کی جائےاس لیے کہ زندگی میں جائیداد کی  تقسیم وراثت نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ)   ہے،اور ہبہ کے معاملے میں   رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ،یعنی جتنا ہر ایک بیٹے کو دے اتنا ہی ہر ایک بیٹی کو بھی دے ، جیساکہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی  روایت میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: أكل ولدك نحلت مثله؟ قال: لا قال: فأرجعه ، وفي رواية قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم."  

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الهبة، باب العطایا، ج:1، ص:261، ط:قدیمي کتب خانه)

ترجمہ:"حضرت نعمان ابن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"

ملحوظ رہے کہ شرعاً ''ہبہ'' مکمل ہونے کے لیےضروری ہے کہ جائیداد وغیرہ تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصے پر ایسا قبضہ دے دیا جائے کہ اس کو اس میں تصرف کرنے کا پورا اختیار ہو، ورنہ محض نام کردینے سے شرعاً ہبہ مکمل نہیں  ہوتا۔

 2- اس سوال کا اصولی جواب یہ ہے کہ  کہ  ضابطے کے تحت اپنا حق وصول کرنا  اور اس کا مطالبہ کرنا جائز ہے، اوراگر صاحب حق  معاف کرنا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے۔ لہذا اگر اپنے حق کے لیے نہ لڑے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔باقی آپ کسی خاص صورت کے بارے میں معلوم کرنا چاہتی ہیں تو مکمل وضاحت کے ساتھ سوال کرکے معلوم کرلیجیے ۔

البحر الرائق میں ہے :

"وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة"

(کتاب الہبۃ، ج: 7، ص: 288، دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی  میں ہے :

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه، و في صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله و اعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا و الوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى."

(کتاب الوقف ،مطلب في المصادفة علی النظر، ج:4، ص: 444، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لو وهب شئیاً لأولادہ فی الصحة، وأراد تفضیل البعض علی البعض ، عن أبی حنیفة رحمہ اللّٰہ تعالی: لابأس بہ اذا کان التفضیل لزیادة فضل فی الدین ، وان کانا سواء، یکرہ، وروی المعلی عن أبی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی أنہ لابأس نہ اذا لم یقصد بہ الاضرار ، وان قصد بہ الاضرار ، سوی بینہم وہو المختار  ولو کانا لولد مشتغلاً بالعلم لا بالکسب ، فلا بأس بأن یفضلہ علی غیرہ." 

(كتاب الهبة ، الباب السادس فى الهبة للصغير، ج:4، ص:391، ط: مكتبه رشيديه)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."

 (کتاب الهبة، ج:5، ص:690، ط:سعید)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."

(الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لایجوز، ج:4،ص:378،ط:مکتبة رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة."

( كتاب الهبة، ج:5، ص:689 ط: سعيد)

 فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100251

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں