بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ


سوال

میں آپ کو کینیڈا سے لکھ رہی ہوں،  میرے اور میرے شوہر کے پاس ایک مکان ، اور کاروباری دکان ہے۔ ہماری 3 بیٹیاں (اور کوئی بیٹا نہیں) ہیں۔ میرے شوہر نے پہلے ہی ایک اسلامی وصیت لکھ  دی ہے ، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ  کیا وہ اپنی ساری جائیداد اور اثاثہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو دے سکتا ہے یا صرف کچھ  فیصد وہ اپنی بیٹیوں اور بیوی کو دے سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو  ہم کاغذ پر اس تقسیم کو کس طرح سرکاری بنا سکتے ہیں؟  تمام بیٹیاں 18 سال سے اوپر کی ہیں ، اور ان میں سے دو غیر شادی شدہ ہیں!

جواب

ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک  ومختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں  ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے ، نیز والد ین کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں شرعی طور پر حصہ  نہیں  ہوتا،  اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل  ہوتاہے،  تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی  زندگی میں  اپنی جائیداد  خوشی  ورضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے  وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی  روایت میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»". (مشکاة المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط: قدیمی)

ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)

اور صاحبِِ جائیداد کی طرف سے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی  طریقہ یہ ہے کہ   اپنی جائیداد میں سے  اپنے  لیے   جتنا چاہے رکھ لے؛ تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بقیہ مال  میں سے بیوی کو  جتنا چاہے دے دے، بہتر ہے کہ آٹھواں حصہ دے دے، اور باقی اپنی  تمام  اولاد میں برابر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے،  نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا اور اس صورت میں ایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ کہلائے گی۔

البتہ  اولاد میں سے کسی ایک کو  کسی معقول وجہ کی بنا پر  دوسروں کی بہ نسبت   کچھ زیادہ  دینا چاہے تو دےسکتا ہے،  یعنی کسی کی شرافت  ودین داری یا غریب ہونے کی بنا پر  یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو  دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔

اگر صاحبِ جائیداد  اپنی  زندگی میں اپنی بعض  اولاد  کو کچھ دینا چاہے اور دوسرے   دل سے رضامند ہوں کہ ان کو دیا جانے والا حصہ اوروں کو دیا جائے اوران پر کسی قسم کا دباؤ وغیرہ نہ ہو اور صاحبِ جائیداد کا مقصد بھی ان اولاد کو محروم کرنا یا نقصان پہنچانا نہ ہو ، بلکہ کسی بنا پر وہ اپنے بعض بچوں کو کچھ دے رہا ہے تو  یہ جائز ہے۔

لہذا  آپ کے شوہر  اگر زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ اپنی ضرورت کے بقدر اپنے پاس رکھیں اور اس کے علاوہ جو ہو وہ مذکورہ اصول سے بچیوں اور بیوی میں تقسیم کردیں۔

اور اگر سوال میں ذکر کردہ وصیت سے مراد مرنے کے بعد اولاد کے درمیان جائیداد کی تقسیم سے متعلق تحریر ہے، تو واضح رہے کہ بعد از وفات چوں کہ بیوہ اور بیٹیاں شرعی طور پر وارث بنتے ہیں، اور ان کے حصے شرعاً متعین ہیں، اس صورت میں وصیت کے اندر اپنی مرضی کی تقسیم کی وصیت کے بجائے یوں وصیت کی جائے کہ میری موت کے بعد میری جائیداد ورثہ میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جائے، اور فی الوقت ورثہ اور ان کے حصوں کی تعیین مشکل ہے، موت کے وقت جو ورثہ حیات ہوں، اس کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔

واضح رہے کہ یہ جواب اس بات پر مبنی ہے کہ مذکورہ جائیداد سائلہ کے شوہر کی ہے، اگر سائلہ اس جائیداد میں شرعی طور پر حصہ دار ہے، یعنی اس کا قبضہ اور ملکیت اس میں ہے تو جتنے حصے کی سائلہ مالک ہے، اس میں تصرف کرنے میں وہ خود مختار ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200321

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں