
میری والدہ کا ایک گھر ہے، جس کی مالیت ایک کروڑ دس لاکھ روپے ہے، والدہ اپنی حیات میں مذکورہ گھر اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں، مذکورہ گھر کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟
وضاحت :والدہ کی اولاد میں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعی درست ہے کہ مذکورہ گھر والدہ کی ملکیت ہے، والد مرحوم کا ترکہ نہیں ہے، تو ایسی صورت میں مذکورہ گھر مکمل طور پر سائل کی والدہ کی ملکیت قرار پائے گا اور والدہ جب تک زندہ ہے، اپنی تمام جائیداد کی تنِ تنہا خود مالک ہے، اولاد وغیرہ کا شرعاً کوئی حق و حصہ نہیں اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہے، زندگی میں مذکورہ گھر فروخت کرکے اولاد میں تقسیم کرنا سائل کی والدہ پر شرعاً لازم نہیں، البتہ اگر سائل کی والدہ اپنی خوشی سے زندگی میں گھرتقسیم کرنا چاہتی ہوں، تو اس کی شرعاً اجازت ہوگی، اور زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ گھر کی فروختگی کے بعد جو رقم حاصل ہو، تو سائل کی والدہ اس میں سب سے پہلے اپنے لئے جتنی رقم چاہیں، حصہ مختص کرلیں، تاکہ بوقتِ ضرورت کسی کی محتاجی نہ ہو، اس کے بعد جو کچھ بچے، اسے تین برابر حصوں میں تقسیم کرکے ایک ایک حصہ اپنی اولاد میں سے ہر ایک کو دے دے، نہ بلا وجہ کمی بیشی کرے اور نہ ہی کسی کو محروم کرے، ورنہ گناہ ہوگا، اور ایسی تقسیم غیر منصفانہ قرار پائے گی، البتہ اولاد میں سے کسی کو کسی معقول وجہ کی بناء پر بنسبت اوروں کے کچھ زیادہ دے سکتی ہے، مثلاً :کسی کی کثرتِ شرافت و دینداری کے یا غریب ہونے کی بناء پر یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بناء پر بنسبت اوروں کے کچھ زیادہ دے سکتی ہے، اور جس کو جو دے، اس پر اسے قبضہ و تصرف بھی دے دے، صرف نام کردینا کافی نہیں ہوگا۔
صحیح بخاری میں ہے :
"حدثنا حامد بن عمر، حدثنا أبو عوانة، عن حصين، عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما، وهو على المنبر يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»، قال: فرجع فرد عطيته."
ترجمہ :”حضرت عامر ؒ سے روایت ہے کہ میں نے (حضرت )نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر کہتے ہوئے سنا :میرے والد نے مجھےہدیہ دیا، تو( میری والدہ حضرت)عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں اس وقت تک اس ہدیہ پر خوش نہیں ہوں گی، جب تک آپ رسول اللہﷺ کو اس پر گواہ نہ بنا لیں، چنانچہ (میرے والد) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیاکہ :یا رسول اللہ(ﷺ)، میں نے عمرہ بنت رواحہ (کے بطن سے پیدا)میرے بیٹے کو ہدیہ دیا ہے، تو انہوں نے مجھ سے آپ ﷺ کو اس پر گواہ بنانے کی فرمائش کی، تو (آپ ﷺ) نے فرمایا :کیا ساری اولاد کو ان کے جیسا ہدیہ دیا ہے؟، (میرے والد) نے عرض کیا کہ نہیں، تو (آپﷺ) نے فرمایا :اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو، (حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا :چنانچہ(میرے والد) واپس لوٹے اور اپنا ہدیہ (مجھ سے) واپس لے لیا۔“
(كتاب الهبة، ج:3، ص:157، ط:دار طوق النجاة)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے :
"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم."
(کتاب الھبة، ج :5، ص :696، ط :سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره."
(كتاب الهبة، الباب السادس فی الھبۃ للصغیر، ج:4، ص:437، ط :قدیمی)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801102137
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن