
ایک شخص کےسات بیٹے،پانچ بیٹیاں اور ایک بیوی ہے،بیٹوں میں تین بیٹوں کاانتقال ہوچکاہے،ان کی جائیدادمیں جوبیٹےحیات ہیں ،وہ اپنےوالدسےحصہ مانگ رہےہیں، کیاان کی زندگی میں ان کی جائیدادمیں کسی بھی اولادکاحصہ ہےیاحصےکامطالبہ کرسکتےہیں؟اور اگراپنی زندگی میں تقسیم کرناچاہےتوتقسیم کاشرعی کیاطریقہ ہے؟
واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک ومختار ہوتا ہے، اسی لیے والد ین کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں کوئی مالکانہ حق و حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی کو والدین سے تقسیم کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتاہے، تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد خوشی ورضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔
اور صاحبِ جائیداد کی طرف سے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لے؛ تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بیوی کو آٹھویں حصہ کے بقدر دیں ،اس کے بعد بقیہ مال اپنی تمام اولاد میں برابر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے، نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا اور اس صورت میں ایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ کہلائے گی۔البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول وجہ کی بنا پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دینا چاہے تو دےسکتا ہے، یعنی کسی کی شرافت ودین داری یا غریب ہونے کی بنا پر یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں والد کی زندگی میں ان کی جائیداد میں کسی بیٹے کا کوئی حق وحصہ نہیں ہے اور نہ ہی والد سے حصہ کامطالبہ کیا جاسکتا ہے ،البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق تقسیم کریں ۔
حدیث شریف میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم."
(مشکاۃ المصابیح، باب العطایا، ج:1، ص:261، قدیمی)
فتاوی شامی میں ہے :
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلا تنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لا يعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ".
(کتاب الوقف،ج:4،ص:444،سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101600
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن