بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا


سوال

ایک شخص حیات ہے،  اس کی ایک زوجہ، پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، اور ان پانچ بیٹوں میں سے ایک بیٹا فوت ہوچکا ہے، اب جو بیٹا فوت ہوچکا ہے، اس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔

مذکورہ شخص کےمملوکہ مال کی کل مالیت تقریبا ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ہے، تو اب یہ مال اگر وہ اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہے، تو وہ مذکورہ ورثاء  کے درمیان زندگی میں کس حساب سے تقسیم کرے گا اور اس کے انتقال کے بعد ورثاء میں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے مملوکہ مال میں کلی اختیار رکھتا ہے،  وہ اگر کسی کو اپنے مال میں سے کچھ دینا چاہے تو اس کو اختیار ہوتا ہے،تاہم  زندگی  میں  اپنی ساری جائیداد  اولاد میں تقسیم  کرنا اس پر واجب نہیں ہوتا، اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو تقسیم کے مطالبہ کا حق ہوتا ہے، البتہ اگر کوئی شخص برضا و خوشی اپنی زندگی میں اولاد کو کچھ دینا چاہے تو اس سلسلے میں شریعت کی تعلیمات یہ ہیں کہ تمام اولاد میں برابری کی جائے، بغیر کسی معقول وجہ کے بعض کو بعض پر فوقیت ہرگز نہ دی جائے،  بصورت دیگر نا انصافی کرنے کی وجہ سے وہ گناہ گارہوگا، لہذا صورت مسئولہ میں بہتر یہی ہے کہ زندگی میں جائیداد  تقسیم نہ کی جائے، اور صاحب جائیداد کی وفات کے بعد ضابطہ وراثت کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں تقسیم کر دی جائے، تاہم مذکورہ شخص اگر واقعۃ  اپنی جائیداد اپنی زندگی میں کسی جبر و اکراہ کے بغیر تقسیم کرنا چاہتا  ہو، تو اس کو چاہییےکہ اپنے  مال میں سے اپنے لیے   جتنا چاہے، رکھ لے؛ تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بقیہ مال  میں سے بیوی کو حصہ دے، جو   کل املاک کے آٹھویں حصہ (%12.5) سے کم نہ ہو، اور اس کے بعد جو بچے وہ  اپنی  تمام  اولاد میں برابر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے،  نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا اورایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ کہلائے گی،جو بیٹا فوت ہو گیا ہے، اس کی اولاد کو بھی ایک حصہ کے برابر  رقم تقسیم کر کے دے دیں، تو بہتر ہے۔

نیز ہر ایک کا حصہ الگ کرکے مالکانہ تصرف کے اختیار کے ساتھ اس کے سپرد  بھی کردے، مشترکہ طور پر جائیداد  اولاد کے نام کرنا، یا ہر ایک کا حصہ متعین کر کے ان کے سپرد نہ کرنا انتقال ملکیت کے لیے شرعا ناکافی ہوگا۔

نیز انتقال کے بعد ترکہ کی تقسیم کا سوال قبل از وقت ہے، تاہم کسی کے ورثاء میں بیوہ  اور بیٹے بیٹیاں ہوں، تو بیوہ کا آٹھواں  حصہ جبکہ   بیٹیوں کو اکہرا اور بیٹوں کو دوہرا حصہ ملتا ہے، اور جس بیٹے کا والد کی زندگی میں انتقال ہوگیا ہو، تو اس کی اولاد اپنے داداکے ترکہ میں شرعا حق دار نہیں ہوتی، جبکہ دادا کے ورثاء  میں اس کے حقیقی بیٹے بھی ہوں۔

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلی اللہ علیه و سلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلاما فقال : « أكل ولدك نحلت مثله؟ » قال : لا قال : « فأرجعه » وفي رواية: أنه قال: «أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟» قال: بلى قال: «فلا إذاً» . وفي رواية : إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟» قال: لا قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم» . قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: «لا أشهد على جور."

(باب العطایا، ج: 1، ص: 297، ط: رحمانیة)

ترجمہ:"حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے کر آئے اور کہنے لگے میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بخشاہے توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو اسی بیٹے جیسا غلام دیا ہے؟انہوں نے کہا نہیں  تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا  کہ اس غلام کو واپس لے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم پسند کرتے ہو کہ تمہارے سب بیٹے  تمہارے ساتھ نیکی میں برابر ہوں(یعنی تیرے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے ہو ں اور تیری فرمانبرداری اور تعظیم کرنے والے ہوں) تو انہوں نے کہا جی ہاں :پس آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مناسب نہیں  کہ تم اپنے  اس اکیلے لڑکے کو غلام دو۔اورایک روایت میں ہے(کہ میرے والد)کہنے لگے کہ میں نے اس بیٹے کو جو عمرہ بن رواحہ سے ہے ایک چیز دی ہے تو عمرہ کہنے لگی کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کو گواہ بناؤں  ،تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا کیاتم نے اپنے تمام بیٹوں کو اس طرح چیز دی ہے ؟اس نے کہا نہیں تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو۔نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے والد واپس آئے اور دی ہوئی چیز واپس پھیرلی ، اور ایک  روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔"

رد المحتار  میں ہے :

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه، و في صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله و اعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا و الوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى."

(کتاب الوقف، مطلب في المصادفة علی النظر، ج: 4، ص: 444، ط: سعید)

و فیہ ایضا :

وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم."

(کتاب الھبة، ج: 5، ص: 696، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100247

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں