بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد کی تقسیم


سوال

میں اپنی جائیداد زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہوں،جائیداد 58کروڑ کی ہےمیرا ایک بیٹا  اور چار بیٹیاں ہیں ان کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

میری بیوی کا بھی اس میں حصہ ہے؟اور کتنا ہے؟

میرے والدین حیات ہیں،کیا اس میں ان کو بھی حصہ دینا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر سائل اپنی ذاتی مملوکہ جائیدادتقسیم کرنا چاہتاہےتو سب سے پہلے اپنے لیے جس قدر مال رکھنا چاہے رکھ لیں؛ تاکہ بوقت ضرورت کام آئے اور کسی کا محتاج ہونا نہ پڑے ،اس کے بعدبیوی کو جتنا دینا چاہے دے دے، بہتر ہے کہ آٹھویں حصے کے بقدر بیوی کو دے دے،اس کے بعد والدین میں سے ہر ایک کوچھٹے حصے کے بقدر دےدے،اس کے بعد باقی مال اپنے تمام  بیٹیوں اور بیٹے کے درمیان برابری کی بنیادپر تقسیم کردیں ،یعنی جتنا بیٹے کو دیں  اتنا ہی بیٹیوں کو بھی دیں ،نہ کسی کو محروم  کریں اور نہ ہی بلا وجہ کمی بیشی کریں ،البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی شرعی وجہ  کی بنیاد پر بنسبت اوروں کے کچھ زیادہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ،  یعنی کسی کی شرافت ودینداری  یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بناء پر یا غریب یا معذور  ہونے کی بناء پر بنسبت اوروں کے کچھ زیادہ دینا چاہیں تو  دے سکتے ہیں ، نیز جسے جو حصہ دینا ہو وہ اس کے حوالے بھی کردیں، حوالے کیے بغیر صرف زبانی یا قانونی طور پرنام کرنا یا حصہ مقرر کرنا کافی نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم (قوله: وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد، رملي."

(کتاب الہبۃ،ج:5،ص:696،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100583

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں